• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • فکشن میں ’اسرار، وہم و حقیقت کے امتزاج ‘ کی حقیقت اور نیّر مسعود کی ’’رویائی حقیقت نگاری

فکشن میں ’اسرار، وہم و حقیقت کے امتزاج ‘ کی حقیقت اور نیّر مسعود کی ’’رویائی حقیقت نگاری

  فکشن میں ’اسرار، وہم و حقیقت کے امتزاج ‘ کی حقیقت اور نیّر مسعود کی ’’رویائی حقیقت نگاری؛اکثر کہا جاتا ہے کہ نیّر مسعود کے افسانوں کی فضا دھندلی ، خواب ناک اور پراسرارہے۔ ایک قسم کی مابعد الطبیعیات کی حامل بھی ہے۔ نیز یہ افسانے وہم اور حقیقت یا سچائی اور فسوں کی سرحد پر لکھے گئے ہیں ۔ یہ سب فہم وتجزیے سے ماورا سمجھی جاتی ہیں۔
ان بیانات کو نیّر مسعود کے فکشن کو ’نہ سمجھنے ‘ کی بنیاد بھی بنالیا جاتا ہے۔
اصول کی بات ہے کہ جو انسانی فہم سے باہر ہے، وہ انسانی بیان سے بھی باہر ہے۔اس کا امکان ہے کہ انسانی بیان میں، کوئی حقیقت پوری کی پوری نہ سما سکے مگر اس کا جتنا حصہ بھی بیان میں آئے گا، وہ قابلِ فہم ہوگا، اور انسانی بیان ہی ، ان حصوں کی جانب اشارہ کرے گا، جو بیان میں نہیں آئے۔
زبان وبیان، جن چیزوں کو اپنے دائرے میں لے آتی ہیں، انھیں قابلِ فہم بنالیا کرتی ہیں۔زبان وبیان کے پاس، چیزوں کو قابلِ فہم بنانے کی اپنی قوت اور اپنا طریقہ ہے،یعنی چیزوں کو پیش کرنے کے زبان کے اپنے قاعدے ہیں اور وہ زبان کے اندر کارگر ہیں ۔
نیّر مسعود، زبان کی ان سب خصوصیات سے اچھی طرح واقف تھے۔ ان کا افسانہ ’’ساسانِ پنجم ‘‘ اسی موضوع پر ہے جو اس سوال سے متعلق ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ساسانِ پنجم اور اس کی مہیا کردہ زبان کا تاریخی ثبوت نہیں ملتا، مگران دونوں کا ذکر ملتا ہے؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ جب کوئی شے ز بان کا حصہ بن جاتی ہے تو وہ زبان کے اندر قابلِ فہم رہتی ہے ، اور کوئی شے قابلِ فہم ہونے کے بعد،انسانی یادداشت سے خارج نہیں ہوتی۔
نیّر مسعود نے اپنے سب افسانوں میں، جس اسرار اور فسوں کو پید اکیا ہے،اس کے لیے زبان ہی سے مدد لی ہے۔اگر ہم نیّر مسعود کے لسانی طریقوں کو سمجھ لیتے ہیں تو اس سے بھی واقف ہوسکتے ہیں کہ ان کے یہاں وہم وحقیقت اور اسراروفسوں کیوں ہے اور کس قسم کا ہے؟
مثلاً ان کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ وہ افسانے میں خاموشیوں ، وقفوں اور خالی جگہوں کا خود اہتمام کرتے ہیں۔ پہلے طویل لکھتے ہیں۔ پھر بہت کچھ حذف کردیتے ہیں ۔تفصیل کی جگہ اشارہ لے لیتا ہے۔
گنجفہ کا آغاز ایک بلوے کے ذکر سے ہوتا ہے۔ یہ کیا بلوہ تھا ، کب ہوا تھا، کہاں ہوا تھا، اس ضمن میں ایک لفظ نہیں لکھتے۔ آگے افسانے میں یہ پورا بلوہ ہی غائب ہوجاتا ہے۔ گنجفہ کے نوجوان کا والد کس دفتر میں ملازم تھا، کیا عہدہ تھا؟ اس بارے میں نوجوان کی ماں کو معلوم ہے ، مگر وہ کہتی ہے، اسے الٹے سیدھے نام یاد نہیں رہتے۔
وہ نوجوان بھی آخری دم تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا۔ نوجوان کی عمر بھی نہیں بتائی گئی۔ ا س کا والد اسے ولایت بھیجنا چاہتا ہے، مگر یہ بات پورے افسانے میں کہیں درج نہیں کیا وہ کہاں اور کیا پڑھتا تھا ۔ کرداروں سے متعلق ان معلومات کی عدم دستیابی اور کم یابھی کے سبب، کہی سے زیادہ ان کہی شامل ہوجاتی ہے۔
چیزیں اور لوگ اپنی مکمل صورت میں نہیں، جھلکیوں، شبیہوں اور سایوں کی صورت دکھائی دیتے ہیں۔ یہی ان کہی،خاموشی اور شبیہیں، اسرار کی حامل ہوجاتی ہیں۔
دوسرا طریقہ بھی زبان ہی سے متعلق ہے۔ وہ افسانوں میں اسما کا استعمال بہت کم کرتے ہیں، اور جہاں کرتے ہیں وہاں بھی اسے زیادہ دہراتے نہیں ہیں ۔ان کے افسانوں کا واحد متکلم واقعات ، بیان کرتا چلاجاتا ہے،مگر اپنی شناخت کو مبہم اور معلق رکھتا ہے۔ وہ واقعے ، عمل اور ردّ عمل کو اپنی شناخت کا ذریعہ بناتا ہے۔
اسی طرح ان کے کچھ افسانوں کی تمہید میں ایک عبارت درج ہوگی ۔اس عبارت کا افسانے کے ابتدائی حصوں سے کوئی تعلق محسوس نہیں ہوگا، آگے کہیں چل کر اس عبارت کے پہلو رفتہ رفتہ کھلنے لگیں گے۔ جیسے مراسلہ ، جرگہ ،وقفہ،اوجھل کے شروع میں تمہیدی عبارتیں ہیں۔ یہ عبارتیں قاری کے ذہن سے سوال کی مانند چپکی رہتی ہیں، ان کی حقیقت دیر سے کھلتی ہے۔اس سے بھی اسرار پیدا ہوتا ہے۔
اسی طرح وہ جگہوں اور مقامات کو بھی زیادہ تر بے نام رکھتے ہیں۔ جس طرح کرداروں کی شناخت ،واقعات کی مدد سے کراتے ہیں ، اسی طرح جگہوں اور مقامات کی شناخت، ان سے کرداروں کے تعلق کی مدد سے کراتے ہیں۔ حویلیاں ، محرابیں، مکانات، قلعے، مقبرے، کھنڈرات ،باغ، کنویں، قبرستان ،ان کے افسانوں میں کثرت سے ظاہر ہوتے ہیں ،مگر وہ انھیں کوئی نام دینے سے گریز کرتے ہیں۔
ان جگہوں کے نام لکھنے سے وہ خاص طور پر احتراز کرتے ہیں، جن کی کوئی مخصوص مذہبی ، مسلکی اور قومی شناخت ہوتی ہے۔بے نام کردار اور بے نام جگہیں، اسرار کی حامل بن جاتی ہیں۔تاہم جہاں ناگزیر ہو،وہاں جگہوں کے اسمائے نکرہ استعمال کر لیتے ہیں۔
تیسرا طریقہ وہ یہ اختیار کرتے ہیں کہ کہانی کے واقعات کا زمانہ اور تاریخ نہیں بتاتے۔ کچھ افسانوں ( طاؤس چمن کی مینا میں بہ طور خاص جو سچے واقعے پر مبنی ہے) میں تاریخ کی طرف اشارہ ضرور ہوگیا ہے،مگر عمومی طریقہ ، واقعے اور کردار کوکسی مخصوص تاریخ کے سپرد کرنے کا نہیں ہے۔’’مارگیر‘‘ ان کے اچھے افسانوں میں شامل ہے،اور ان سب خصوصیات کا حامل ہے جو نیّر مسعود کا دست خط بن گئی ہیں۔
اس میں اسم نکرہ ہیں ، معرفہ نہیں ہیں۔ مارگیر کا نام نہیں ہے،ان کے مددگار کا نام نہیں ہے،جو کہانی کا بیان کنندہ ہے۔ وہ مارگیر کو اپنا نام بتاتاہے،مگر کہانی میں یہ نام درج نہیں ہے۔ اس بستی کا بھی نام نہیں لکھا گیا ، جہاں اس کہانی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ بازار اور خریدار بھی نام کے بغیر ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے افسانے میں سب نے سیاہ نقاب پہن رکھے ہیں اور اسی سبب سے اسرار کے حامل ہیں۔سیمیا میں وہ مردہ گھر لکھتے ہیں، قبرستان نہیں کہ اس سے یہ جگہ مسلمانوں سے مخصوص ہوجاتی ہے۔ اردو کا قاری ،پھر اس کہانی کو قومی مذہبی نظر سے پڑھنے لگتا ہے۔ نیّر مسعود گویاافسانویت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اسے واقعیت، تاریخ اور شناختوں سے ماورا لے جاتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ جگہوں اور کرداروں کو بے نام و بےصفت رکھ کر ان کی شناخت مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ انھیں نئی شناختیں دے دیتے ہیں۔نام اور صفت کا نہ ہونا بھی ایک شناخت ہے، لیکن بے حد مبہم،پراسرار شناخت۔
ان کے سب افسانے کسی زمانے اور کسی مقام سے تو ضرور متعلق ہیں، اور ان دونوں کا مبہم تعلق لکھنؤ سے ہے، مگر کب اور کہاں، اسے وہ واضح نہیں کرتے۔ اس طور ان کے افسانوں کی جگہیں اور زمانے ،ایک منفرد افسانویت اور بھید کے حامل ہوجاتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ شناختوں کے ضمن میں حد درجہ حساس اور ایک خوف کا شکا ر ہیں۔ کہیں نہ کہیں تقسیمِ ہند کا خونی واقعہ ، ایک خوف بن کر ، ان کے افسانوی تخیل پر مسلط رہتا ہے۔ تقسیمِ ہند کو خونی واقعے کو بدلنے کا سبب، یہی قومی مذہبی شناختیں تھیں۔
آدمی کا مذہب ،نام اور شکل صورت سے دیکھ کر، اسے ذبح کردیا جاتا تھا۔افسانہ ’’گنجفہ ‘‘کے آغاز میں بلوے کا ذکر ہے۔’’اپنی زندگی مجھے بلوے کی رات سے بری لگنا شروع ہوئی۔ اس رات جب میں قبرستان سے واپس آرہا تھا توراستے میں کئی جگہ مجھ کو روک کر پوچھ گچھ کی گئی۔ پوچھ گچھ کیا صرف تین سوال کیے جاتے تھے۔کیا نام ہے؟ کہاں رہتے ہو ؟ اور کیا کرتے ہو ؟ ‘‘
نیّر مسعود نے اپنے افسانوی معمول کے مطابق، یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کون سابلوہ ، کہاں ہوا تھا ، مگرسوالوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس قسم کا بلوہ ہوگا۔ تینوں سوال ،شناخت سے متعلق ہیں۔ بلوہ ، شناخت کی سیاست کو عروج پر لے جاتا ہے۔ تقسیم کے ساتھ ہی اردو نے بھی قومی مذہبی شناخت حاصل کی تھی۔اردو کی اس مذہبی شناخت میں فارسی کا اہم کردار تھا۔
نیّر مسعود، فارسی کے عالم ہونے کے باوجود، اپنے فکشن کی زبان میں فارسی شامل نہیں کرتے۔ وہ اضافت اور عطف کا استعمال نہیں کرتے۔ مترادفات استعمال نہیں کرتے۔ وہ اسے انشااللہ انشاں کی رانی کیتکی کی کہا نی کی زبان کی مانند، خالص ہندوستانی رکھنا چاہتے ہیں۔وہ خود کہتے ہیں کہ’’مجھ کو محسوس ہوا کہ فارسی آمیز زبان ہمارے افسانوں کے لیے موزوں نہیں ہے‘‘۔
یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے فکشن میں ، شناختوں کی خونی سیاست کی یادداشت ہی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ فکشن کو ایک ایسے ’افسانوی مقام ‘(fictional space) میں ڈھالتے ہیں، جہاں انسان واحد انسانی شناخت کے ساتھ زندہ ہیں۔
چوتھے طریقے کا تعلق بھی زبان کے مخصوص استعمال ہے۔ وہ شاعری اور نثر میں فرق کرتے ہیں۔ دونوں کی اپنی اپنی قوت کے قائل ہیں۔وہ اپنی افسانوی نثر میں، نثر کی اپنی قوت کو استعمال میں لاتے ہیں۔ ایک کیفیت یا حالت کے لیے ایک ہی موزوں اور درست لفظ لانے کی روش ہے ۔ اسی طرح محاورات بھی نہیں ہے۔
روزمرے کا استعمال بھی نہیں ہے۔ وہ بالکل سادہ اور اکثر جگہوں پر بالکل خشک نثر لکھتے ہیں۔تشبیہات کا استعمال کم کم ہے۔ استعارات سے حتی الوسع گریز کرتے ہیں۔ان سب کو وہ شاعرانہ وسائل میں شمار کرتے ہیں ۔
اسی طرح وہ اپنی نثر میں اسم صفات کا استعمال بھی بہت کم کرتے ہیں ۔
شناخت اور صفت کے بغیر کردار اور اشیا ، ایک اسرار کے حامل ہوجاتے ہیں۔ یہاں وہ ایک حد تک سیموئیل بیکٹ کی مانند ہیں۔ بیکٹ ، کم سے کم لفظوں کے استعمال کا قائل تھا۔ اس کی نظر میں جو بات ایک لفظ میں کہی جاسکتی ہے، اس کے لیے دوسرا لفظ لاناگویا جرم ہے۔
نیّر مسعود بھی اپنی نثر سے زوائد کو بے رحمی سے حذف کردیتے ہیں۔ لیکن نیّر مسعود اور بیکٹ میں ایک بنیادی فرق بھی ہے۔ بیکٹ زبان کو پردہ خیال کرتے تھے۔ یہ کہ زبان، حقیقت کو بیان نہیں کرتی ، چھپاتی ہے۔ وہ کہتا تھا کہ زبان کے پردے کو پھاڑ دیں تاکہ تمھیں دکھائی دے کہ اندر ’’کچھ نہیں ‘‘ ہے، سوائے لایعنیت کے۔ نیّر مسعود زبان کو نہیں ،زائد اور غیر ضروری الفاظ کو پردہ سمجھتے ہیں۔
وہ زبان اور زندگی کی لایعنیت میں کوئی رشتہ نہیں دیکھتے۔ زبان کے تعلق سے ان کا مجموعی رویہ ، مختصر ترین فن (Minimal art) کا ہے۔ یہ فن بھی زوائد کو حذف کرنے اور اشد ضروری چیزوں کو باقی رکھنے کا ہے۔یہ فن ،ایک پھول کے مضمون کو سورنگ سے نہیں،بلکہ ایک ہی رنگ اور اس رنگ کے بھی کم سے کم استعمال کی مدد سے پیش کرتا ہے۔
مختصر ترین فن ، جین مت کے اپریگرہ کے تصور کے خاصا قریب ہے۔یہ تصور صرف ناگزیر اور انتہائی محدود اشیا کے استعمال پر زور دیتا ہے۔یہ اپنی اصل میں ایک روحانی تصور ہے کہ باہر کی اشیا اور اندر کی خواہشات کو کم سے کم رکھاجائے۔ گویا یہ روحانی زندگی کا فن ہے۔اس فن کی انتہا، ہر طرح کی وابستگی کا خاتمہ ہے۔
اشیا سے وابستگی اور اپنے تصورات اور آرزوؤں سے وابستگی کا خاتمہ۔ یہ خاتمہ ، خودی کی نفی کے بغیر نہیں۔ خودی ہی تمام وابستگیوں کی جڑ ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ہر شے کو دیکھا جائے، کسی غرض،ضرورت کے بغیر ،اور اس پرکوئی ردّ عمل ظاہر کیے بغیر،اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کیے بغیر۔ نیّر مسعود کے فکشن میں بھی ، وہ خود اور ان کا راوی ، واقعات کو کسی وابستگی کے بغیر بیان کرتا ہے۔
سب سے بڑا واقعہ موت کا ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں میں کرداروں کی موت کو بس ہوا کے ایک جھونکے سے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ نصرت ، سیمیا، گنجفہ ، بڑا کوڑا گھر میں موت کے واقعات ، ایک عام ،معمول کے واقعات کی مانند بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی ان کا فکشن ،زندگی کا بہاؤ پیش کرتا ہے۔
جگہ کے کم استعمال سے ، جگہ کے خالی رہنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ہر خالی جگہ ،ایک اسرار کی حامل ہوتی ہے۔
بنا بریں نیّر مسعود کے فکشن کے اسرار ،بھید ،واہمے کا تعلق ان کے افسانوی اسلوب اور تکنیک سے ہے۔ وہ فنتاسی تخلیق نہیں کرتے،یعنی ایک دنیا تخلیق نہیں کرتے جو محض خیالی ہوتی ہے اور جس کے قوانین جادوئی ،یعنی علت ومعلول سے ماورا ہوتے ہیں۔
اسی طرح ان کے یہاں واہماتی دنیا بھی موجود نہیں ہے۔ فنتاسی اگر زرخیز تخیل کی پیداوار ہے تو واہمہ ، شعور کی نارسائی ، بگاڑ اور باطل ہونے کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جو نفسی الجھنوں کے سبب، پیدا ہوتی ہے ، مگر متعلقہ شخص اسے حقیقت خیال کرتا ہے۔
نیّر مسعود کے یہاں ایسے واہمے بھی نہیں ہیں۔
ان کا افسانوی اسرار، فنی اور جمالیاتی ہے۔
تاہم یہ سوال ضرور اٹھایا جاسکتا ہے کہ کیا وہ اس اسلوب اور تکنیک کی مدد سے ، زندگی اور کائنات کے کسی اسرار ، یا کسی نوع کی مابعد الطبیعیات کی جانب متوجہ کرنا چاہتے ہیں؟
اس کا جواب،ایک حد تک ہاں میں ہے۔ وہ زندگی ( جس کے خاندانی ، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کو وہ زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، نفسی پہلوؤں کو بہت کم ) میں اسرار ضرور دیکھتے ہیں،لیکن اسے کسی روحانی و صوفیانہ تجربے کی سطح پر نہیں لے جاتے۔
یاد اور خواب ، اس اسرار کو واضح کرتے ہیں۔ ایک آدمی سامنے موجود نہ ہوتے ہوئے، ہمیں یاد اور خواب میں حقیقی محسوس ہو تو یہ اسرار ہے۔اسی طرح واقعات، اچانک اور اتفاقی طور پر رونما ہوتے ہیں،جن کی منطق وہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے، انھیں محض بیان کرتے ہیں،اس سے ایک قسم کی مابعد الطبیعیات پیدا ہوجاتی ہے۔
اس خاص قسم کی مابعد الطبیعیات کو پید اکرنے میں بنیادی کردار ان کی ’’رویائی حقیقت نگاری ‘‘ کا ہے۔انھوں نے اپنے خوابوں کو لکھا ہے یا خوابوں کی ساخت اور شعریات کو۔ خواب میں بھی عام طورپر جگہیں، افراد نام کے بغیر ظاہر ہوتے ہیں۔ واقعات رونما ہوتے چلے جاتے ہیں اور کسی واضح وجہ کے بغیر واقعات میں رشتے پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ یعنی زندگی کابہاؤ ظاہر ہوتا جاتا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply