پاکستانی معاشرے میں اقلیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ایک ایسا مسئلہ ہے جو سماجی روایات، سیاسی دعووں، تاریخی وعدوں اور عملی حقائق کے درمیان موجود تضاد کو عیاں کرتا ہے۔ قیام پاکستان کا بنیادی نظریہ مذہبی آزادی اور سماجی مساوات تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے گیارہ اگست کی تاریخی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ اس ملک میں ہر شہری مکمل مذہبی آزادی کا حق رکھے گا۔ مذہب کسی شہری کی شناخت، ریاستی برتاؤ یا قانونی مساوات میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ پاکستان میں کوئی زبردستی نہیں ہو گی، لوگ اپنے مندروں، گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہوں گے۔ یہ وہ نظریاتی بنیاد تھی جس پر پاکستان قائم ہوا۔ لیکن عملی طور پر آج تک یہ تصور محض کتابی عنوان اور بیانئے کی حد تک ہی زندہ ہے، معاشرتی رویوں میں اس کی روشنی بہت کم نظر آتی ہے۔
اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کئی سطحوں پر واضح دکھائی دیتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں تعصب، گھٹن، خوف اور غیر مساوی مواقع کا سامنا انہیں اکثر کرنا پڑتا ہے۔ چھوٹے شہروں اور دیہاتی علاقوں میں تو صورتحال اور بھی پیچیدہ ہو جاتی ہے جہاں مذہبی شناخت ہی سماجی قدروں، دوستیوں، ملازمتوں اور سکیورٹی کا معیار بن جاتی ہے۔ کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاشرہ ایک ایسے سانچے میں ڈھل چکا ہے جو اکثریت کی بنیاد پر لوگوں کو قابل قبول اور ناقابل قبول کے خانوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اگرچہ قانون کتابوں میں سب کے لیے برابر ہے لیکن عملی مثالیں بار بار یہ ثابت کرتی ہیں کہ اکثریتی ذہنیت انصاف کے ترازو کو مسلسل اپنی طرف جھکاتی ہے۔
اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے، جائیدادوں پر ناجائز قبضے، زبردستی مذہب کی تبدیلی کے واقعات، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد اور عدالتوں میں جھوٹے مقدمات جیسے مسائل محض خبری شہ سرخیاں نہیں بلکہ ایک مسلسل خوف کی فضا کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں انہیں اپنی زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ معاشرتی سطح پر اکثریتی رویہ کئی بار انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھنے پر اکساتا ہے۔ ایک عمومی مزاج ایسا بن چکا ہے جہاں مظلوم کو ہی اکثر مجرم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور شک کا فائدہ ہمیشہ طاقتور کو مل جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی نصاب میں رواداری، بھائی چارے اور مساوات کی تعلیم ضرور دی جاتی ہے لیکن معاشرتی رویے عملی طور پر اس کے بالکل برعکس چلتے نظر آتے ہیں۔ بچوں کو کلاس روم میں کچھ اور پڑھایا جاتا ہے جبکہ معاشرتی ماحول انہیں کچھ اور دکھاتا ہے۔ اس تضاد کا نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل بھی انہی رویوں کی وارث بنتی جا رہی ہے جو معاشرے میں پہلے سے موجود ہیں۔ محبت اور احترام کی جگہ نفرت اور شکوک و شبہات کی دیواریں کھڑی ہوتی جا رہی ہیں۔
اقلیتوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اپنا دکھ سنانے کے لیے مناسب پلیٹ فارم، موثر نمائندگی اور حقیقت پسندانہ تحفظ بہت کم ملتا ہے۔ پارلیمان میں ان کی نمائندگی مخصوص نشستوں کی صورت میں تو موجود ہے لیکن ان نشستوں پر اکثر وہ لوگ آئے بیٹھتے ہیں جنہیں اقلیت ہونے کا اصل احساس ہی نہیں ہوتا۔ یوں ان کی اصل آواز کہیں دب کر رہ جاتی ہے۔ کئی بار یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اقلیتوں کے مسائل پر بات کرنے والوں کو معاشرے کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ خاموش رہنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔
قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اقلیتوں کے حوالے سے اعلان کو اگر آج کے حالات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو صاف سمجھ آتا ہے کہ ہمارا معاشرہ نظریاتی شناخت سے بہت دور چلا گیا ہے۔ بانی پاکستان نے اس ملک کی بنیاد ایسی سوچ پر رکھی تھی جس کا محور انصاف، آزادی اور مساوات تھا۔ ان کے خیال میں پاکستان وہ ریاست تھی جہاں ہر مذہب کے ماننے والے شہریوں کو بلا خوف و خطر زندگی گزارنے کا حق ہو گا۔ لیکن معاشرے نے ان اصولوں کو محض تقریریں اور کتابوں تک محدود کر دیا۔ اس حقیقت کا اعتراف شاید ہمارے لیے تکلیف دہ ہو لیکن ضروری ہے کیونکہ مسائل کا حل سچائی کا سامنا کیے بغیر ممکن نہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس رویے نے کئی اور مسائل کو جنم دیا ہے۔ اقلیتوں کی نئی نسل خود کو اس سرزمین سے وابستہ محسوس کرنا چاہتی ہے، وہ اس ملک کی ترقی اور شناخت کا حصہ بننا چاہتی ہے لیکن معاشرتی رویے انہیں بار بار احساس دلاتے ہیں کہ ان کا تعلق کہیں نہ کہیں مشکوک یا کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اس احساس محرومی کے اثرات نہ صرف ان کے جذبات پر ہوتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر ریاستی ہم آہنگی پر بھی پڑتے ہیں۔ معاشرہ وہیں مضبوط ہوتا ہے جہاں ہر فرد خود کو اس کا حصہ سمجھتا ہے، جہاں کوئی شہری دوسرے سے کم تر نہیں ہوتا۔ لیکن جب تقسیم کی لکیر مذہبی شناخت پر کھینچ دی جائے تو تعلق کمزور ہونے لگتا ہے اور فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔
یہ صورتحال صرف مذہبی معاملات تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، صحت، روزگار، قانون، معاشرتی رویوں اور سکیورٹی تک پھیلی ہوئی ہے۔ اقلیتوں کو اکثر ایسے فیصلوں، چیلنجوں اور رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انہیں بار بار یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اکثریت کے مساوی نہیں ہیں۔ معاشرہ جب بھی کسی تنازع، افواہ یا مذہبی جذبات کے ابال میں مبتلا ہوتا ہے تو سب سے پہلے اقلیتیں ہی خطرے میں پڑتی ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ حالات کا جائزہ لینے سے پہلے ہی الزام اقلیتوں پر دھر دیا جاتا ہے اور ہجوم چند لمحوں میں انصاف کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔
اگر معاشرہ واقعی قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کے مطابق چلنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنی سوچ بدلنی ہو گی۔ حکومت کبھی بھی تنہا اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتی جب تک ہمارا مجموعی رویہ تبدیل نہ ہو۔ اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی نہیں بلکہ انصاف کی ضرورت ہے، ترس نہیں بلکہ مساوی برتاؤ کی ضرورت ہے، زبانی وعدوں نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اعلان کو محض تقریری حوالہ بنانے کے بجائے عملی ضابطہ کے طور پر نافذ کرے، ایسے قوانین بنائے جو اقلیتوں کے حقوق کی حقیقی ضمانت دیں اور ایسے ادارے قائم کرے جو مذہبی آزادی، سماجی تحفظ اور مساوات کو یقینی بنائیں۔
پاکستانی معاشرہ اگر اپنی اصل بنیادوں کی طرف واپس آنا چاہتا ہے تو اسے یہ قبول کرنا ہو گا کہ مذہبی آزادی کوئی احسان نہیں بلکہ ہر شہری کا حق ہے۔ اقلیتیں دشمن نہیں بلکہ اسی سرزمین کے برابر کے شہری ہیں۔ جب معاشرہ انہیں اپنا سمجھنا شروع کر دے گا تب ہی وہ پاکستان کو اپنا گھر دل سے محسوس کریں گے۔ جب تک بیانیہ صرف تقریروں اور کاغذوں تک محدود رہے گا، قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں