میا خلیفہ/منصور ندیم

میا خلیفہ کا نام شائد کسی کے لیے بھی نیا نہیں ہوگا، یہ متحرک نیلی فلموں کی اداکارہ تھی، (یہاں تھی سے مراد ہے کہ میا خلیفہ پورن انڈسٹری کو خیر باد کہہ چکی ہیں) اس خاتون کا پورن انڈسٹری سے تعلق کا دورانیہ اتنا طویل مدتی نہیں ہے، جتنی شہرت اسے اس انڈسٹری میں اس کے نام اور جغرافیائی نسبت سے ملی تھی، کیونکہ بطور عرب سوسائٹی کے یہ ان چند ناموں میں سے ایک ہے، جس نے اس انڈسٹری کو بطور پیشہ اپنایا، میا خلیفہ مشرق وسطی سے تعلق کی بنیاد پر پورن انڈسٹری میں محدود کام کرنے کے باوجود شہرت کا دورانیہ جتنی جلدی طے کرگئی، اتنے وقت میں اس انڈسٹری سے شہرت بھی نہیں ملتی۔ انڈسٹری کو خیر باد کہنے کے بعد میا حلیفہ نے انٹرویو بھی دیا جس نے خاصی شہرت حاصل کی، اور میا خلیفہ نے اپنی زندگی بطور پروفیشنل ٹی وی اینکر اختیار کی۔ لیکن دنیا کے لئے یہ ایک بات حیرت کا باعث بنی جب پچھلے برس مئی سنہء 2023 میں میا خلیفہ کو برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی جانب سے عوامی لیکچر دینے کی دعوت دی گئی، اتنی معروف یونیورسٹی کے اس دعوت نامے نے عالمی سطح پر اس دعوت نامے کو ایک تضحیک کا معاملہ بنا دیا، کیونکہ کچھ لوگوں نے اسے تعلیم اور یونیورسٹی کے لئے توہین سمجھا، اس کے علاوہ یہ دلیل بھی بہت اہمیت رکھتی تھی کہ میا خلیفہ کے پاس ان یونیورسٹی کے طالب علموں سے کہنے کے لیے کچھ نہیں ہوگا اور ایسا تجربہ باوقار تعلیمی اداروں کے لیے کیا دلچسپی پیدا کرسکتا ہے؟

سچ تو یہ ہے کہ یہ خاتون، جو آج اکتیس برس کی ہے، اس کے پاس پوری دنیا کے لوگوں کے لئے اس ڈیجیٹل دنیا میں بہت کچھ کہنے کو ہے، اور اس نے یہ کرکے بھی دکھایا، وہ نئی نسل کے لئے چاہے وہ مغرب سے ہوں، یا دنیا کے مختلف حصوں کے نوجوانوں کے لیے ایک پیغام بن گئی ہے، ان لیکچرز میں میا خلیفہ کا سب سے اہم سبق جو نوجوانوں کے لئے شہرت کے سراب کے پیچھے بھاگنے کے خلاف تنبیہ تھی، اور پیسے کا حصول ہی وہ محرک تھا، جس نے اس لڑکی کے لیے، جو خود ابھی جوانی میں داخل ہوئی تھی، وہ اس بدنام زمانہ میدان میں آنے کے لیے قائل ہو گئی۔ میا خلیفہ نے یہ تو قبول کیا کہ اس نے انڈسٹری میں شمولیت اپنی رضامندی سے کی، لیکن دوسری طرف فحش نگاری کی دنیا سے جڑے لوگوں کی حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اس راستے پر چلتے ہیں، وہ ان کا مکمل انتخاب نہیں ہوتا، وہ معاہدے شدید دباؤ کے تحت ہوتے ہیں، کیونکہ پھر 20 سے زائد افراد کے سامنے ایک لاش کا استحصال کرنے کا انہیں قانونی حق حاصل ہوجاتا ہے۔ سالوں کے یہ ذلت آمیز معاہدے، عورتوں کے جسموں پر اختیار کو مسلط کرکے انہیں اس سب کے لئے محدود کر دیتے ہیں اور انہیں ایسے راستے پر چلنے پر مجبور کرتے ہیں جہاں سے واپسی نہیں ہوتی۔

اس انڈسٹری میں میا خلیفہ کی شہرت کی غیر معمولی مثال اس لئے ہے کہ وہ اپنی فلموں میں حجاب پہننے پر اعتراض نہیں کر سکتی تھی، شاید وہ اس مستشرقی دقیانوسی تصورات کی تمام باریکیوں اور جہتوں سے واقف نہیں تھی، لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ لاکھوں لوگوں کے جذبات کی توہین ہے، اس نے یہاں تک کہا کہ اس نے پروڈیوسرز کو بتایا کہ یہ لاکھوں لوگوں کے جذبات کی توہین ہے۔ یہ درست ہے کہ خلیفہ کے پاس اعلیٰ درجے کی ڈگریاں نہیں تھیں، جو اسے یونیورسٹی کے اشرافیہ کے طلباء کو روایتی لیکچر دینے کی اہلیت فراہم کرتی، لیکن اس کے پاس اس سے زیادہ اہم چیز ہے، جو ان مادیت پسند معاشروں میں نوجوانوں کو درکار ہے۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کا بنیادی خیال کہتا ہے کہ پیسہ کمانے والا ہر ایک ذریعہ درست ہے، اور اب بھی بہت سے لوگوں کے لیے قابل قبول ہوگا، مگر میا خلیفہ کے لیکچرز کا کمال تھا کہ اس نے اس منطق کو یکسر اخلاقی تبلیغ کے لحاظ سے نہیں، بلکہ نفع و نقصان کی منطق سے بیان کیا ہے، کہ اس میدان سے جو نفع حاصل ہو سکتا ہے، وہ زیادہ نقصان سے پورا ہوتا ہے، یہ لیکچرز صرف مغربی دنیا کے باسیوں سے متعلقہ نہیں، بلکہ “ٹک ٹاک” ویب سائٹ، اور دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر نظر ڈالنے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کتنی لڑکیاں اور خواتین کیا تلاش کر رہی ہیں؟ صرف شہرت اور آسان پیسے کے حصول کے لیے وہ فحش رقص یا غیر اخلاقی مواد فراہم کررہی ہیں۔ مغربی ممالک میں تو سوشل میڈیا نیٹ ورک پر ہی تقریباّپورن انڈسٹری کا سامان میسر ہونا شروع ہوگیا ہے، جو لوگ ذاتی دائرے میں کررہے ہیں، مگر کم ازکم پاکستان میں ابھی تک ان سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر لوگ صریح فحش مواد جمع بنانے کی ہمت نہیں کررہے، لیکن ایسے کلپس ضرور موجود ہیں، جو قریب قریب وہی منظر پیش کرتے ہیں, اور اسی نسبت سے توجہ مبذول کرواتے ہیں۔

میا خلیفہ کے لیکچرز اسی تصور کے بیان پر ہے، کہ لاکھوں لوگ ایسے ہیں جنہیں ان مناظر سے روکا جا سکتا ہے۔ وہ سچائی بیان کی ہے، جسے چھپایا نہیں جا سکتا، آج شاید ہی کوئی ملک سوائے اس کے جو ان سائٹس کے ساتھ اخلاقی اقدار کی بنیاد پر سختی سے نمٹتے ہیں اور انہیں اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں، ورنہ میا خلیفہ بھی اسی خیال کے ذریعے آسان پیسہ اور شہرت کی متلاشی تھی، فرق یہ ہے کہ اس وقت جب اس نے ایک فحش سٹار بننے اور مشرق وسطیٰ کے اپنے تعارف سے فائدہ اٹھانا قبول کیا۔ اس صنعت کے مالکان نے دیکھا کہ یہ تعارف دکھانے میں پرکشش ہو سکتا ہے، ظاہر ہے کہ میڈیا کو یہ تصور پیش کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ شہرت پیسے اور خوشی سے جڑی ہوئی ہے، اور یہ تصور پھیلانا آسان ہے، لیکن یہ ایک دکھی حقیقت پر مبنی ہے جہاں اعلیٰ ڈگریوں کے حامل افراد بھی بے روزگاری اور پسماندگی کی وجہ سے اس کا شکار ہیں، جب کہ دھوکہ دہی کرنے والے ایسے ادارے، آرٹ کے نام پر غیر مہذب مواد پیش کرنے کے لیے معاشرے میں سرفہرست رہتے ہیں، لیکن اس شعبے سے وابستہ ان افراد کی ذاتی زندگیوں پر ایک نظر ڈالنے سے اس وہم کی حقیقت سامنے آسکتی ہے، اصولوں اور اخلاقیات کو روند کر حاصل ہونے والی شہرت مطلوبہ خوشی فراہم نہیں کرتی، جتنا اس سے غم اور فرسٹریشن پیدا ہوتی ہے، حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ ایسے افراد سے  وابستہ لوگوں کو خودکشی کی طرف بھی لے جایا گیا۔

ویسے یہ موضوع حلال حرام اور جائز ناجائز سے بھی آگے جا کر دیکھا جائے تو بھی یہ ایک معاشرتی گمراہی کا ہی تصور ہے۔ بے  لاگ بات ہے کہ ہمارے ہاں بطور سازش بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ایسا توہین آمیز مواد نوجوان اور معاشروں کو کرپٹ کرنے کی نیت سے بنایا جاتا ہے ،ایک خیال یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ یہ سازشی تھیوریاں ہیں اور یہ اتنا برا نہیں ہے ، اس میں مبالغہ  آرائی کی جاتی ہے، ویسے اس تنازع سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ یہ اپنی اثر پذیری میں عوامی حلقوں پر مسلط ضرور ہو چکا ہے۔ اب تو عوامی حلقوں میں اس کام سے وابستہ لوگوں کو ایوارڈز اور شہرت بھی دی جاتی ہے لیکن درحقیقت وہ شہرت بطور  اوزار سرمایہ دارانہ نظام کی کرتا دھرتاؤں کی مرہون منت ہے، اور یہ لوگ صرف بطور اوزار استعمال ہوتے ہیں، میری نظر میں یہ آکسفورڈ جیسے تعلیمی ادارے کی کامیابی ہے کہ انہوں نے میاں خلیفہ کے لیکچر کا مقصد فحش نگاری کے میدان کو گلیمرائز کرنے کے بجائے، اس سے وابستہ لوگوں کو اسٹار سمجھنے کے برعکس ایک ایسے فرد کے طور پر   پیش کیا کہ وہ ان تاریک دنیاؤں میں داخل ہوئی تھی، اور کامیابی سے وہاں سے نکلی، لیکن تاریک  دنیا سے نکلنے کی اس نے نفسیاتی طور پر کتنی قیمت ادا کی ہے یہ ایک علیحدہ بات ہے، مزید یہ بھی ایک علیحدہ بات ہے کہ آج بھی پوری دنیا میں عرب نژاد میا خلیفہ کا نام پورنوگرافی کی دنیا سے جڑا ہوا ہے کیونکہ اس کا بنایا گیا مواد آج بھی متعدد ویب سائٹس اور پلیٹ فارم پر  موجود ہے۔ بہرحال جو لوگ میا خلیفہ کو کسی بھی اخلاقی موضوع پر بات کرنے کے لیے اخلاقی طور پر نا اہل سمجھتے ہیں، اس کی حالیہ وجوہات میں فلس-طین کی حمایت بھی شامل ہے۔ یہ حمایت میا خلیفہ کو بہت مہنگی بھی پڑی ہے، جس میں اسے کئی  کمپنیوں اور برانڈز سے  ان معاہدوں کو منسوخ کرنے پر مجبور کیا گیا، جنہوں نے اس کے ساتھ معاہدے کیے تھے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ کم از کم، میا خلیفہ کی اخلاقی پوزیشن اور پورن انڈسٹری کے نتائج سے حقیقتا آج کی دنیا کے ماہرین تعلیم، دانشور اور انسانی حقوق کے کارکن خوفزدہ ہیں، اس معاملے میں اس اخلاقی پوزیشن پر میا خلیفہ احترام کی مستحق ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

نوٹ : یہ میری رائے ہے ، ضروری نہیں کہ اس سے سب اتفاق ہی کریں، پوسٹ مذہب کی بنیاد پر نہیں لکھی گئی کیونکہ میا خلیفہ مذہب کے اعتبار سے عرب مسیحی ہیں۔ بلکہ انسانی قدروں کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply