16 دسمبر کا دن آتے ہی دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی عام تاریخ نہیں، یہ وہ دن ہے جو ہمیں ہر سال خاموشی سے رُلا دیتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں پڑھنے والے معصوم بچے اچانک ہم سے چھین لیے گئے۔ وہ بچے جو صبح اپنے بستے اٹھا کر، ماں باپ سے دعا لے کر اسکول گئے تھے، کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ شام تک وہ بستے، وہ کتابیں اور وہ خواب خون میں بھیگ جائیں گے۔
کلاس روم جہاں سبق پڑھایا جانا تھا، وہاں چیخیں سنائی دینے لگیں۔ وہ تختہ سیاہ جس پر حروف لکھے جاتے تھے، وہ خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ ننھے ننھے ہاتھ جو قلم پکڑنے کے عادی تھے، بے جان ہو گئے۔ وہ آنکھیں جو مستقبل کے خواب دیکھ رہی تھیں، بند ہو گئیں۔ یہ منظر صرف پشاور کا نہیں تھا، یہ پورے پاکستان کا دکھ بن گیا تھا۔
ماں باپ کے لیے یہ لمحہ ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ مائیں جنہوں نے صبح بچوں کے بال سنوارے تھے، شام کو انہی بچوں کی لاشوں سے لپٹ کر رو رہی تھیں۔ وہ باپ جو اپنے بچوں کو اچھا انسان بنتا دیکھنا چاہتے تھے، آج صبر کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ اس دن آنسو صرف آنکھوں سے نہیں بہے، دل بھی ٹوٹ گئے۔ پورا ملک جیسے ساکت ہو گیا تھا۔ ہر گھر میں خاموشی تھی، ہر دل میں ایک ہی سوال تھا کہ آخر ان بچوں کا کیا قصور تھا۔
یہ سانحہ ہمیں یہ بتا گیا کہ دہشت گردی صرف جان نہیں لیتی بلکہ سکون، اعتماد اور خوشیاں بھی چھین لیتی ہے۔ یہ صرف ایک اسکول پر حملہ نہیں تھا بلکہ انسانیت پر حملہ تھا۔ اس دن ہمیں اندازہ ہوا کہ نفرت کتنی اندھی ہو سکتی ہے اور ظلم کتنا بے رحم۔ جنازوں کی قطاریں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر جنازہ ہم سے کوئی سوال کر رہا ہو، کوئی جواب مانگ رہا ہو۔
مگر اسی اندھیرے میں ایک ہلکی سی روشنی بھی نظر آئی۔ وہ روشنی ماؤں کے صبر میں تھی۔ وہ روشنی ان باپوں کے حوصلے میں تھی جو دل ٹوٹنے کے باوجود کھڑے رہے۔ وہ روشنی اس بات میں تھی کہ پوری قوم ایک دکھ میں اکٹھی ہو گئی۔ لوگوں نے محسوس کیا کہ یہ دکھ ہم سب کا ہے، یہ زخم ہم سب کے دلوں پر لگا ہے۔
وقت گزرتا گیا۔ دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدل گئے، مگر یہ دن آج بھی دل میں تازہ ہے۔ ہر سال 16 دسمبر ہمیں پھر سے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے کیا کھویا تھا۔ یہ دن ہمیں جھنجھوڑتا ہے، ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمیں اب کیا کرنا چاہیے۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں ہوتا۔ اصل مقابلہ سوچ بدلنے سے، تعلیم پھیلانے سے اور انصاف قائم کرنے سے ہوتا ہے۔
پشاور کے وہ معصوم بچے ہمیں ایک خاموش پیغام دے گئے۔ وہ یہ کہ علم کو دبایا نہیں جا سکتا۔ کتاب کو گولی سے ہرایا نہیں جا سکتا۔ جو قوم اپنے بچوں کو تعلیم دیتی ہے، اسے ہمیشہ کے لیے غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ انہی بچوں کی قربانی نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہمیں اپنے اسکول محفوظ بنانے ہیں، اپنے بچوں کے ذہنوں کو نفرت سے بچانا ہے۔
آج جب ہم ان شہید بچوں کو یاد کرتے ہیں تو صرف آنسو بہانا کافی نہیں۔ ہمیں دل سے یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو خوف نہیں دیں گے بلکہ حوصلہ دیں گے۔ ہم انہیں یہ سکھائیں گے کہ مشکلات کے باوجود جینا ہے، پڑھنا ہے اور بہتر انسان بننا ہے۔ ہم انہیں بتائیں گے کہ پاکستان صرف دکھوں کی کہانی نہیں بلکہ قربانیوں اور امیدوں کا وطن ہے۔
پشاور کے بچے ہمارے لیے سوال بھی ہیں اور جواب بھی۔ سوال یہ کہ ہم نے کب نفرت کو جگہ دی۔ جواب یہ کہ اگر ہم متحد رہیں، اگر ہم ایک دوسرے کو سمجھیں، اگر ہم تعلیم اور محبت کو اپنا راستہ بنائیں تو کوئی ہمیں کمزور نہیں کر سکتا۔ یہ بچے ہمیں یہ بھی سکھا گئے کہ امید کبھی ختم نہیں ہوتی۔ چاہے اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، روشنی کہیں نہ کہیں ضرور پیدا ہوتی ہے۔
16 دسمبر ہمیں رلاتا ہے، مگر یہ ہمیں جگاتا بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر شہید کا خون ہم پر ایک ذمہ داری چھوڑ جاتا ہے۔ ایک ذمہ داری کہ ہم اپنے معاشرے کو نفرت سے پاک کریں۔ شاید ہم ان ماؤں کے آنسو کبھی نہ پونچھ سکیں، شاید ہم ان باپوں کا دکھ کم نہ کر سکیں، مگر ہم یہ عہد ضرور کر سکتے ہیں کہ آئندہ کسی ماں کی گود اس طرح نہ اجڑے۔
یہی 16 دسمبر کا اصل پیغام ہے۔ دکھ سے بھرا ہوا مگر امید سے روشن۔ یہ دن ہمیں کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے۔ پشاور کے وہ بچے ہم سے جدا ہو گئے، مگر ان کی یاد ہمیں ایک بہتر مستقبل بنانے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اگر ہم نے سیکھ لیا، اگر ہم نے بدلنا قبول کر لیا، تو یہی ان کے لیے ہمارا سب سے بڑا خراج ہوگا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں