لاہور سمیت پنجاب بھر میں خوف کا عالم ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر،ٹریفک پولیس نے زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہوا ہے۔ بھاری جرمانے،ایف آئی آرز کی بھرمار اور گرفتاریاں زوروں پر ہیں ۔ تھانے موٹر سائیکلوں سے بھر چکے ہیں ۔
میں ہڈی جوڑ کا ڈاکٹر ہوں۔ ایمرجنسی میں روزانہ کتنے لوگ روڈ ایکسیڈنٹ کیبعد آتے ہیں ۔اکثر جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ نوجوانوں کی اکثریت سے پوچھو تو لائسنس نہیں ہوتا۔
مجھ سمیت ہر باشعور پاکستانی خوش ہے کہ ایسا ہو رہا ہے کہ اس سے ٹریفک کے مسائل سے جان چھوٹ جائے گی جبکہ ہمیں علم ہے کہ ایسا کچھ ہونے والا نہیں ۔ ستم یہ ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ کوئی نہیں دیکھ پا رہا۔
مثال کے طور پر،میں گوجرہ سے ہوں۔ میرے شہر کو کافی گاؤں لگتے ہیں، نوے فیصد طلباء سکولز / کالجز میں پڑھنے کے لئے گوجرہ آتے ہیں ،یقین مانیے وہ طیاروں کی چھتوں پر لٹک کر آتے ہیں ۔ فیمیل طلبہ کو تو تھوڑی بہت سیٹ مل جاتی ہے،میل سٹوڈنٹس کا پرسان حال کوئی نہیں ۔ اب وہ بائیک پر آتے ہیں ۔ آپ نے انہیں ٹریفک رولز کے متعلق آگاہی ہی نہیں دی اور ان پر ایف آئی آر درج کروا دی۔
بجائے اسکے،آپ عوام کو بتاتے کہ ہم نے ایک مہینے کے بعد کریک ڈاؤن کرنا ہے۔تب تک اپنے اپنے لائسنس بنوا لیں،ٹریفک قوانین پڑھ لیں،ہیلمٹ خرید لیں۔اگر ایک مہنے کے بعد آپ نے کوئی بھی قانون توڑا ،آپ پر مقدمہ درج ہو گا۔ لیکن بنا کوئی ہوم ورک کیے آپ نے سبھی کو تھانوں میں بند کر دیا۔
بھائی ایک گاؤں کا طالبعلم،جسے پتا ہی نہیں کہ لائن ڈسپلن کیا ہے،آپ نے ایف آئی آر درج کروا دی،یہ بھی نا سوچا کہ کل کو یہی ایف آئی آر اس کے مستقبل سے کھلواڑ کرے گی۔ ہونا چاہیے تھا کہ ہر یونین کونسل میں ٹریفک پولیس کی گاڑی جاتی،انکے لرننگ لائسنس ایشو کرتی اور بعد میں ریگولر لائیسنس بن جاتا ۔
لیکن اس حکومت کے مشیران کی عقل پر صدقے، انہوں نے سب کچھ الٹا کر دیا۔ آپ نے جرمانہ کر دیا،یہ بتانا مناسب ہی نہیں سمجھا کہ یہ قانون توڑا ہے،اسکے بعد پتا چلتا کہ ایسا نہیں ایسا کرنا ہوتا ہے۔ عوام کو پتا ہی نہیں،اور آپ انہیں ایف ائی آر کا تحفہ دے رہے ہیں ۔ یہی حالات ہر قصبہ، دیہات سے ہیں۔ اب عوام ڈر کے مارے لائیسنس بنوانے جا رہی ہے اور راستے میں انہیں روک کر ایف آئی آر کا تحفہ دیا جا رہا ہے۔
کچھ ایسے نوجوان بھی ہیں،جنکے والد حیات نہیں، کچھ کے روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک ہیں۔ گھر کی زمہ دایوں کا بوجھ ان کے کندھوں پر ہے۔ بائیک لیکر گھر کا سازوسامان لیکر آیا۔ لائسنس نہیں تھا،پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور بائیک ضبط کر لی،اب انکا پرسان حال کون ہو گا؟ کون ضمانت کروائے گا؟ بنا کوئی پالیسی بنائے،آپ نے عوام کو مجرم بنا دیا۔
پاکستان میں بے ہنگم ٹریفک ہے، لوگ روڈ حادثات کی وجہ سے جان سے جاتے ہیں،مجھے ہر بات کا علم ہے۔ تو کیا بھاری جرمانوں،آیف آئی آرز اور حوالات میں بند کرنے سے یہ مسئلہ ٹھیک ہو جائے گا؟؟ جواب ہے نہیں ۔ آپ جتنی مرضی سختی کر لیں،عوام کی آپ سے نفرت زیادہ ہی ہو گی کم نہیں ۔
بانو قدسیہ مرحومہ نے کہا تھا کہ کھبی کھبار ہم ٹھیک ہوتے ہیں،لیکن ہمارا بات کرنے کا طریقہ صحیح نہیں ہوتا ۔ پنجاب حکومت نے بھی یہی کیا ہے۔ ایک صحیح کام کرنے کو غلط انداز میں کر کے عوام کو اس فارم 47 والی حکومت سے مزید متنفر کر دیا ہے۔
جرمانے کریں،ایف آئی آردرج کریں۔ ایسا ہونا چاہیے ۔ لیکن کوئی میکنزم تو بناتے نا پہلے ۔ نا کوئی پراپر کمپین،نا کوئی ہوم ورک۔۔بس پکڑ دھکڑ شروع ! جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ اب لوگ بیرون ممالک کی مثالیں دیں گے۔ بھائی انکے جیسا روڈز،انفراسٹرکچر تو بنا لو،انکے جیسی آگاہی تو دو۔ ان جیسی سہولیات تو دو پہلے ۔ جرمانے لندن والے اور سہولیات یوگنڈا سے بھی بدتر۔
کوئی بھی باشعور پاکستانی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سپورٹ نہیں کر ریا،لیکن جو طریقہ کار ٹریفک و پنجاب پولیس نے اپنایا ہے وہ کسی بھی طرح پر قابل قبول نہیں ۔ ہیلمٹ نا پہننے، روڈ قوانین پر عمل نا کرنے پر ایف آئی آر کاٹ کر مقدمے قائم کر کے جیلوں میں بند کر دینا کسی بھی قانون میں نہیں لکھا اور نا ہی کسی مہذب معاشرے میں ایسا ہوتا ہے۔
اس کا آسان حل یہ ہے کہ نادرا سے اشتراک کر کے ٹریفک پولیس ہر یونین کونسل میں جا کر لوگوں کو لرنز لائسنس جاری کرے،چالیس دن وہ بعد ٹرائی دیکر پرماننٹ لائسنس حاصل کریں۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کروانے کے لئے پراپر ٹریفک آگاہی مہم شروع کی جائے.( جیسے ڈینگی کے وقت تب کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے چلائی تھی)۔
پراپر آگاہی مہم کے بغیر،یہ بلاوجہ کی پکڑ دھکڑ، حوالات میں بند کرنے سے حالات مزید خراب ہوں گے اور عوام پر ضمانتوں کا مزید مالی بوجھ پڑے گا جو کہ مہنگائی میں پستی عوام کے لئے کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہو گا۔ ایک اچھے کام کو بنا پلاننگ کے کرنے کی کوشش میں مزید بگاڑ دیا گیا ہے جس نے پنجاب حکومت کے مشیران کی نااہلی کو روشن دن کی طرح عیاں کر دیا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں