کتاب : موپاساں، چھوٹی بڑی کہانیاں/ تبصرہ و انتخاب : مسلم انصاری

Guy de Maupassant
موپاساں 11 سال کا تھا اور اس کے والدین کے مابین مستقل علیحدگی ہوئی، 13 سال کی عمر میں اسے سرکشی کرنے پر تعلیمی خانقاہ سے نکال دیا گیا!

پیدائش : فرانس کے اشرافیہ خاندان میں 5 اگست 1850،
1869 میں پیرس سے قانون کی تعلیم، پھر فوج میں ملازمت، پھر نیوی کی انتظامیہ اور پھر وزارت تعلیم میں تبادلہ، دریاؤں سمندروں سے عشق یہاں تک کہ دریائے سین میں 50 میل تنہا کشتی رانی!

عمر کے بیسویں سال موپاساں کو معلوم ہوا کہ اسے بھی سفلس کی بیماری ہے، ان دنوں یہ آفت فرانس میں عام تھی، اور پھر دیوانگی کے دورے، 34 سال کی عمر میں اعصابی تناؤ کا مرض بھی لاحق ہوا، 1891 میں موپاساں کو مکمل جنون کی حالت میں پیرس کے شفاخانے میں داخل کیا گیا، 2 جنوری 1892 کے روز جب وہ اپنی بیمار ماں کے ساتھ ریویرا میں رکا ہوا تھا اس نے رات میں اپنا گلا کاٹ لیا، ڈاکٹروں کی بروقت آمد نے اسے بچا تو لیا مگر موپاساں کے اسی ذھنی اختراع نے 6 جولائی 1893 کو اپنی زندگی کے 43ویں سال سے ایک ماہ قبل اس کی جان لے لی
اور کہانی ختم!!

جہاں عہد آفرین ناول نگار اور “مادام بواری” کے خالق “فلابیر” کی شاگردی موپاساں کو حاصل رہی اور جہاں یہ بھی مانا جاتا ہے کہ موپاساں فلابیر سے متاثر تھا وہی موپاساں پر فلابیر کی ناجائز اولاد ہونے کا الزام بھی ہے!

موپاساں نے “ہوزے ماریا” کو ایک خط میں لکھا تھا :
“میں ادب کی دنیا میں ایک شہابِ ثاقب کی طرح نمودار ہوا ہوں اور بجلی کی کڑک کی مانند گزر جاؤنگا!”
موپاساں کا یہ خط سچ تھا، اس کا ادبی سفر فقط اور فقط دس برسوں پر محیط تھا، 1880 سے 1890 تک، ان دس سالوں میں اس نے انتہائی بے باکی سے شاعری، ناول، کہانیاں، افسانے اور سفرنامے تخلیق کئے اور پھر بجلی کی کڑک کی مانند پہلے دیوانگی اور بیماری میں مبتلا ہوا اور پھر موت کی کھائی میں جا گرا!
ان دس سالوں کے عرصے میں ہی اس کے 6 ناول اور 300 مختصر کہانیاں شامل تھیں
اس مذکورہ کتاب “موپاساں : چھوٹی بڑی کہانیاں” میں ایک ناولٹ بنام “چکنی” اور 41 کہانیاں درج ہیں، ناولٹ “چکنی” موپاساں کی پختگی پر اوائل میں ہی دلیل بن گیا تھا اور فرانس اس کے نام سے واقف ہوگیا تھا!

موپاساں اپنے دور کا آخری فطرت پسند یا قطعیت پسند تھا کہ اسے فطرت پسندی کا حرفِ آخر کہا جا سکتا ہے، اس نے ایسی کوئی چیز بیان ہی نہیں کی جو وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ چکا ہو! وہ لفاظی پر قطعی یقین نہیں رکھتا تھا اور اپنا مطلب واضح کرنے کے لئے سادہ سے سادہ پیرائے میں بیان کو ترجیح دیتا تھا!

موپاساں کے کردار : مختصر ترین کہیں تو “زندگی کی ستم ظریفی” اور “انسانی کمزوری” اردگرد منڈلانے والا ہر فرد موپاساں کا کردار ہے! مزید یہ کہ موپاساں کی دنیا کوئی پُپرمسرت جگہ نہیں ہے!!

گی دموپاساں نے لکھا تھا :
“کتنی مختصر ۔۔۔۔ کتنی لمبی ۔۔۔۔ زندگی کبھی کبھار کبھار کتنی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے، میں اکیلا ہوں ۔۔۔۔ سچ مچ اکیلا ۔۔۔۔ سچ مچ آزاد!”

مذکورہ کتاب سے اقتباسات :

وہ فاتحین جو اب شہر کے مالک تھے وہ جنگ کے قانون کے تحت زندگی اور موت کے بھی مالک تھے!

چونکہ ہم ہر روز ہی آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے ہیں اس لئے شاید ہمیں گزرتی ہوئی عمر کی شکست و ریخت کا اندازہ نہیں ہوتا!

کچھ لوگ تنہائی برداشت نہیں کرسکتے، میں بھی انہی لوگوں میں سے ہوں، شام کے وقت اپنے کمرے میں آتشدان کے سامنے اکیلا بیٹھنا میرے لئے کسی عذاب سے کم نہیں، میرے کمرے اور میرے ہمسائے کے درمیان جو دیوار ہے، وہ ہمسایہ جس کا میں نام تک نہیں جانتا، اس دیوار کے پار وہ مجھ سے اتنا ہی دور ہے جتنے میری کھڑکی سے جھلملانے والے ستارے!

آہ میرے دوست! اگر آپ اپنی زندگی سے تھوڑا بہت بھی پیار کرتے ہیں تو کبھی بھی پرانے کاغذات والی دراز کو نہ چھیڑیں، پرانے خطوط کے قبرستان میں قدم نہ رکھیں!

وقت کا مرہم بھی اس کے زخموں کو مندمل نہ کر سکا، دفتر میں جب اس کے سارے ساتھی گپ شپ میں مصروف ہوتے تو اس کی آنکھوں میں اچانک آنسو بھر آتے اور وہ سسکیاں لیکر رونے لگتا!

julia rana solicitors london

قریب کھڑے ہوئے ایک شخص نے کہا :
‘یہ تو مر گیا!”
ایک دوسرے آدمی نے جواب دیا :
“ہاں اب یہ خوش ہے!!”

Facebook Comments

مسلم انصاری
مسلم انصاری کا تعلق کراچی سے ہے انہوں نے درسِ نظامی(ایم اے اسلامیات) کےبعد فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی پہلی کتاب بعنوان خاموش دریچے مکتبہ علم و عرفان لاہور نے مجموعہ نظم و نثر کے طور پر شائع کی۔جبکہ ان کی دوسری اور فکشن کی پہلی کتاب بنام "کابوس"بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ مسلم انصاری ان دنوں کراچی میں ایکسپریس نیوز میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply