وقت را چون تیغ دان برّان و تیز – رومی/تحریر-احمر نعمان

یونانی فلسفہ میں وقت Chronos کا تعلق مادی کائنات سے جڑا رہا ہے اور یہ کائناتی اور طبیعی، ریاضیاتی مظہر جانا جاتا تھا۔ وقت ایسا پیمانہ ہے جس سے ہم حرکت /موشن یا تبدیلی ناپتے ہیں۔
استاد اول ارسطو نے وقت کو حرکت کی تعداد کہا • “Time is the number of motion according to before and after.” (Physics, Book IV)
1- حرکت نہ ہو تو وقت کا تصور ہی بیکار ہے اور
2- یونانی فکر میں وقت سیدھی لکیر میں چلتا ہے یعنی linear ہے۔

ہندوستانی فکر میں وقت / کال محض پیمائش نہیں بلکہ ایک ماورائی /کاسمک حقیقت ہے۔ یہاں وقت اننت endless ہے لیکن یہ سیدھی لکیر میں نہیں بلکہ چکر/ دائروی یعنی cyclic ہے۔ جنم ، ارتقا، اختتام اور پھر سے یہ سائیکل چلتا رہتا ہے، پھرجنم، ارتقا اور خاتمہ۔ وقت مایا ہے اور واحد حقیقی “وجود” برہمن وقت سے ماورا ہے۔

سائینس میں اگر نیوٹن کو دیکھیں ؛
“Time flows equably without relation to anything external.
یعنی وقت مطلق absolute ہے اور ایسا بہاؤ ہےجو ہر جگہ ہر شئی پر سے یکساں رفتار سے گزرتا جاتا ہے۔ مگر زماں اور مکاں time and space دونوں الگ الگ اور غیر متغیر ہیں ۔

افلاطون کا تصور ارسطو سے قدیم اور کچھ مختلف ہے، اپنے لافانی مکالمہ ٹائمس میں وہ وقت کو ابدی مثالی حقیقت کہتا ہے ، وقت ، خدا کی تخلیق ہے، یعنی کائنات اور وقت دونوں ہی خدا نے ایک ساتھ خلق کیے۔
Time is the moving image of eternity
اس مسئلہ کو معتزلہ نے مخلوق کہا اور کہا کہ یہ حادث ہے created in timeیعنی وقت خود کائنات کے ساتھ خلق کیا گیا اور خدا نے ایک خاص ترتیب temporal order میں حادثات پیدا کیے جن حادثات کا تسلسل وقت ہے، یعنی یہ وہی تبدیلی اور پیدائش کے ساتھ متعین ہے اگر حادثات روک دیے جائیں تو وقت بھی تھم جائے گا۔

اس تمام فکر میں وقت سیدھی لکیر میں چلتا ہے، یعنی linear ہے۔

آئن سٹائن پر آئِیں تو اس نے بتایا کہ وقت نسبتی relative ہے، مشاہدہ کرنے والے کی رفتار اور کشش ثقل کے لحاظ یہ بدل جاتا ہے، اس وقت کی سائینس میں spacetime کا تصور ہے جو کشش ثقل اور رفتار سے متعلق ہے۔ یہاں وقت ۴ ڈائمنشنل-4D ہے۔

جدید سائینس یا کوانٹم میں آئیں تو اب quantum time کا تصور ملتا ہے؛
یعنی وقت پہلے کی طرح مسلسل بہاو نہیں رکھتا نہ ہی وقت کائنات کا بنیادی جزو ہے اور مطلق یا نسبتی کی جگہ Emergent Property ہے جو اشیا کی حرکات اور تعلقات سے پیدا ہوتا ہے۔
نیوٹن کے ہاں وقت کا بہاؤ یکساں تھا، آئن سٹائن کے ہاں رفتار و کشش سے متاثر تھآ تو کوانٹم میں غیر یقینی، ابھرتا ہوا اور بعض اوقات عدم وجود ہے۔

آخری چیز، صوفیا کے ہاں ایک “سرالوقت” تصور ہے جہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی لمحہ میں جمع ہو جاتے ہیں، وہ آن، ابد بن جاتا ہے، امام شافعی اور ابن عربی دونوں سے منسوب ہے کہ وقت تلوار کی طرح ہے، ابن عربی نے کہا کہ وقت تلوار ہے، اگر تو نے اسے نہ کاٹا تو یہ تجھے کاٹ دے گا۔ رومی نے ایک شعر میں یہی بات کچھ یوں کی
وقت را چون تیغ دان برّان و تیز

julia rana solicitors london

اسی طرح رومی نے ایک اور جگہ کہا
“عارف آن است که از وقت درگذشت” – عارف وہ ہے جو وقت سے گزر جائے
یعنی لمحے کو تھام لیا تو زمان کی قید سے نکل گیا، یعنی کوانٹم لمحہ – ہر ممکنہ حالت میں موجود۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply