بہت عرصہ مجھے یہ زعم اور غلط فہمی رہی کہ میں ایک سیاسی ورکر ہوں۔بہت یادہ تو نہیں مگر 20 سال بہت ہارڈ کور قسم کی سیاسی فعالیت کا کردار ادا کیا ہے۔جماعت اسلامی کے جلسے، جلوس، ریلیاں، اسٹڈی سرکل، اجتماع، باقاعدہ اور بے قاعدہ اجلاس، کیمپنگ، فنڈ ریزنگ، ممبر سازی اور سیاسی و مذہبی مہمات سب میں ہراوّل دستے میں شامل ہونے اور فعال ترین کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ ن لیگ میں بھی تقریباً بساط بھر اتنی ہی کوشش کی۔
محنت اور لگن تو ہمیشہ ہی کردار کا خاصہ رہی مگر یقیناً سب سے زیادہ پیپلز پارٹی کیلئے مسلسل اور تقریباً بلا ناغہ خود کو وقف کئے رکھا۔ الیکشن کے دنوں میں تو دن اور رات، سونے اور جاگنے کی تفریق بھی ختم کئے رکھی ۔ بارہا پولنگ ایجنٹ بنا ۔
اس تمام عرصے میں سیاسی مکالمے، مناظرے بھی کئے، سوشل میڈیا پر بھی ہمہ وقت فعال رہا۔
سیاست، جمہوریت، آمریت کو دیکھا، سنا، پڑھا، پرکھا، سمجھنے اور سیکھنے کی کوشش کی۔
یہ سب اس امید کے ساتھ کرتا رہا کہ شاید کبھی سیاست اپنے اصل فلسفے عوامی خدمت، شفافیت اور اجتماعی بھلائی کی طرف لوٹ آئے گی ، لیکن تجربات نے بتدریج یہ احساس گہرا کیا کہ پاکستان میں سیاست نظریے سے زیادہ نفسیات، اور خدمت سے زیادہ مفاد کا کھیل بن چکی ہے۔
انسانی شعور اپنے ارد گرد رونما ہونے والے واقعات، مشاہدات، تعلقات، متعلقات کے جدلیاتی تجزئیے سے بہت کچھ سیکھتا اور سمجھتا اور نشوونما پاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بندہ کم آئی کیو لیول کا حامل ہونے کی بنا پر ذرا دیر سے سمجھتا اور نتائج اخذ کرتا ہے مگر ان نتائج پر پھر ایمان کی حد تک یقین بھی بنا لیتا ہے۔
وقت کی دھول جب بیٹھتی ہے تو انسان پہلی بار اپنے ماضی کے قدموں کے نشان دیکھتا ہے اور اسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کن راستوں پر بھٹکتا رہا اور کن سچائیوں کو نظر انداز کرتا رہا۔
سب سے پہلے تو سیاسی ورکر ہونے اور شخصیت پرستی میں فرق مجھے کافی دیر سے سمجھ آیا کہ سیاست میں شخصیت پرستی وہ بیماری ہے،اگر کسی سیاسی کارکن کو لگ جائے تو اس کی ہمہ قسم سوچنے، سمجھنے، تجزیہ کرنے، نتائج اخذ کرنے، حق و باطل اور سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کی صلاحیتوں کو گھن کی طرح چاٹ لیتی ہے۔
عقل و خرد، ادراک و وجدان اسے طلاق دے جاتے ہیں۔
شخصیت پرستی دراصل ذہنی غلامی کی بدترین شکل ہے، جو انسان سے آزادیِ فکر چھین کر اسے محض نعرہ بردار، تالیاں بجانے والا اور آنکھ بند کر کے دفاع کرنے والا مقلد بنا دیتی ہے۔
لہٰذا ہم سیاستدانوں کے ساتھ سیلفی، لوگوں کی شادیوں اور فاتحہ خوانیوں کے مواقع پر ان کے آگے پیچھے رہنے کو باعث صد فخر سمجھتے ہیں۔ ان کے ہر اچھے کام کو بڑھا چڑھا کر اور ہر برے کام کی بڑھ چڑھ کر تاویلیں اور دفاع کرتے ہیں۔
اپنے ذاتی مثبت کردار (اگر ہو تو) اور سوشل ورک کا کریڈٹ بھی سیاستدان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔
یہ رویہ آہستہ آہستہ کارکن کی شخصیت کو کھوکھلا کر دیتا ہے اور وہ اجتماعی بھلائی کے بجائے فردِ واحد کی خوشنودی کا غلام بن جاتا ہے۔
سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ لکھی پڑھی جمہوریت اور ہمارے ملک میں رائج جمہوریت میں اس قدر تضاد ہے کہ اسے جمہوریت کہنا، جمہوریت کی توہین ہے۔
ثانیاً آئین میں لکھے عوامی حقوق اور عوام کو دستیاب حقوق میں بھی اس قدر بعد ہے کہ عام آدمی کے لئے آئین بالکل غیر متعلق ہے۔جمہوریت کی کتابی تعریف اور اس ملک کی زمینی حقیقت میں اتنا فاصلہ ہے کہ جیسے کوئی خوبصورت خواب کسی ڈراؤنے منظر میں بدل جائے۔
ثالثاً تمام سیاسی جماعتوں کے بزعم خود بیشتر سیاسی ورکرز کو سیاسی ورکر ہونے کی معنویت بلکہ شاید الف بے سے بھی آشنائی نہیں ہے ۔ہمارے ہاں سیاسی تربیت کا تصور ہی مفقود ھے ۔ کارکن کو نظریہ نہیں سکھایا جاتا ، صرف نعرہ ، اشتعال اور دشمنی سکھائی جاتی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک میں نے دیکھا اور محسوس کیا کہ سیاستدانوں کے نزدیک سیاسی ورکر کی اہمیت ٹشو پیپر جیسی ہے مگر یقین کیجئے کہ ایک عام سیاسی ورکر کی اہمیت ٹوائلٹ پیپر جیسی ہوتی ہے۔یہ حقیقت جتنی تلخ ہے، اتنی ہی عریاں بھی ہے کہ کارکن کی عزت اور محنت کا مول صرف اُس وقت تک ہے جب تک وہ استعمال ہونے کے قابل ہو۔
یہاں سوال پیدا ھوا کہ پھر سیاستدان کون سے سیاسی ورکر کو اہمیت دیتے ہیں؟
وہ جو ان پر خرچ (انوسٹمنٹ) کریں، خوشامد کریں، جن کے پاس کم از کم سو دو سو ووٹ ہوں، جو ان کے مختلف قسم کے بندوبستی معاملات کو سنبھال سکیں، بااثر ہوں، خواہ وہ بدمعاش ہوں، ملاوٹ مافیا، ناجائز فروش، منشیات فروش، سمگلر، مفاد پرست، رشوت خور اور بالخصوص ٹاؤٹ ہوں۔
یہ طبقہ سیاست کا اصل اسٹیبلشمنٹ بن چکا ہے جو ووٹ نہیں، مفاد دیتا ہے؛ جو خدمت نہیں، خدمت کے نام پر کاروبار کرتا ہے۔
عموماً سیاستدان چونکہ قیافہ شناس ہوتے ہیں لہٰذا انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کس سیاسی ورکر کو کیسے مینج کیا جانا ہے۔
مجھے بیشتر سیاستدانوں کے ارد گرد خوشامدی اور ٹاؤٹ مافیا ہی زیادہ تعداد میں کامیاب نظر آیا ہے۔یہ لوگ سیاسی دروازوں کی چابیاں ہوتے ہیں، جو اصولوں سے نہیں، تعلقات اور لین دین سے کھلتی ہیں۔
سیاست یہاں چونکہ ایک بہترین اور نفع بخش پیشہ ہے لہٰذا ھم اگر یہ سمجھتے ھیں کہ پندرہ بیس کروڑ روپے خرچ کر کے الیکشن لڑنا عوامی خدمت کیلئے ہے تو کیا خیال ہے کہ ہم جنت الحمقاء میں نہیں رھتے؟
یہ صرف سرمایہ کاری ہے جس کا منافع پانچ سال میں سود سمیت وصول کیا جاتا ہے۔
میں چونکہ ایک عام آدمی ہوں تو اپنی سطح کی ہی بات کروں گا۔
ہمارے ملک میں دیگر ممالک کی طرح معقول تفریح کے مواقع، اسباب، مشاغل تقریباً ناپید ہیں جن کا تذکرہ کبھی آئندہ مفصل مضمون میں کروں گا۔ یہاں سیاسی ٹاک شوز اور سیاسی پولرائزیشن کو بطور تفریح بھی عوام کے ذہن و دماغ میں پیوست کر دیا گیا ہے۔
ہم نے سیاست کو بحث، گالی اور دشمنی کا فیول بنا کر پورے معاشرے کو اعصابی مریض بنا دیا ہے۔
سیاست نان ایشوز پر ہو رہی ہے اور جن نان ایشوز پر ہو رہی ہے ان میں فقط ایک فیصد عوامی مفاد کا شائبہ تک نہیں ہے اور کروڑوں نوجوان خود کو سیاسی ورکر سمجھے ہوئے آپس میں تقریباً دست و گریبان ہیں۔
ہائی بریڈ جمہوریت کے نام سے درحقیقت آمریت ہی مسلط ہے۔
حکومت میں موجود جملہ حکومتی و اپوزیشن کے سیاستدان عوام کو مختلف، نان ایشوز پر مبنی سیاسی نعروں اور ٹرک کی بتیوں کے پیچھے لگا کر درجنوں ہاتھوں سے دولت کے انبار جمع کر رہے ہیں، ملک اور بیرون ملک میں جائیدادیں خریدی جا رہی ہیں، منی لانڈرنگ ہو رہی ہے کیونکہ ڈیل شدہ حکومتی بندوبست اور محدود اختیارات کا سب کو پتہ ہے۔
یہ نظام بنیادی طور پر ایک خوبصورت نقاب ہے جس کے پیچھے طاقت، دولت اور مفادات کا جنگل آباد ہے۔
ایک کثیر تعداد سیاسی ورکرز ایک شخص کی قید سے آزادی کو ملک و قوم کے تمام مسائل کا حل قرار دے رہی ہے اور باقی سیاسی پارٹیوں کے سیاسی ورکرز اس ہائی بریڈ بندوبست کو مکمل طور پر اور ہر لحاظ سے ڈیفینڈ کر رہے ہیں۔
ہمیں نان ایشوز کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا ہے اور ہم بگٹٹ دوڑے جا رہے ہیں۔
تعلیم، صحت، روزگار، انصاف کی بروقت فراہمی، عوام کے حقوق کے حصول کی بابت مطالبات کیلئے ہم کچھ کر ہی نہیں رہے۔
گویا ہم نے اجتماعی مسائل کی جگہ شخصیات کو مسئلہ بھی بنا لیا ہے اور حل بھی۔

سیاسی ورکرز کے نام پر ٹاؤٹوں کے گروہ سیاستدانوں کو مالی فائدے پہنچا بھی رہے ہیں اور ان سے ہر قسم کے مالی فائدے، ناجائز قانونی تحفظ کے مفادات لے رہے ہیں۔ اس میں تیرا لیڈر اور میرا لیڈر کی ھرگز کوئی تفریق نہیں ہے۔
اگر آپ نے کامیاب سیاسی ورکر بننا ہے تو آپ کو سب سے پہلے مالی طور پر مضبوط ہونا چاہیے، دوسرے نمبر پر خوشامد کے تمام طور طریقے آنے چاہییں، اس کے بعد کون سا جائز یا ناجائز مالی مفاد آپ نے لینا ہے اور کس ذریعے سے لینا ہے یہ آپ کو معلوم ہونا چاھہیے۔
سب سے بہترین طریقہ ٹاؤٹ گیری ہے، آپ سیاستدان کے فرنٹ مین بن کر ٹرانسفر پوسٹنگ، بجلی، گیس کے غیر قانونی کنکشن، غبن، کرپشن، سمگلنگ، تھانے کچہری کے سفارشی فون کی مدات میں پیسے پکڑ سکتے ہیں جس کا ایک معقول حصہ سیاستدان کو ادا کریں یا اس پر خرچ کریں، تب آپ کو صحیح سیاسی ورکر کی شناخت ملے گی، وگرنہ یقین مانئے آپ کی، ہماری حیثیت ان کے نزدیک ٹوائلٹ پیپر سے ہرگز کچھ زیادہ نہیں ہے۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں کارکن اور ٹاؤٹ کی لکیر مٹ جاتی ہے اور سیاست مفاد کے بھنور میں گم ہو جاتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں