فلم ” dharundar” پر ایک تبصرہ ؛ایک مشہور افریقی کہاوت ہے:”جب تک شیروں کے اپنے مورّخ نہیں ہوں گے، شکار کی تاریخ ہمیشہ شکاری کو ہیرو بناتی رہے گی۔”
آج ففتھ جنریشن وار کا زمانہ ہے…جنگیں ہتھیاروں سے زیادہ بیانیوں کے بیچ لڑی جاتی ہیں۔ رنویر سنگھ کو لیاری میں خوش آمدید کہنا دراصل اس فلم کے ذریعے طاقتور بیانیے کو آگے بڑھانے اور مودی سرکار کی ہندوتوا و بیرونی دشمن کے خوف کو مضبوط کرنے کی ایک حکمت عملی ہے، جس سے مقامی لوگوں کی آواز دبائی جاتی ہے اور انہیں حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ اور دوسرا عالمی سطح پر پاکستان کو ایک کمزور، دہ ش ت گرد اور مسلسل داخلی خلفشار کا شکار ری اس ت کے طور پر پیش کیا جانا ہے ۔
اس کا اصل توڑ وہی ہے جو ساؤتھ انڈین سنیما نے کیا …بالی وُڈ کے یک طرفہ بیانیے کو الٹ کر اپنا طاقتور، مقامی بیانیہ بنایا۔ اور حاشیے پر دھکیلے گئے ، بے آواز مقامیوں کو مرکز میں لایا گیا ۔جیسے بالی وڈ نے ویراپن کو سفاك ڈاکو بنا کر دکھایا تو ساؤتھ نے ’’پُشپا‘‘ جیسے کردار کے ذریعے اس بیانیے کو پلٹ دیا۔ بالی وڈ نے جہاں مذھب کو نفرت اور ہندتوا کا ہتھیار بنایا ، وہیں ساؤتھ سنیما نے مذھب کو عوامی بیانیہ سے ہم آہنگ کر کے اشرافیہ اور ر ی ا س ت کے مظالم اور لوٹ مار کو ایکسپوز کیا۔۔
یہی طاقت ہے۔۔کہانی بدل کر طاقت کا مرکز بدل دینا۔۔
یہاں بھی یہی ہونا چاہیے، کیونکہ ری اس ت اور ایلیٹ تو دونوں جگہ وہی عالمی امپیریل اسٹرکچر کا حصہ ہیں، وہ حقیقی ثقافتی مزاحمت کبھی نہیں کریں گے اور وہی بیانیہ تشکیل دیں گے جو انکے امپیریل مقاصد سے ہم آہنگ ہو ۔ مزاحمت تو ہر صورت عوام نے ہی کرنی ہے۔۔اپنی کھوئی ہوئی آواز واپس پانے کے لئے ۔۔۔آرٹ، سنیما، موسیقی، ادب اور سوشل میڈیا کے ہر فورم پر۔
بالکل ایسے ہی جیسے “کچے کے ڈاکو” جب اپنی پوری کہانی اور اپنے بیانیے کے ساتھ سامنے آنے لگے تو ر یاس تی مین اسٹریم بیانیہ ہلنے لگا۔ حقیقی مسائل، مقامی ناانصافیاں اور زمینی حقیقتیں سامنے آنا شروع ہوئیں۔ اور یہی وجہ تھی کہ اُنہیں راستے سے ہٹوانا ضروری سمجھا گیا۔ کہانی جتنی سچی ہو، طاقت کے مراکز اُتنے ہی خوفزدہ ہوتے ہیں۔
لیاری کے ساتھ بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ گینگ وار اور ت ش دد (جو کہ بڑی سیاسی گیم اور طاقت کی سیاست کا نتیجہ تھے ) کو بار بار اُچھال کر این جی اوز اور مختلف اداروں نے مقامی بیانیے کو مسخ کیا اور لیاری کو ایک ’’ناکامی کی کلاس کیس اسٹڈی ‘‘ کے طور پر پیش کیا۔ اس طرح کا بیانیہ درست نہیں بلکہ ایک طاقتور پروجیکشن تھا، جسے نوآبادیاتی طرز عمل کے سائے میں طاقتور بیانیے نے مقامی لوگوں کو بے بس اور حاشیے پر رکھنے کے لیے استعمال کیا۔ نوجوانوں کی اصل کامیابیاں، ترقی پسند ادب ، آرٹ اور تحریکیں ، کھلاڑیوں کی محنت، ثقافتی ورثہ، رقص، موسیقی ، محنت کش طبقات کی آواز و مسائل ۔۔سب کو جان بوجھ کر نظر انداز یا دھندلا کر دیا گیا، تاکہ عوام کی طاقت اور خوداعتمادی کمزور رہے۔ اس بیانیے کے ذریعے وہی قوتیں حاکم رہیں جو ہمیشہ مقامی تاثر کو کنٹرول کر کے اپنی گرفت مضبوط کرتی آئیں، اور عوام کو حقیقی مسائل سے دور رکھتی آئیں۔
یہ کھیل صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ بالکل اسی طرح بھارتی ر ی ا س ت اور ہندوتوا کے زیرِ اثر بننے والی اکثر فلمیں بھی پاکستان کو غلط اور مسخ شدہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اندرونی ناانصافیاں، ظلم، ذات پات، اقلیتوں پر ت ش دد ۔۔۔سب کو بیک گراؤنڈ میں دھکیل کر پورا فوکس ’’بیرونی دشمن‘‘ کے بیانیے پر رکھا جاتا ہے۔ دونوں طرف کی ایلیٹ ایک ہی اسکرپٹ سے کھیلتی ہے: عوام کو خوف، نفرت اور مصنوعی تقسیموں میں الجھا کر رکھو، اور اصل مسائل ۔۔معاشی ناانصافی، استحصال، طبقاتی نظام ۔۔۔کبھی سامنے نہ آنے دو۔
اسی لیے لیاری میں ہونے والی ایسی ثقافتی تقریبات، رقص، موسیقی اور عوامی شمولیت بہت اہم ہے۔ جو عوامی aspirations اور بیانیوں پر مبنی ہوں ۔ ڈرامہ اور سنیما سے بھی کاؤنٹر narrative دینے کی ضرورت ہے ۔۔ یہ مسلط کردہ بیانیے کے خلاف نرم مگر طاقتور مزاحمت ہے۔ عوام جب اپنی کہانی خود سنانا شروع کر دیں تو امپیریل اسٹرکچر کے لیے سب سے بڑا خطرہ وہی بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیانیہ ہمیشہ طاقتوروں کے ہاتھ میں رہتا ہے ۔۔اور اسی لیے اسے بدلنا ہم عوام کی ذمہ داری ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں