محبت کا تکون: خوشی، غم اور تخلیق؛فرانسیسی ناول نگار اور ڈراما نویس سٹیندال کہتے ہیں کہ میں نے زندگی میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جو مجھے خوشی نہ دیتا ہو، اور کام انہوں نے صرف ایک ہی کیا کہ صنف نازک بارے اپنے نفسیاتی اور جسمانی تجسس کی تسکین کرتے رہے، یہ اور بات کہ وہ کسی بھی خاتون کو اپنا بنانے میں ناکام رہے، ان کے اقارب کا کہنا ہے کہ انہوں نے زندگی میں سٹیندال کو کبھی خوش نہیں دیکھا، یعنی تضاد دیکھئے کہ مصنف خود کہہ رہے ہیں کہ وہ صرف وہی کام کرتے ہیں جو انہیں خوشی دیتا ہے یعنی محبت کرتے رہے اور ان کا مشاہدہ کرنے والے کہتے ہیں کہ زندگی میں وہ کبھی کوئی خوشی نہ پا سکے، گویا محبت کرنے کی خواہش خوشی دیتی ہے مگر محبت کا عمل پیچیدگیوں کا باعث بھی ہے ۔ سٹیندال کئی بار محبت کرنے کے باوجود اپنی کسی بھی من پسند خاتون کا دل نہ جیت پائے۔
یہی بات معروف موسیقار موزارٹ کے متعلق کہہ جاتی ہے کہ وہ زندگی کا کوئی لمحہ خوشی میں نہ گزار سکے ، موزارٹ ویسے دنیا کی کسی چیز میں دلچسپی نہ رکھتے تھے، کسی علم، تاریخ، فلسفہ ، ادب وغیرہ سے کوئی شغف نہ تھا، بس موسیقی بجاتے تھے اور تمام عمر اداسی اور غم میں گزاری کیونکہ جس لڑکی سے وہ محبت کرتے تھے وہاں سے کوئی مثبت جواب نہ پا کر اسی لڑکی کی بہن سے شادی کر ڈالی اور پھر کبھی مسکراتے نہیں دکھائی دیئے ۔
امریکی نفسیات دان جیمز ہیلمن نے یونانی اساطیر کو لے کر ایک خوبصورت تکونی مباحثہ چھیڑا ہے، جس میں ایک طرف محبت و جنس کا دیوتا ایرس(Eros) ہے اور دوسری طرف اس کی محبوبہ سائیکی (روح – Psyche) ہے، جبکہ تکون کے تیسرے سرے پر ایرس کی ماں ایفریدیت ہے جو حسن و خوبصورتی کا دائمی استعارہ ہے۔
جیمز ہیلمن کے مطابق سائیکی دیوی یعنی روح فانی ہے اور یہ دیوی محبت کو پا کر لافانی ہونا چاہتی ہے، لیکن ایرس کی ماں ایفریدیت اس ملاپ سے پہلے روح کو آزمانا چاہتی ہے کہ روح اس محبت کو پانے کے قابل ہے بھی یا نہیں کہ اسے لافانی بنا دیا جائے، ایفریدیت یہاں ساس بھی ہے، رقیب بھی اور ان تمام سماجی رکاوٹوں کا اشارہ بھی جو محبت کرنے والوں کو جھیلنا پڑتی ہیں ، سائیکی دیوی کبھی ایرس کے قدموں میں گڑگڑا رہی ہے، کبھی ایرس اس پہ تیر برسا رہا ہے اور کبھی سائیکی دیوی کو صلیب کی کرب و بلا سے گزارا جاتا ہے، ہیلمن کہتے ہیں کہ یہ داستان بتاتی ہے کہ محبت کو پانے سے پہلے روح کو ہر طرح سے آزمایا جائے گا، ممکن ہے کہ زندگی بھر مصائب و آلام سے گزرنا پڑے ، روح اگر اس بلوغت کو پالے جو ملن کیلئے ضروری ہے تو محبت مل جائے گی، ورنہ بقول شخصے ” زندگانی کا سفر رائیگاں تو ہے ” ۔ زندگی محبت کے بغیر بہت آسان ہے مگر پھر اسے زندگی کہنا شاید زندگی کی توہین ہے ۔ اور روح اگر بلوغت سے پہلے ہی کسی شخص کو پانے کی خواہش ظاہر کرے تو اس کا مقصد محبت نہیں ، فقط اس پسندیدہ شخص پہ اقتدار/کنٹرول حاصل کرنا ہے، کب اور کہاں کس سے محبت ہو جائے اس کا اختیار بھی گاہے فرد کے ہاتھ میں نہیں ہوتا، ہیلمن کے الفاظ میں تیر وہیں گرتا ہے جہاں اسے گرنا ہے، ہم صرف اس کے گرنے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔
خلیل الرحمٰن قمر کہتے ہیں کہ محبت کبھی یکطرفہ ہو ہی نہیں سکتی، محبت صرف وہی ہے جو دو طرفہ ہو، حیرانی ہے کہ اتنا بڑا ڈراما نگار ایسی بات بھی کر سکتا ہے، محبت یک طرفہ بالکل ہو سکتی ہے اور شاید محبت کرنے والوں کی بھاری تعداد اس سانحے میں گرفتار ہے، سائیکی (روح) تمام آزمائشوں پر پورا اترتے ہوئے اگر ایرس کے قابل ہو جائے اور تصور کیجئے کہ ایرس اس کو نہ چاہ پائے تو سائیکی کیلئے معاملہ بھاری پڑ سکتا ہے ( سائیکی اور ایرس کو مذکر موئنث تک محدود نہ رکھا جائے )، ایرس کے ہاتھوں زخم کھائی ہوئی روح پھر کہیں چین نہیں پاتی ، ایسے میں پھر اگر سائیکی کی شخصیت کمزور ہے تو منشیات ، جوا، دائمی ڈپریشن ، ذہنی اور جسمانی بیماریاں یا خدانخواستہ خودکشی تک معاملہ جا سکتا ہے، سائیکی اپنی ذات میں مضبوط ہے تو ممکن ہے کہ وہ اس تکون کو توڑتے ہوئے ایک بڑے درجے کی تخلیق کار بن کے سامنے آئے، دنیا میں اکثر تخلیق کار ایسے ہی ہیں جو ایرس کے ٹھکرائے ہوئے ہیں ، سٹیندال اور موزارٹ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔
اس تکون میں ایفریدیت کا کردار اور اس کی حیثیت وسیع المعانی ہے، یہ رقیب بھی یے، حاسد بھی اور سماجی مشکلات کی علمبردار بھی جو محبت کرنے والے شخص ( سائیکی ) کیلئے ہر قدم پہ مشکلات پیدا کرتی ہے، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دوطرفہ محبت میں غرق ہیں لیکن یہاں معاملہ تھوڑا یوں ہے کہ بعض اوقات دو محبت کرنے والے خود ہی مسائل کی تلاش میں رہتے ہیں، کیونکہ ذہن کا وہ نصف جو تخلیقی اور جمالیاتی صلاحیتوں سے مالا مال ہے وہ تو محبت پا کے خوش باش ہے مگر دماغ کا وہ نصف جو منطق اور تجزیاتی مہارت رکھتا ہے، اسے بے سکونی رہتی ہے کہ ہماری طرف توجہ نہیں دی جا رہی، یہیں سے پھر عاشق اور معشوق ایک دوسرے کی ٹوہ میں نکل کھڑے ہوتے ہیں، بے وجہ اپنے لئے مسائل گھڑتے ہیں، الزام تراشیاں ، ناراضگیاں و دیگر واہیاتیاں سامنے آتی چلی جاتی ہیں تاکہ تکون برقرار رہے، نتیجے میں تعلق کسی گہری دراڑ کہ نظر ہو جاتا ہے۔ دو محبت کرنے والوں کو چاہئے کہ اگر تعلق میں محبت اور اعتماد ہے تو پھر اپنے تجزیاتی ذہن کو کسی دوسری سمت مصروف رکھیں کہ اس کی بنائی تکون کو توڑنا پھر آسان نہیں ہوتا ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں