بتائیے کہ ایک دور تھا جب کتابوں کے حوالے سے بھی یہ بحث رہتی تھی کہ کون سی پڑھی جائیں اور کون سی نہ پڑھی جائیں اور اسی تناظر میں اکبر الہ بادی کہہ اٹھے کہ:
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
اور اب ایسا دور ہے کہ کتاب کا قاری نا پید ہے، اور جو قاری ہے وہ اتنا جکڑا ہوا ہے کہ سوائے ایک خاص دائرے کے وہ کتابوں کو جانتا تک نہیں، یعنی ایک خاص مضمون لے لیا، یا خاص زاویہ نظر مقرر کر لیا اور اب اس سے نکلنا ہی نہیں۔۔۔۔۔
یعنی آپ دیکھئے کہ جس کا رجحان ذرا شعر وادب کی طرف ہے وہ صرف شعر وادب تک ہی محدود ہے، اس نے جید علماء کی کتابیں پڑھنے کا کبھی سوچا بھی نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ ادب تو جانتا ہے، اور معاشرے کو دیکھتے ہوئے ادب لکھنے بے بیٹھتا ہے تو معاشرے میں رائج دینی معاملات کو بھی زیرِ قلم لاتا ہے، لیکن دینی حوالے سے مطالعہ کی کمی اس کی ادبی کاوش کے با وجود اس پوری تصنیف کو غیر معتبر کر دیتی ہے، اور جائے یہ کہ وہ تصنیف نمائندہ کردار ادا کرے، الٹا خود ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔۔۔
یہی حال دوسرے طبقے کا ہے، جو ادبیات کا شغف نہیں رکھتے، صرف ایک خاص دائرہ کار میں مذہبی کتب کا مطالعہ رکھتے ہیں اور شعر وادب کو “لا مساس” کہہ کر اور دمِ مسفوح سمجھ کر ہجرا مہجورا کر جاتے ہیں، اور پھر جب ان کے قلم سے کوئی بات نکلتی ہے تو ادب کی چاشنی سے خالی ہوتی ہے، اور یوں ایک آسان موضوع بھی ثقیل ہو جاتا ہے، حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی مشکل موضوعات کو بھی ادبی پیرائے میں ڈھال کر، روز مرہ، ضرب المثل، محاورات اور اشعار وتلمیحات کا سہارا لے کر آسان بنا دیا جاتا کہ ہر قاری کی اس تک رسائی ہوتی، لیکن جب جب مطالعہ کے باب میں وسعتوں کو تنگ کیا گیا۔۔۔

نتائج یہی نکلے کہ جو دین سمجھتے ہیں وہ ادبی لطف سے بالا ہیں۔۔۔
اور جو ادبیات تک محدود ہیں ان کو ذرا دینی پیرائے میں کہی گئی بات سمجھ نہیں آتی، اس لئے لازم ہے کہ مطالعہ کو وسعت دی جائے اور ہر دو طرح دینی اور ادبی مطالعہ میں اعلی پیرائے کی تصانیف اور مصنفین کو پڑھا جائے اور سمجھا جائے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں