وہم اور حقیقت / جاویدایازخان

یہ میرے بچپن کا واقعہ ہے جب میں شاید چارسال کا ہونگا اور ہم ہنہ پور جہلم میں رہا کرتے تھے ۔وہاں ہنہ پور ریلوے اسٹیشن کی پرانی بلڈنگ کے ساتھ ہی ریلوے کے چند کوارٹر ہوا کرتے تھے ۔یہ ٹریک آرمی ڈپو کی جانب جاتاتھا ۔ہمارے ٔ ایک ہمساۓ راجہ صاحب نے عید کے لیے ایک کالا بکر اخریدا جو بڑا خوبصورت تھا اور ہم بچے دن بھر اس کے ساتھ کھیلتے رہتے تھے جبکہ شام ہوتے ہی اس کو اندر باندھ دیا جاتا تھا ۔ایک دن مغرب کے بعد جب اندھیرا پھیل چکا تھا میں گھر سے باہر نکلا تو اتفاق سے اس دن راجہ صاحب اسے اندر باندھنا بھول گئے تھے ۔اندھیرے میں وہ ایک دم میرۓ پیچھے آیا اور مجھے زور سے ٹکر ماردی ۔میں نے خوفزدہ ہوکر پیچھے دیکھا تو اندھیرۓ میں وہ مجھے کوئی سیاہ بلا جیسا لگا ۔میں خوف سے چیختا ہوا بھاگا تو وہ بھی میرے پیچھے بھاگا ۔خوف کے مارۓ میں بےہوش ہوکر گر پڑا ۔میری آواز سن کر امی جان فورا” باہر نکلیں اور مجھے اٹھاکر گھر لے آئیں بکرا راجہ صاحب نے لےجاکر باندھ دیا ۔ذرا ہوش آیا تو سب نے بتایا کہ وہ کوئی بھوت نہیں بلکہ وہی بکرا تھا جس کے ساتھ تم دن بھر کھیلتے ہو مگر میرے ٔذہن میں اس کا وہ اندھیرۓ والا ہیولا نہ نکلا ۔خوف کے مارۓ بخارچڑھ گیا اور بار بار خوف سے چیخ مارتا تھا ۔دو تین دن تک یہی حال رہا تو اباجی نےراجہ صاحب کو بتایا اور ایک صبح راجہ صاحب نے مجھے بلایا اور اپنا بکرا بھی لےکرآۓ جونہی بکرۓ کو دیکھا میں نے چیخنا شروع کردیا مگر راجہ صاحب نے بکرا کو پکڑ کر زمین پر گرادیا اور میرے سامنے چھری پھیر کر ذبح کردیا بکرے کا دم نکلتے ہی میرۓ ذہن کا خوف بھی نکل گیا اور میری طبیعت بھی ٹھیک ہو گئی ۔راجہ صاحب کہنے لگے بکرے کا خوف بچے کے ذہن میں بیٹھ چکا تھا ۔اس لیے بچے کا خوف دور کرنے کے لیے خوف کی وجہ اور بنیاد یعنی بکرۓ کی قربانی ضروری تھی ۔یقینا” وہ بکرے کا سایہ میرا وہم تھا اور اسکی زندگی کا خاتمہ حقیقت تھی ۔آج میں سوچتا ہوں کہ واقعی وہ بکرۓ کا خوف نہ تھا بلکہ میرے ذہن کا خوف اور وہم تھا جو بکرۓ سے منسوب ہوگیا یہی خوف بلی یا کتے کا بھی ہو سکتاتھا ۔اسی لیے کہتے ہیں کہ خوف وہ سایہ ہے جو اندھیروں میں لمبا ہو جاتا ہے جبکہ حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا ۔انسان اکثر ساۓ کو حقیقت سمجھ لیتاہے اور حقیقت کو دیکھنے سے پہلے ہی کانپ اٹھتا ہے ۔خوف کی بنیاد ہمیشہ مفروضوں پر ہوتی ہے ۔

کہتے ہیں کہ جب انسان نے پہلی بار پرندوں کو ڈرانے کے لیے اپنا ہی پتلا بناکر کھیتوں میں لگایا تو وہ جان گیا تھا کہ وہم حقیقت سے زیادہ خوف پیدا کرتاہے ۔انسان کی زندگی دو بڑی قوتوں کے درمیاں گزرتی ہے ۔خوف اور حقیقت ؟بعض اوقات خوف حقیقت سے کہیں زیادہ طاقتور دکھائی دیتاہے ۔حتی ٰ کے وہ چیزیں بھی ہمیں ڈرانے لگتی ہیں جو حقیقت میں ہمارے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ ہم نے خو دہی تخلیق کی ہوتی ہیں ۔خوف زندگی کا ایک سچ ہوتا ہے یا پھر خوف ہماری ایک قلبی کیفیت ہوتی ہے جو کسی ناپسندیدہ واقعہ کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہوتی ہے ۔خوف ایک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں ہے ۔خوف ایک احساس ہے جو دل کی دھڑکن ،دماغ کا ایک وہم یا نادیدہ خدشہ جو ہماری سوچ پر طاری ہوجاتاہے ۔یہ اکثر اندیشوں پر کھڑا ہوتا ہے اور شکوک پر بنتاہے اور بڑھتے بڑھتے ایک دیوار کی طرح رکاوٹ بن جاتا ہے ۔اکثر یہ خوف کی دیوار حقیقت سے نہیں ہمارے خیال سے تعمیر ہوتی ہے ۔جبکہ حقیقت وہ ہے جو ہوچکا ہے یا ہو رہا ہے یاشاید جسے دیکھا ،پرکھا یا چھوا بھی جاسکتاہے ۔حقیقت میں اکثر وہ ڈر کی شدت نہیں ہوتی جو ہمارے ذہن میں پھیلا خدشہ پیدا کرتا ہے ۔خوف اندھیرے میں شدت اختیار کر لیتاہے جبکہ حقیقت روشنی میں سامنے واضح ،سیدھی اور وزن دار کھڑی دکھائی دیتی ہے ۔خوف ذہن میں بنتاہےے جبکہ حقیقت زمین پر ہوتی ہے ۔جبکہ ذہن میں بنی اکثر چھوٹی چھوٹی چیزیں ہمیشہ بہت بڑی لگتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ انسان خوف کو حقیقت سے بڑا سمجھنے لگتاہے ۔ہمارا وہم ہی بسا اوقات معمولی سی چیز کو “بہت خطرناک ” بناکر ذہن کو پیش کرتاہے اور ایک انجانے سے ڈر کی کیفیت پیدا کردیتاہے ۔

ہمارۓ شہر میں ایک بزرگ غم دار حسین مرحوم ہوا کرتےتھے ۔وہ بےپناہ روحانی علم رکھتے تھے ۔خاص طور پر محرم کے دوران ماتم کرنے کے لیے جو ہتھیار استعمال ہوتے تھے وہ ان پر کلام اللہ پڑھ کر دم کرتے تھے تاکہ ان کے استعمال سے کوئی تکلیف محسوس نہ ہو اور ایسا ہی ہوتاتھا ۔وہ سانپ پکڑنے اور رکھنے کے بھی ماہر تھے اور ان پر سانپ کا زہر اثر نہ کرتاتھا ۔ایسے ہی وہ دم کرکے سانپ کو پکڑنا اور آگ پر چلنا بھی سکھاتےتھے ۔جس سے پاوں پر جلنے کی تکلیف نہیں ہوتی تھی اور سانپ بھی بےبس ہو جاتا تھا ۔ہم نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ آپ ان چیزوں پر کیا دم کرتے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے میں ان چیزوں پر نہیں لوگوں کے ذہنوں پر دم کرتاہوں ۔کبھی آپ نے سوچا کہ لوگ آگ پر ننگے پیر کیسے چلتے ہیں کہ انہیں تکلیف بھی محسوس نہیں ہوتی ؟یہ کوئی جادو نہیں یہ ذہنی توانائی اور جسمانی یقین کا کمال ہے جو بےشک کلام اللہ سے کیا جاتا ہے ۔میں اپنے مخصوص کلمات الہی سے ان کے ذہنوں میں ایک بلند جذبہ ڈال کر چھوٹا سا خوف نکال دیتا ہوں ۔آگ پر چلنا یا اپنے آپ کو ہتھیار مار لینا جذبات اور دماغی طاقت اور محبت کے اظہار کی انتہائی مشق ہے اس میں انسان دہکتے ہوۓ کوئلوں پر پاوں رکھتا ہے مگر پہلے وہ اپنے ذہن کو اس حد تک تیار کرتاہے کہ خوف کی لہریں خاموش ہوجائیں یہ تب ہی خاموش ہوتی ہیں جب آپ کے جذبات انتہائی بلندی پر پہنچ جائیں آپ کے اندر کا درد ،غم اور دکھ باہر کے درد اور دکھ سے بڑھ جاۓ ۔یقین ،محبت اور حالت وجد میں درد اور تکلیف کا احساس کبھی نہیں رہتا ۔

julia rana solicitors

وہم دراصل ذہن کا وہ عکس ہوتا ہے جو بیرونی دنیا سے زیادہ ہمارۓ اندر کے ڈر ، خوف ،ناامیدی اور پریشانی سے جنم لیتا ہے ۔بلکہ یہ حقیقت سے پہلے پیدا ہونے والا ایک اندازہ اور خدشہ ہوتا ہے ۔گویا ایک ایسا خیال جو ثبوت کے بغیر دل پر قبضہ کر لیتا ہے ۔وہم میں عموما” جذبات فیصلہ کرتے ہیں عقل نہیں کرتی ۔وہم مایوسی پیدا کرتا ہے اور مایوسی ناکامیوں کو جنم دیتی ہے ۔زندگی میں ایک اچھی زندگی جینے کے لیے مایوسی کے اندھیروں سے نکلنا ضروری ہے ۔جبکہ حقیقت وہ ہے جو موجود ہو ۔چاہے ہم اسے مانیں یا نہ مانیں ۔اسے سمجھنے کے لیے ہمت اور دیانت درکار ہوتی ہے اور اس کی بنیاد ثبوت ،مشاہدہ اور تجربہ ہوتے ہیں ۔مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان اکثر دونوں کو آپس میں گڈ مڈ کر دیتا ہے ۔اور وہم اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ حقیقت دب جاتی ہے اور کبھی حقیقت اتنی روشن ہوتی ہے کہ وہم خود بخود مٹ جاتا ہے ۔آج ہمارا نوجوان ایسے ہی وہموں اور خدشات کا شکار ہے جو انہیں مایوس اور ناامید کر رہے ہیں ۔صحت ،تعلیم ،روزگار اور ترقی کے بارۓ میں وہم کی بجاۓ حقیقت کو دیکھنا ضروری ہو چکا ہے ۔نوجوانوں کا ملک چھوڑنے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ایک جانب جاپان جیسا ترقی یافتہ ملک نوجوانوں کی قلت کا شکار ہے اور بوڑھوں کا ملک کہلانے لگا ہے تو دوسری جانب ہمارۓ ملک کی آبادی خوش قسمتی سے سترفیصد کے قریب نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کسی بھی ملک کے لیے ایک مضبوط مستقبل کی علامت ہوتے ہیں ۔وہم سے حقیقت تک کا یہ سفر صرف تین قدموں کا ہے ۔رک کر سوچنا ،تصدیق کرنا اور مشاہدہ کرنا یعنی سوچئے کہ ہماری مایوسی وہم ہے یا حقیقت ؟ کیا اس وہم ،اندازے یا خیال کے پیچھے کوئی ثبوت ہے ؟اور حقیقت کیا ہے ؟ جو لوگ وہم ،مایوسی اور حقیقت میں فرق کرنا سیکھ لیتے ہیں وہ زندگی کے فیصلے زیادہ بصیرت اور اطمینان سے کرتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری افرادی قوت اور وسائل ہمیں بہتر مستقبل کی نوید دۓ رہے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حقیقت کا ادراک ان تک پہنچایا جاۓ کہ مستقبل بوڑھوں کا نہیں نوجوانوں ہوتا ہے کیونکہ وہ جدجہد کرنا جانتے ہیں ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply