میں اپنی بلڈنگ کی دوسری منزل پر کھڑا کھڑکی سے باہر جھانک رہا ہوں، اور میرے سامنے چمکتے سورج اور خاموش صحرا کے سوا کچھ نہیں ہے- اس ویران صحرا کے بیچوں بیچ ہمیشہ کی طرح چند آوارہ سراب محو رقص ہیں، اور مجھے بھی رقص کے بدلے غور و فکر کی دعوت دینے لگے ہیں- میں سوچ رہا ہوں کہ خواہش عقل کو کیسے وقتی شکست دے سکتی ہے- اتفاق سے کچھ دیر پہلے ہی میں ایک نظم اور ایک ایسا گیت سن بیٹھا ہوں جو اس سوال کی بنیاد بنے ہیں-
ادب کی تاریخ میں کچھ متون ایسے ہوتے ہیں جو اپنے عہد سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ وہ وقت کا لباس تو بدل لیتے ہیں مگر سوال وہی رکھتے ہیں۔ جان کیٹس کی رومانوی نظم La Belle Dame sans merci
اور بیسویں صدی کا گیت
Summer Wine
اسی قبیل کی دو تخلیقات ہیں۔ دو صدیاں، دو لہجے، دو ثقافتیں، مگر ایک ہی انسانی کمزوری کو عیاں کرتے ہیں؛ خواہش کے سامنے عقل کی وقتی شکست۔
کیٹس کی نظم ایک سوال سے شروع ہوتی ہے، مگر یہ سوال اس جنگجو سے کم اور قاری سے زیادہ مخاطب محسوس ہوتا ہے-
“O what can ail thee, knight-at-arms,
Alone and palely loitering?”
یعنی اے جنگجو، تمہیں کیا ہوا ہے جو اتنے اکیلے اور زرد رنگت لیے گھوم رہے ہو؟
یہ محض جسمانی بیماری نہیں ہے؛ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جسے جدید نفسیات میں
existential withdrawal
کہا جا سکتا ہے- انسان زندہ تو ہے، مگر مقصد سے کٹ چکا ہے۔ یہ جنگجو بھی مکمل اسلحے میں ہے، مگر سمت کے بغیر۔ اس کے پاس طاقت موجود ہے، مگر وہ فیصلہ کرنے سے عاری ہے-
اس سوال کے جواب میں جب وہ اپنی ملاقات کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے،
“I met a lady in the meads,
Full beautiful a faery’s child.”
یعنی میں ایک حسین عورت سے ہری بھری چراگاہ میں ملا جو اتنی حسین تھی جیسے کسی پری کی اولاد ہو- غور کریں تو یہ “faery’s child” محض جمالیاتی وصف نہیں، بلکہ یہ وہ حالت ہے جہاں کسی شخص کو انسانی حدود سے نکال کر ایک نجات دہندہ، ایک خواب، ایک مکمل شے بنا دیا جاتا ہے۔ اس کیفیت کو اکثر anxious attachment یا emotional deprivation کہتے ہیں، جہاں انسان اپنی داخلی کمی کو کسی دوسرے کے وجود سے بھرنا چاہتا ہے۔
نظم کو یہیں روکیں اور ذرا اس گیت پر غور کریں جہاں بالکل یہی عمل جدید زبان اختیار کر لیتا ہے،
“Strawberries, cherries and an angel’s kiss in spring.”
یہاں خواہش کو “angel’s kiss” کہا گیا ہے- شاید گناہ کو معصوم، خطرے کو خوبصورت بنانے کی کوشش۔ اس عمل کو cognitive reframing کہتے ہیں- ذہن حقیقت کو اس طرح بدل کر پیش کرتا ہے کہ ضمیر خاموش ہو جایا کرتا ہے- پھر اس کاؤبوائے سے عورت کہتی ہے،
“Take off your silver spurs and help me pass the time.”
اب یہ محض چاندی کی رکاب نہیں، یہ حرکت، اختیار اور شناخت ہیں۔ ان کا اتارنا دراصل
boundaries
کے تحلیل ہونے کا لمحہ ہے۔
ماہرین اسے
loss of self-regulation
کہتے ہیں- جب انسان وقتی قربت کے بدلے اپنی طویل مدتی سمت کھو دیتا ہے۔ کیٹس کے ہاں یہ لمحہ نیند میں بدل جاتا ہے،
“And there she lulled me asleep.”
اور خواب میں وہ جنگجو واضح اشارے دیکھتا ہے،
“I saw pale kings and princes too…
They cried ‘La Belle Dame sans merci
Hath thee in thrall!’”
یعنی اس نے زرد چہروں والے بادشاہوں اور شہزادوں کو چلاتے ہوئے دیکھا، جو کہتے تھے، یہ حسین عورت تجے قید کر چکی ہے- یہ خواب دراصل لاشعور کی اجتماعی آواز ہی تو ہے- یہ وہ شعور ہے جو خواہش کے شور میں دب جاتا ہے۔
بالکل اسی طرح “سمر وایئنز” میں یہی عمل نشے کے ذریعے ہوتا ہے۔ نشہ جدید نفسیات میں شعور کا حقیقت سے عارضی انقطاع ہے-
اسی لیے بیداری دونوں جگہ تکلیف دہ ہے،
“When I woke up, the sun was shining in my eyes.”
یہی وہ حالت ہے جسے
comedown
کہا جاتا ہے- جب لذت کا پردہ ہٹتا ہے اور حقیقت اچانک چبھنے لگتی ہے۔
کیٹس کے ہاں اختتام قطعی اور سرد ہے،
“And that is why I sojourn here,
Alone and palely loitering,
On the cold hill side.”
یہ مکمل وجودی خاتمہ ہے۔ خواہش مر چکی، امید بجھ چکی، اور انسان محض ایک ویران منظر میں بدل چکا ہے۔ اس کے برعکس
Summer Wine
میں انجام زیادہ خوفناک بھی ہے اور جدید ذہن کا عکاس بھی،
“And left me craving for more summer wine.”
یہاں نقصان کے باوجود خواہش باقی ہے۔
اسے
addictive attachment
کہا جاتا ہے- یہاں انسان جانتا ہے کہ شے نقصان دہ ہے، مگر ذہن پھر بھی اسی کی طلب کرتا ہے۔ یہی جدید انسان کا المیہ ہے- وہ انجام سے واقف ہے، پھر بھی انکار نہیں کر پاتا۔
یوں
La Belle Dame sans merci اور Summer Wine
ایک ہی داستان کے دو ابواب کہے جا سکتے ہیں۔ ایک انتباہ ہے، دوسرا اعتراف۔ ایک کہتا ہے: “دیکھو، حسن یا خواہش غلام بنا سکتے ہیں” دوسرا کہتا ہے، “میں جانتا تھا… پھر بھی مان گیا”
یہاں مجھے یہ خیال آ رہا ہے کہ کیا یہ دونوں تخلیقات عورت یا محبت پر فردِ جرم لگاتی ہیں؟ مگر غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ اس تلخ سچ کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جب انسان اپنے باطن کے خالی پن کو خواہش اور حسن سے بھرنے لگتا ہے، تو یہ دونوں مہلک ہو جاتے ہیں۔ مغرب نے اس تجربے کو woman-as-fate کے تناظر میں ڈھالا، جبکہ اردو نے اسے انسان کے نفس، عشق، یا جمالیاتی کشش کی علامت بنایا۔ لیکن انسانی تجربہ بنیادی طور پر ایک ہی ہے؛ وہ کشش جو ہمیں اپنی مرضی کے خلاف اپنی طرف کھینچتی ہے۔

سورج ڈھلنے لگا ہے اور میں ابھی تک کھڑکی میں ہی کھڑا ان سرابوں میں کھویا ہوا ہوں- اس سے پہلے کہ سراب مجھ پر مزید حاوی ہو جائیں، میں سمجھتا ہوں کہ ادب کی سب سے بڑی دیانت داری یہ ہے کہ وہ ہمیں کسی اور پر الزام لگانے نہیں دیتا، بلکہ خاموشی سے ہمیں آئینہ تھما دیتا ہے-
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں