کرسمس اور پیغامِ انسانیت /علی عباس کاظمی

کرسمس ڈے محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ تاریخ، تعلیم، اخلاقیات اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک ایسا سنگم ہے جسے اگر تعلیمی اور تحقیقی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ دن انسانیت کے مشترکہ اقدار کو سمجھنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ کرسمس کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے جڑی ہے، جنہیں مسیحی عقیدے میں نجات دہندہ (Savior) مانا جاتا ہے، جبکہ اسلام میں وہ اللہ کے جلیل القدر نبی، روحُ اللہ اور کلمۃُ اللہ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ انجیلِ مقدس کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ایک غیر معمولی واقعہ تھی، جیسا کہ انجیلِ لوقا میں بیان ہوا ہے “آج داؤد کے شہر میں تمہارے لیے ایک نجات دہندہ پیدا ہوا ہے، جو مسیح خداوند ہے” (Luke 2:11)۔ یہ اعلان محض ایک مذہبی خوشخبری نہیں بلکہ امن، محبت اور انسانی وقار کی بحالی کا پیغام تھا۔ اسی تناظر میں قرآنِ پاک بھی حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کو ایک عظیم نشانی قرار دیتا ہے“اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو اور اس کی ماں کو ایک نشانی بنایا” (سورۃ المؤمنون: 50)۔ یہ قرآنی بیان اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام حضرت عیسیٰؑ کے مقام و مرتبے کو نہایت احترام اور تقدس کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو بین المذاہب مکالمے کے لیے ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تہوار کسی بھی معاشرے میں اجتماعی یادداشت (Collective Memory) کو زندہ رکھتے ہیں اور نئی نسل کو تاریخ، اقدار اور شناخت سے جوڑتے ہیں۔ کرسمس بھی اسی نوعیت کا تہوار ہے جو بچوں اور بڑوں کو قربانی، ایثار، عاجزی اور خدمتِ خلق جیسے اخلاقی اصولوں سے روشناس کراتا ہے۔ انجیل میں حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات کا مرکزی نکتہ محبت ہے، جیسا کہ انجیلِ متی میں آیا ہے “اپنے پڑوسی سے اپنے جیسا پیار کرو” (Matthew 22:39)۔ یہی اصول قرآنِ پاک میں بھی مختلف انداز سے ملتا ہے، جہاں انسانیت کے احترام اور بھلائی پر زور دیا گیا ہے“جس نے ایک انسان کو بچایا، اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا”(سورۃ المائدہ: 32)۔ اگر ان دونوں تعلیمات کو تعلیمی نصاب اور سماجی شعور کا حصہ بنایا جائے تو مذہبی اختلاف کے باوجود اخلاقی یکجہتی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
حضرت عیسیٰؑ کی شخصیت ایک “Moral Teacher” اور “Social Reformer” کے طور پر بھی نمایاں ہے۔ مغربی جامعات میں ہونے والی مذہبی و تاریخی تحقیقات اس بات پر متفق ہیں کہ یسوع مسیح کی تعلیمات نے مغربی اخلاقیات، قانون اور سماجی انصاف کے تصورات کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ اسی طرح اسلامی فکر میں حضرت عیسیٰؑ زہد، تقویٰ اور روحانیت کی علامت ہیں۔ قرآنِ پاک میں حضرت عیسیٰؑ کا قول نقل کیا گیا ہے“اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی ہے جب تک میں زندہ رہوں” (سورۃ مریم: 31)، جو اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ان کی تعلیمات محض روحانی نہیں بلکہ عملی اور سماجی ذمہ داریوں سے بھی جڑی ہوئی تھیں۔ یہ مشترکہ پہلو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مختلف مذاہب کی اصل روح انسان کو بہتر انسان بنانا ہے، نہ کہ نفرت یا تصادم کو جنم دینا۔
کرسمس کا تہوار جدید دنیا میں صرف چرچ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک عالمی ثقافتی مظہر بن چکا ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق ایسے تہوار “Soft Power of Values” کے طور پر کام کرتے ہیں، جو معاشروں میں برداشت، مکالمے اور رواداری کو فروغ دیتے ہیں۔ قرآنِ پاک بھی مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور مکالمے کی تعلیم دیتا ہے“اہلِ کتاب سے ایسے طریقے سے بات کرو جو سب سے بہتر ہو”(سورۃ العنکبوت: 46)۔ یہی اصول انجیل میں بھی جھلکتا ہے جہاں حضرت عیسیٰؑ دشمنوں سے محبت کی تعلیم دیتے ہیں (Matthew 5:44)۔ ان دونوں حوالہ جات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو کرسمس کا پیغام محض مسیحیوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک اخلاقی دعوت بن جاتا ہے۔
پاکستان جیسے کثیر المذاہب معاشرے میں کرسمس ڈے کو تعلیمی اور تحقیقی تناظر میں سمجھنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے تہواروں کا احترام آئینی، اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریمؑ کا احترام کیا ہے، یہاں تک کہ قرآن میں ایک مکمل سورت “مریم” کے نام سے موجود ہے، جو بین المذاہب احترام کی روشن مثال ہے۔ اسی لیے اگر کرسمس کو نفرت یا مخالفت کے بجائے علمی فہم، تاریخی شعور اور اخلاقی قدروں کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ دن معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط کر سکتا ہے۔کرسمس کے حوالے سے پائے جانے والے مغالطے صرف علمی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات معاشرتی تشدد، غلط نظریات اور عدم برداشت بھی ان کی وجہ بنتے ہیں۔ اگر ہم قرآن پاک اور انجیل مقدس کی روشنی میں دیکھیں تو دونوں کتابیں محبت، امن، راست روی اور انسانیت کی بھلائی کا پیغام دیتی ہیں۔
اگر کرسمس سے متعلق بات کو تحمل، دانائی اور خلوص نیت کے ساتھ پیش کیا جائے تو یہی گفتگو انسانوں کے درمیان محبت اور قربت کو فروغ دے سکتی ہے۔ جب ہم مفروضوں کے بجائے علم اور احترام کو بنیاد بناتے ہیں تو غلط فہمیاں خود ہی کم ہونے لگتی ہیں اور معاشرہ مذہبی و تاریخی حقائق کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھنے لگتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مختلف عقائد کے باوجود ہماری اصل قدریں ایک جیسی ہیں، یعنی محبت بانٹنا، امن قائم کرنا، انصاف کو فروغ دینا اور انسانیت کی خدمت کرنا۔ قرآن اور انجیل دونوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کی رحمت کی نشانی اور اعلیٰ اخلاق کی روشن مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اگر ہم کرسمس کو صرف رسم و رواج تک محدود رکھنے کے بجائے ایک سیکھنے اور سمجھنے کے موقع کے طور پر دیکھیں تو یہ دن نہ صرف مسیحی برادری کے لیے خوشی کا سبب بنے گا بلکہ پوری انسانیت کے درمیان برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کو مضبوط کرنے کا پیغام بھی دے گا، اور یہی اس تہوار کی اصل خوبصورتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply