کبھی کبھی زندگی کا سب سے بڑا تضاد یہ ہوتا ہے کہ تکلیف سہنے والا ہی ہر بات کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے جبکہ تکلیف دینے والا ہر بار بغیر کسی سوال کے بچ نکل جاتا ہے۔ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ دنیا کی منطق کتنی عجیب ہے۔ جس شخص کے ساتھ زیادتی ہو، اسی کو کہا جاتا ہے کہ دل بڑا کرو، برداشت سے کام لو، بات کو جانے دو، ذہن کو سکون میں رکھو اور رشتے کی خاطر خود کو بدل لو۔ اسے سمجھایا جاتا ہے کہ تم بہتر ہو اسی لیے تمہیں ہی صبر کرنا چاہیے۔ مگر کبھی کسی نے یہ سوال اٹھایا کہ غلطی کرنے والا کب بدلتا ہے۔ وہ کب اپنے رویے کا حساب دیتا ہے۔ اس کے سخت لہجے کی، اس کی بے حسی کی، اس کے کمزور جذباتی شعور کی بات کب ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔ جیسے اس کی غلطی کو زبان پر لانا ہی منع ہے، جیسے اس کے احساسات کی کمی کوئی مسئلہ نہیں۔ دنیا بس اتنا جانتی ہے کہ بڑے دل والا وہی ہے جو ہر بار چپ رہے۔
یہ عجیب معاشرتی اصول ہمیں ایک طرفہ ذمہ داری کے گڑھے میں دھکیل دیتے ہیں۔ وہ شخص جو ذہنی طور پر مضبوط، متوازن اور حساس ہوتا ہے، اسی پر سارا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر غلط بات کو برداشت کرے، ہر تلخ رویے کو بھلا دے، ہر بار پہلے قدم بڑھائے، ہر بار اصلاح کرے، ہر بار رشتہ سنبھالے۔ جیسے جذبات کی ساری ذمہ داری اسی کے حصے میں آتی ہے اور دوسرا شخص آزاد ہے، جیسا چاہے ویسا برتاؤ کرے کیونکہ وہ تو ویسا ہی ہے۔ اس کی غلطیاں اس کی طبیعت کہہ کر معاف کر دی جاتی ہیں۔ معاشرہ اسے وہ آزادی دے دیتا ہے جو کسی رشتے میں نہیں ہونی چاہیے۔ وہ آزادی کہ دوسروں کے دل دکھاکے بھی کوئی جوابدہی نہ رہے۔
یہ عدم توازن وقت کے ساتھ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ حساس انسان خود کو ٹوٹتا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے احساسات کو معمولی سمجھ لیا جاتا ہے کیونکہ وہ انہیں چیخ کر بیان نہیں کرتا۔ اس کی خاموشی کو کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کی برداشت کو اس کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ بار بار معاف کرتا ہے، مگر ہر معافی اسے اندر سے مزید تھکا دیتی ہے۔ اس دوران دوسرا شخص جو غلطی کرتا ہے، وہ پچھلے قدم پر کبھی نہیں جاتا، کبھی سوچتا نہیں کہ اس کے رویے کا اثر کیا پڑا۔ اسے معلوم ہے کہ سامنے والا پھر چپ ہو جائے گا، پھر معاف کر دے گا، پھر خود ہی بات سنبھال لے گا۔
جذباتی غیر ذمہ داری کی سب سے بڑی جڑ یہی ہے کہ معاشرہ اسے روکنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ جب غلطی کرنے والا بار بار یہ دیکھے کہ اس کے سخت الفاظ، اس کی بے حسی، اس کا خود غرض رویہ بغیر نتیجے کے رہتا ہے، تو وہ اپنی غلطی کو غلطی سمجھنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ اسے لگنے لگتا ہے کہ رشتے کی بقا کا بوجھ دوسرا اٹھائے گا، اسے بدلنے کی ضرورت نہیں۔ جب انسان کو کوئی نہیں کہتا کہ غلط تم ہو، تمہیں بدلنے کی ضرورت ہے، تمہیں سیکھنے کی ضرورت ہے، تو وہ اپنے اندر کی کمزوریوں کو عزت اور خوبصورتی بنا کر پیش کرتا رہتا ہے۔
لیکن وہ شخص جو ہر بار خاموش رہتا ہے، وہ اندر ہی اندر سوالوں میں جلتا رہتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ آخر کب تک وہ ہی خود کو چھوٹا کرتا رہے۔ کب تک وہی بڑے دل والا بن کر اپنے زخموں پر خود مرہم رکھتا رہے۔ کب تک وہی اپنی انا کو مار کر دوسروں کی انا کے لیے جگہ بناتا رہے۔ کب تک وہ ہی اپنا درد چھپائے اور دوسرا اپنے رویے پر بھی نہ سوچے۔۔۔ آخر کب تک
یہ سوال ہر اس انسان کے دل میں اٹھتا ہے جو نرم مزاج ہے مگر مسلسل سختیوں سے دوچار ہوتا ہے۔ جو لوگوں کو موقع دیتا ہے مگر بدلے میں بے حسی پاتا ہے۔ جو رشتوں کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے مگر خود اندر سے ٹوٹتا جاتا ہے۔ لوگ اسے کہتے رہتے ہیں کہ برداشت کرو، مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس کی برداشت کا پیمانہ آخر کب خالی ہو جاتا ہے۔ کسی کو یہ فکر نہیں ہوتی کہ نرم دل کا ایک الگ درد ہوتا ہے۔ وہ بے آواز ہوتا ہے مگر باریک دھاگوں کی طرح دل کو کاٹتا رہتا ہے۔
رشتے ہمیشہ دو طرفہ ذمہ داری سے چلتے ہیں۔ جہاں ایک شخص احساس کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، وہاں دوسرے کو بھی احساس کے ساتھ جواب دینا چاہیے۔ اگر ایک ہی فرد ہر بار پیچھے ہٹتا رہے، ہر بار سمجھداری دکھائے، ہر بار اپنی انا قربان کرے، تو رشتہ مضبوط نہیں ہوتا بلکہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ احترام، سمجھ، احساس اور گفتگو دونوں جانب سے آئے تو تعلق پھولتا ہے۔ اگر ایک طرف سے ہی آئے تو وہ تعلق محض ایک بوجھ بن جاتا ہے۔
جذباتی استحکام اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے رویے کا جائزہ لے۔ جب وہ یہ سمجھے کہ کب اس کے الفاظ نے کسی کومجروح کیا، کب اس کے رویے نے کسی کو تنہا چھوڑا، کب اس کی بے حسی نے کسی کے دل کو تکلیف دی۔ مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب معاشرہ، خاندان یا دوست اسے اس طرف توجہ دلائیں۔ اگر سب اسے یہ کہہ کر خاموش رہیں کہ وہ ویسا ہی ہے، اسے برداشت کرو، تو وہ کبھی نہیں بدلتا۔
اسی لیے یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر ہمیں ہر بار بڑے دل والا کیوں بننا چاہیے۔ کیا صرف اس لیے کہ دوسرا جذباتی طور پر کمزور ہے یا اپنی غلطی ماننے کی ہمت نہیں رکھتا، یا اپنی انا کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ اپنی شخصیت کو دبا کر دوسروں کے رویے برداشت کریں۔ کیا یہ مناسب ہے کہ ہم اپنی حدود مٹا دیں صرف اس وجہ سے کہ کوئی اور اپنی حدود نہیں سمجھتا۔
اصل جواب شاید یہ ہے کہ بڑے دل والا ہونا اچھا ہے مگر ہمیشہ نہیں۔ انسان کو پہچاننا پڑتا ہے کہ کس کے لیے دل بڑا کرنا ہے اور کس کے لیے خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے دل بڑا کرنا نقصان دہ ہوتا ہے جو حساسیت کی قدر نہیں کرتے، جو سمجھداری کو کمزوری سمجھتے ہیں، جو برداشت کو اپنے غلط رویے کے لیے راستہ سمجھ لیتے ہیں۔
بڑا دل وہی خوبصورت لگتا ہے جہاں سامنے والے کے پاس بھی دل ہو، جہاں دونوں طرف سے احساس ہو۔ ورنہ انسان ٹوٹتا ہے، پگھلتا ہے اور آخر کار خود کو کھو دیتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں