ہجوم اور آپ /ڈاکٹر مختیار ملغانی

اس معاشرے میں رہتے ہوئے یہ بات ہمارے لاشعور تک سرایت کر چکی ہے کہ دوسرے انسانوں کے درمیان، یعنی ہجوم میں رہتے ہوئے ہی ہم مکمل ہو پاتے ہیں،، گویا کہ سوشل زندگی نہایت ضروری ہے، اس سے ہٹ کر انسان کیلئے زندگی گزارنا بہت مشکل ہے، بلکہ سوشل میڈیا کے آنے سے پہلے تو باقاعدہ سوشل لائف کو توسیع دینے اور تعلقات بڑھانے پہ زور دیا جاتا ،،، آج بھی ایسے لوگوں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جن کے کوئی چار چھ تعلقات ہوں ، کہیں کوئی پہنچ ہو، یا پھر وہ تنہائی کے کرب سے کبھی دو چار نہ ہوں ۔

لیکن آج وقت کے ساتھ ساتھ بالخصوص نوجوانوں میں یہ ٹرینڈ بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ ہجوم کو اپنے لئے سر درد محسوس کرتے ہیں، دنیا سے دور بھاگتے ہیں،، تنہائی میں پناہ ڈھونڈھنے کی کوشش کرتے ہیں،،، مگر ساتھ ساتھ ان نوجوانوں کے اندر ایک احساس کمتری بھی پل رہا ہے کہ شاید ہم نارمل نہیں ہیں،، شاید ہم تعلقات کے قابل نہیں ، یا پھر ہمیں کوئی پسند نہیں کرتا،، اوپر سے یہ خوف بھی رہتا ہے کہ دنیا کیا کہے گی، دنیا والے کیا سوچیں گے ،،، سوچوں کا یہ دائرہ اور باقی دنیا والوں سے ہٹ کر زندگی گزارنے کا خوف مل کر نوجوان کے دماغ کو جکڑ لیتے ہیں اور وہ اندر ہی اندر کڑھتے ہوئے یا تو کوئی غلط قدم اٹھا لیتا ہے، یا منشیات اور جوے کی لے میں لگ جاتا ہے، یا پھر تمام عمر اسی طرح کڑھتے ہوئے گزارتا ہے، جس سے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت تباہ کر لیتا ہے ۔

انتون چیخوف جو پیشے کےا عتبار سے ایک ڈاکٹر مگر اپنی فطرت میں افسانہ نگار تھے،،،، انہی کا یہ دلچسپ قول ہے کہ
” طب میری بیوی اور ادب میری محبوبہ ہے ”

ان کے کرداروں پر اگر غور کیا جائے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ان کا ہر بڑا کردار دنیا والوں کی رائے سے خائف رہتا ہے ، لوگوں سے دور رہتا ہے ،چیخوف جیسے جینیئس نے یہ بات بھانپ لی تھی کہ بظاہر عام نظر آنے والا انسان کس قدر حساس ہو سکتا ہے اور لوگوں کی رائے اس کیلئے کتنی تکلیف دہ ہو سکتی ہے، اس کا ایک کردار جو سیڑھیوں سے گر کر ٹانگ تڑوا بیٹھا تھا ، اس چوٹ کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی کیونکہ لوگ مذاق اڑاتے تھے کہ سورج کی روشنی میں ایک بالغ آدمی سیڑھیوں سے گر کر ٹانگ کیسے تڑوا بیٹھتا ہے ، اس شخص کی موت جسمانی ٹرامے سے نہیں بلکہ روحانی ٹرامے سے ہوئی کہ لوگ اس کا تمسخر اڑا رہے تھے ۔
اسی طرح اپنے افسانے وارڈ نمبر چھ میں چیخوف نے ایسے ڈاکٹر کا نقشہ کھینچا ہے جو باقی دنیا سے مختلف ہے، اس لئے ہجوم میں وہ کسی طور فٹ نہیں ہو رہا، وہ سب کیلئے اجنبی ہے،، اس اجنبیت اور اس تنہائی سے بچنے کیلئے وہ ڈاکٹر دوسروں جیسا بن جاتا ہے کہ اس کے علاوہ اس کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ،، مگر نقصان یہ ہوا کہ یہ ڈاکٹر اپنی انفرادیت ، اپنی شخصیت کو پس پشت ڈال کر اب جنونیوں کے ساتھ ایک جنونی بن بیٹھا ہے ۔

اب دوسری طرف اس کے بالکل متضاد ایک مختلف کردار ہے،، جو اپنی اقدار، اپنے ذہن ، اپنی شخصیت کو معاشرے کے مطابق نہیں ڈھالتا بلکہ وہ معاشرے سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے،،،، لیکن ہجوم ایسے شخص کی مدد نہیں کرتا بلکہ وہ اس کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے کیونکہ وہ معاشرے کی بوسیدہ روایات اور بیہودہ رواج کیلئے خطرہ ہے، ایسا شخص خوف پیدا کرتا ہے۔

انتون چیخوف یہ بات بخوبی جانتے تھے ، وہ خود سوشل محفلوں سے دور رہتے، اپنے کمرے میں رہنا پسند کرتے، اپنے خطوط میں وہ اپنے دوستوں کو لکھتے کہ لوگوں کا ہجوم ایک دلدل ہے جو ہر اس شخص کو اپنے اندر دبوچ لینا چاہتا ہے جو ان سے مختلف سوچتا ہے،،،۔ ایک نوجوان لکھاری نے ایک دفعہ انتون چیخوف سے شکایت کی کہ ناقدین نے ان کی کتاب پر جو جملے کسے ہیں ، اس سے ان کا کیریئر تباہ ہو گیا ،،، چیخوف نے پوچھا کہ تمہاری کتاب کے بارے تمہاری اپنی رائے کیا ہے،،، یہاں نوجوان مصنف ڈگمگا گیا ،،، چیخوف نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ اگر دوسروں کی رائے تمہارے لئے اتنی اہم ہے کہ تمہارے حلق سے اپنے لئے کوئی مثبت بات نہیں نکل رہی تو تم جنگ لڑنے سے پہلے ہی ہار چکے ہو۔

چیخوف کے یہ الفاظ صرف اس مصنف پہ لاگو نہیں ہوتے ، ہر وہ نوجوان ، بوڑھا، مرد عورت جو دوسروں کی رائے کو خود سے زیادہ اہمیت دے رہا ہے وہ جان رکھے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی وہ شکست تسلیم کر چکا ہے، اور ایسے شخص کا یہ دن رات کڑھنا، خود کو کاٹنا، راتوں کو بے چین رہنا، خوف زدہ رہنا یہ سب اسی بات کی چغلی کھا رہے ہیں کہ وہ خود میں اعتماد نہیں پیدا کر پا رہا کیونکہ دوسروں کی رائے اور دوسروں کے طنز و ملامت کو اس نے خود پہ مسلط کر رکھا ہے،،،،،
اور معاملہ یہ ہے کہ اگر آپ زم زم سے بھی خود کو غسل دے لیں تو گندگی ڈھونڈھنے والے آپ کے جسم پہ گندگی ڈھونڈھ لیں گے ، آپ سماج کی ہر ہاں میں ہاں ملاتے جائیں تب بھی انجام گلستاں برا ہی رہے گا ، آپ اپنی انفرادیت گنوا بیٹھیں گے ، یہی چڑچڑا پن، یہی بیماریاں، یہی خوف پیچھا کرتے رہیں گے،،، اب اگر شکست تسلیم کر کے بھی انجام یہی رہنا ہے تو کیوں نہ پھر کوشش کر لی جائے۔۔۔۔۔ لیکن انسان کا اعتماد کچھ ایسے توڑا گیا کہ اگر کوئی ایسی فلم جو ت سب دوستوں اور جاننے والوں کو بہت پسند ہو اور وہ اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا لیں،، لیکن آپ کو یہ فلم پسند نہیں آئی تو آپ سب کے سامنے یہ بات بتاتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ یار فلم کوئی خاص نہیں تھی،،، کیونکہ آپ کو ڈر ہے کہ یہ ہجوم کہیں یہ نہ سوچے کہ تمہیں فلم کی سمجھ ہی نہیں آئی،، تمہیں آرٹ بارے کچھ معلوم ہی نہیں ،
یعنی اس حد تک انسان اندر سے کھوکھلا ہو سکتا ہے۔

کتنے اساتذہ ہیں جو جانتے ہیں کہ یہ نظام تعلیم طلباء کا صرف نقصان کر رہا ہے،، مگر وہ کہہ نہیں پاتے اور اسی بوسیدہ طریقے سے پڑھائے جا رہے ہیں کیونکہ وہ ہجوم سے الگ نہیں ہونا چاہتے،،،
کتنے ڈاکٹر ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ اینٹی بائیوٹکس اور سٹیرائیڈز کا بے دریغ استعمال مریض کیلئے کس حد تک خطرناک ہے، لیکن وہ ہر مریض کو یہی پرسکرائیب کریں گے چاہے اس کی ضرورت ہی نہ ہو،،،،،،، کیونکہ وہ اپنے پیٹی بھائیوں کے خلاف نہیں جانا چاہتے،،، بے شمار وکلاء ہیں جنہیں معلوم ہے کہ یہ سنوائیاں، یہ عدالتیں، یہ روز روز کچہری کے چکروں سے مدعی کو انصاف نہیں ملنے والا،،، مگر ان میں سے کوئی بھی آواز نہیں اٹھاتا کہ باقی وکلاء اس کے خلاف ہو جائیں گے ،،، کتنے ایسے سٹوڈنٹس ہیں جو کوئی ناپسندیدہ سبجیکٹ صرف اس لئے پڑھ رہے ہیں کیونکہ اس کے کزن نے، ہمسائے نے یا دوست نے اس سبجیکٹ میں ٹاپ کیا تھا تو اب صرف اسی ضد میں مجھے بھی کرنا ہے ،،،، ورنہ لوگ کیا کہیں گے ،،،،

کتنے ایسے لوگ ہیں، جو رقاص بننا چاہتے ہیں ، گلوکار یا مصور بننا چاہتے ہیں،، لکھاری بننا چاہتے ہیں مگر نہیں بن پا رہے کیونکہ اس ہجوم کی ڈیمانڈ مختلف ہے ،،،، اب اس ہجوم کی ڈیمانڈ کو پورا کرتے ہوئے اگر تم اپنے آپ کو دباؤ گے، اپنے اصل چہرے پر ماسک چڑھاؤ گے تو پھر گھٹن تو ہوگی،،،،،

ضروری نہیں کہ ہجوم آپ پر زور زبردستی سے مسلط ہو جائے ، بعض اوقات تو یہ ہجوم آپ کو پیار محبت بلکہ مکمل نیک نیتی سے دبوچ لے گا،اب یہ جملے تو ہم میں سے ہر ایک نے سن رکھے ہوں گے۔۔۔۔

“بیٹا ،، کامیاب بننے کیلئے تمہارا سی ایس ایس کرنا ضروری ہے ”
” بھائی،،، تم ریئیل سٹیٹ میں کیوں نہیں آ جاتے”
” بیٹی،،، گھر کی روایات کا تو ہر باشعور انسان خیال رکھتا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

اب یہ بھی وہی دبوچنے والی بات ہے اصل میں کہ آپ کسی طرح تو شکنجے میں آئئں، ممکن ہے کہ یہ نصیحت دینے والا واقعی آپ سے مخلص ہو ، آپ کا بھلا چاہتا ہو لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ شخص ہجوم کے رنگ میں ایسا رنگا جا چکا ہے کہ نصیحت کرتے وقت اسے خود معلوم نہیں کہ وہ اپنی نیک نیتی کی وجہ سے آپ کی شخصیت کو مسخ کر رہا ہے۔

لیکن اصل سوال جو آپ سب کے ذہنوں میں آ رہا ہوگا، وہ یہ کہ اس پھندے سے نکلنے کا راستہ کیا ہے، کیسے یہ شخصی آزادی حاصل کی جائے ؟؟

اس کیلئے آپ کو چیگووارا یا انقلابی بننے کے ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی ڈرم پیٹنا ہے، نہ کوئی شور کرنا ہے،،، اس کی ابتدا مؤدب انداز میں ایک چھوٹی سی ، نہیں ، سے ہونی چاہئے ، نہیں اس بات پہ جو آپ کی پسند ، آپ کے ذوق یا آپ کی شخصیت کے خلاف کی جا رہی ہے،،،، یاد رکھئے کہ انسان اپنے خواب کا قیدی بن سکتا ہے اگر یہ خواب سماج کی طرف سے شعوری یا لاشعوری طور پر تم پر مسلط کیا گیا یے،،، عام آدمی کو احساس تک نہیں ہوتا کہ اس پہ اس کے خواب تک مسلط کئے گئے ہیں،، اسی لئے تو پھر خوابوں کی تعبیر کے بعد بھی انسان مضطرب رہتا ہے ، اس لئے ابھی طرح سوچ سمجھ کر ، محسوس کر کے کسی کی رائے یا نصیحت کو اہمیت دیا کریں ، اگر تمہارے اپنے اندر سے تصدیق نہیں آ رہی تو انکار کرنا سیکھیں ، نصیحتیں یا رائے دینے والے تو جلد یا بدیر اپنی اپنی زندگی میں مگن ہو جائیں گے لیکن تم تمام عمر اس سولی پہ لٹکے رہو گے جس پہ تمہیں تمہاری مرضی کے خلاف باندھا گیا ۔

لیکن اس انکار سے پہلے خود پہ تھوڑی محنت کر کے دو کام لازمی کرنے ہیں۔
ایک یہ کہ اپنے اندر اتنا شعور ضرور پیدا کریں کہ آپ جان سکیں کہ آپ کی اپنی اپنی خواہش کیا ہے اور ہجوم آپ سے کیا مطالبہ کر رہا ہے ، ہر حال میں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جو کچھ ہجوم آپ پہ مسلط کر رہا ہے وہ آپ کا اپنا انتخاب بھی ہے یا یہ سب آپ کی اندرونی شخصیت، آپ کے ذوق اور شوق کے خلاف جا رہا ہے،،،
دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ خود کے ساتھ اکیلے بھی رہنا پڑے تو اتنی جوان مردی پیدا کر لیں اپنے اندر کہ تنہائی میں وقت گزار سکیں ، ،کیونکہ کسی نصیحت یا رائے پر انکار کی صورت تنہائی میں وقت گزارنا پڑ سکتا ہے،، لیکن اس کا ایک فائدہ ذہن میں یہ رہنا چاہئے جو کہ اہم ترین ہے، وہ یہ کہ تنہائی میں ہی کسی بڑے خیال ، کسی بڑی تخلیق تک پہنچا جا سکتا ہے، ہجوم میں رہتے ہوئے کوئی عظیم یا یونیک کام نہیں ہو سکتا ۔
یہ دو کام اگر آپ نے کر لئے تو پھر انکار کی جرات بھی آتی جائے گی، معروف نفسیات دان وکٹر فرینکل نے کہا تھا کہ محرک اور ردعمل کے درمیان ایک وقفہ ہوتا ہے ، اور یہی وقفہ ہماری اصل آزادی ہے،،،
کوئی کیا کہہ رہا ہے، کیوں کہہ رہا ہے، کیسے کہہ رہا ہے، یہ سب محرک ہے، لیکن اس کے جواب میں آپ نے کیا کہنا ہے، کیا کرنا ہے، یہ آپ کا ردعمل ہے،،، اور یہی وقفہ انسان کی اصل آزادی ہے،، تسلی سے یہ وقفہ لیں ، اپنی اندرونی آواز پہ توجہ دیں ،، تاکہ آزادی پا سکیں ، ورنہ ہمیشہ غلام رہو گے ،، بے رحم ہجوم میں لتاڑے جائیں گے ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply