جمہوریت و آمریت میں گِھرا میرا وطن۔۔۔۔ڈاکٹرندیم عباس/قسط2

جمہوریت و آمریت میں گھرا میرا وطن۔۔۔ڈاکٹر ندیم عباس/قسط1

جنرل ایوب خان کے دور کو ہمیشہ ڈیموں اور نہری نظام کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ منگلا اور تربیلا جیسے بڑے ڈیم بنائے گئے اور  نہری نظام میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔ اس پر پھر کبھی لکھیں گے کہ اس کی اصل وجہ پنجاب کے تین دریاوں کی فروخت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال تھی، جس کی وجہ سے یہ ڈیم بنانے پڑے۔ جنرل ایوب کا دور شدید سیاسی گھٹن کا دور تھا، اس دور میں اخبارات پر شدید پابندیاں عائد رہیں، سیاسی کارکنوں کو جبر مسلسل کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل ایوب خان کے دور تک کسی سیاسدان پر کرپشن کا کوئی الزام سامنے نہیں آیا، اس لئے سیاسدانوں کو ہمیشہ وطن دشمن اور غدار ہونے جیسے سنگین الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ایوب خان نے پاکستان کے سیاسی نظام میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے مشرقی اور مغربی پاکستان کے نام سے پاکستان کے دو حصے کر دیئے۔ اس  تقسیم میں مشرقی پاکستان کے ساتھ یہ زیادتی کی گئی کہ ان کی آبادی زیادہ ہونے کے باوجود ان حق نمائندگی برابر رکھا گیا۔ پاکستان مخالف عناصر نے اس  بات کو بہت اچھالا اور عام بنگالی بھی اس سے متاثر ہوا کہ ان کو برابر کا پاکستانی تسلیم نہیں کیا گیا۔ مسلسل لمبے عرصے تک حکمران رہنے کی وجہ سے عوامی سطح پر جنرل ایوب کی فوجی حکومت کے خلاف ایک نفرت پیدا ہوچکی تھی، شملہ معاہدہ وہ پہلی چنگاری بن گیا جس نے ایوب خان کو استعفٰی دینے پر مجبور کر دیا، اس پوری تحریک کے روح رواں ایوب خان کی کابینہ کے ممبر ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

یہاں ایک اہم سوال کا جواب دینا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور بڑی تعداد میں سیاستدانوں نے فوجی سائے میں سیاست کیوں شروع کی؟ نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور اس طرز کے کافی لوگ ہیں، جنہوں نے اپنی سیاست کا آغاز  ضیاء الحق کے آمرانہ دور سے کیا، اس کی کابینہ میں رہے یا پارلیمنٹ میں رہے۔ اسی طرح سیاستدانوں کی ایک کھیپ ایسی ہے، جو فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں قائم بلدیاتی نظام سے سامنے آئی مصطفٰی کمال، سردار غلام عباس، نعمت اللہ اور اس قبیل کے کافی لوگ ہیں، جو اس وقت سیاسی قیادت کی تیسری لائن میں آتے ہیں، مگر اپنے اپنے اضلاع میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی بہت سی نشستوں پر  اثر انداز  ہوتے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس وقت موجود قیادت کی تینوں لائنز  آمریت کے دور میں سیاست میں آئے سیاستدانوں پر مشتمل ہیں۔

عوامی سطح پر بھی اور بعض لکھنے والے بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ  ان سب نے مارشل لاء میں سیاست کا آغاز کیا اور یہ آمروں کے دست و بازو بنے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ بہت سادہ سی ہے، پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ قیام پاکستان سے پہلے کی سیاسی قیادت بے بس ہوکر پس منظر میں چلی گئی اور قائد اعظم و لیاقت علی خان دنیا سے رخصت ہوگئے، تھوڑے عرصے بعد لمبے عرصے کے لئے فوج آگئی اب وہ لوگ جو سیاست کرنا چاہتے ہیں، ان کے پاس کیا آپشنز رہ جاتے ہیں؟ ان کے پاس یہی آپشن  ہوتا ہے کہ فوجی آمروں نے جیسا بھی نظام قائم کیا ہے، وہ اس کا حصہ بن جائیں اور سیاسی آزادیوں کے لئے سفر کو جاری رکھیں یا پھر مارشل لاء سے ٹکرا جائیں۔ ایوب خان کے دور تک کیونکہ سیاسی جماعتیں مضبوط نہ تھیں، اس لئے مغربی پاکستان کی حد تک کچھ سیاستدانوں کو چھوڑ کر اکثریت ایوب کے ساتھ چلی گئی، مگر اس کے باوجود محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں ایک مضبوط جمہوری آواز پاکستان میں جمہوریت کے لئے مسلسل بلند ہوتی رہی۔

سیاستدانوں کی اکثریت کے آمریتوں کی کابینہ اور ضلعی حکومتوں سے نکلنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاست ہر دور میں حالات کے تقاضوں کے مطابق بہتری کا راستہ تلاش کرنے کا نام ہے، جس میں اپنے نظریئے کے مطابق ملک و قوم کی بہتری کے لئے کوشش کی جاتی ہے۔ اب ہر دور کا تھوڑا تھوڑا جائزہ لیتے ہیں کہ اس میں سیاستدانوں کے پاس کیا  آپشنز تھے اور انہوں نے کن کو اختیار کیا؟ ایوب خان کے دور میں  سیاسی گھٹن عروج پر تھی، اس وقت تین طرح سے سیاسدانوں نے اپنے لئے راستہ نکالا۔ ایک گروہ جن کی سیاست کو پسندیدہ ترین اور  اصولی قرار دیا جا سکتا ہے، وہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ تھا اور ایوبی آمریت کے سامنے سینہ سپر تھا، جس کی انہوں نے قیمت چکائی۔ دوسرا گروہ بنگال میں مرکز گریز قوتوں کا تھا، جنہیں سیاسی طور پر بہتر انداز میں ڈیل کیا جاتا تو حالات بہت بہتر ہوسکتے تھے، مگر وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا، وہ لوگ ہم سے الگ ہوگئے۔

تیسرا گروہ ذوالفقار علی بھٹو کا تھا، جو جنرل ایوب کی کابینہ میں تھے، مگر جب اسی کے دور میں ایوب کی آمریت کے خلاف نکلے تو مزاحمت کی علامت بن گئے، حب الوطنی کی جس تلوار سے سیاستدانوں کو  غدار وطن کہہ کر پس زندان ڈال دیا جاتا تھا، بھٹو نے اس تسلیم شدہ قومی بیانیے کا خوب استعمال کیا اور ایک زبردست عوامی تحریک پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ دی۔ یہ بھٹو کی تحریک تھی کہ اسلام آباد کی چند وزارتوں میں ملکی تقدیر کے فیصلے کرنے والوں کو گلی گلی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور عوامی شعور نے حقوق کی آگاہی کا انقلاب برپا کر دیا۔ جنرل کی کابینہ سے سیاست میں وارد ہونے والے بھٹو جمہوریت اور عوامی حقوق کی آواز بن گئے۔ اکہتر کے درد ناک سانحے کے بعد یہ کٹا پھٹا ملک بھٹو کو ملا، جس نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے اس ملک میں انقلاب برپا کر دیا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کا کامیاب انعقاد بھٹو کا عروج تھا۔

کسی جگہ پڑھ رہا تھا، مصنف نے لکھا تھا کہ میں بھٹو سے ملا اور کہا کہ بھٹو صاحب اپنی رفتار ذرا کم کریں، کہیں بوٹوں والے نہ آجائیں تو بھٹو صاحب نے جواب دیا، میں نے تمام آمروں کو پڑھ رکھا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ آمر کن غلطیوں کے نتیجے میں مسلط ہوتے ہیں، میں وہ غلطی نہیں کروں گا۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں خاموش ہوگیا اور دل میں سوچا بھٹو صاحب آپ پرانی کوئی غلطی نہیں کریں گے، مگر کیا گارنٹی ہے کہ آپ نئی غلطی بھی نہ کریں؟ یہی ہوا بھٹو صاحب نے نئی غلطی کی اور ملک آمریت کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب کے خلاف جو پوزیشن لی تھی، بھٹو صاحب نے وہی اختیار کر لی۔ یہ ایک حقیقت ہے، سیاستدان جتنا جلد سمجھ لیں بہتر ہوگیا کہ ان کی قوت و طاقت اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیاں نہیں بلکہ عوامی طاقت ہے، اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے وہ شارٹ کٹ طریقے سے اقتدار تک تو پہنچ سکتے ہیں، مگر اختیار تک کبھی نہیں پہنچیں گے۔ سیاستدانوں نے ایوب دور میں اپنے لئے تمام ممکنہ راستے بنانے کی کوشش کی۔

ضیاء الحق کی آمریت کا آغاز تین ماہ میں الیکشن کرانے کے حسین و جمیل وعدے سے ہوا، یہ وعدہ نہ پورا ہونا تھا اور نہ ہوا۔ اس لمبی آمریت میں  ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے گئے۔ ضیاء الحق کے بہت سے جرائم ہیں  اور اس کا سب سے بڑا جرم  سیاست میں مذہب کا بے دریغ اور غلط استعمال ہے۔ افغانستان  میں روسی مداخلت اور پاکستان کے امریکی گروپ میں شمولیت کے بعد بین الاقوامی سطح پر آمروں کو درپیش مشکلات بھی ختم ہوگئیں۔ ضیاء الحق نے وطن عزیز کے سوشل نظام کو تباہ  کر دیا، نوجوان نسل کو نشہ جیسی لعنت کا تحفہ ملا، اہل مدرسہ جن کا کام درس و تدریس اور وعظ و نصیحت تھا ،ان کے ہاتھوں میں  کلاشنکوف پکڑا دی گئی، میڈیا کا گلا گھونٹ کر سچ بولنے والوں کو کوڑے مارے جانے لگے۔ ضیاءالحق کے دور میں سیاسی کارکنوں نے بہت قربانیاں دیں، جیلوں سیاسی قیدیوں سے بھر گئیں، آئے روز انہیں کوڑے مارے جاتے تھے، جماعتی سرگرمیاں بھی بند کرا دی گئیں، یہاں تک ظلم و جبر اختیار کیا گیا کہ سیاسی ورکروں کی بڑی تعداد جلا وطنی پر مجبور ہوئی۔ مزاحمت کی علامت ذوالفقار علی بھٹو کو ایک فرضی مقدمے میں سزائے موت سنا کر جمہوری تاریخ کا ہیرو بنا دیا گیا۔ ضیاء الحق کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی مزاحمت کرتی رہی اور یہی درست پوزیشن تھی۔

نواز شریف اور اس طرح کے دیگر سیاستدانوں نے اسی دور میں سیاست کا آغاز کیا اور یہ لوگ ضیاء الحق کی بی ٹیم تھے۔ ضیاء الحق نے انہیں بھٹو اور دیگر مزاحمتی سیاستدانوں کے خلاف استعمال کیا۔ ضیاء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کرائے اسے خوف تھا کہ جماعتوں کی بنیاد پر ہونے والے انتخابات میں پی پی پی جیت جائے گی۔ انہی انتخابات کے نتیجے میں جونیجو وزیراعظم بنے اور جب انہوں نے ووٹ کی طاقت سے آنے کے زعم میں اختیار مانگنا شروع کیا تو فوراً ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ ضیاء کے مشکل ترین دور میں بھی سیاستدانوں نے کوڑے کھا کر بھی عوامی حق کی بات کی۔ نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی یہ لوگ ووٹ لیکر آئے اور کوشش کرتے رہے، جتنا ہوسکے اختیار عوامی نمائندوں کو ملے۔ ضیاء کے دور میں آئیڈیل راستہ وہی تھا، جسے پی پی پی نے منتخب کیا اور وہ راستہ مزاحمت کا تھا۔ آج آپ دیکھ لیں یوسف رضا گیلانی پی پی پی میں آچکے ہیں اور نواز شریف اپنے اس دور کے کردار پر پشیمان ہو کر اپنے اس کردار پر معافی مانگ چکے ہیں اور آج کھل کر پی پی پی اور ان جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہیں، جو جمہور و جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔

 

Avatar
ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *