• صفحہ اول
  • /
  • گوشہ ہند
  • /
  • اسلام میں طلاق کا بحران: فقہی اجتہاد سے آگے قرآن کی رہنمائی/عبیداللہ سلفی

اسلام میں طلاق کا بحران: فقہی اجتہاد سے آگے قرآن کی رہنمائی/عبیداللہ سلفی

اسلام میں طلاق کا بحران: فقہی اجتہاد سے آگے قرآن کی رہنمائی۔19 نومبر 2025 کو سپریم کورٹ نے طلاقِ حسن کے عمل ۔ خصوصاً وکیل کے ذریعے بغیر شوہر کے دستخط کے نوٹس جاری کرنے۔کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے دوران مسلم معاشرے میں یک طرفہ طلاق کے جواز پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔اگلی سماعتوں میں عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا طلاقِ حسن آئینی جانچ پر پورا اُترتی ہے ، اور کیا یک طرفہ غیر عدالتی طلاق خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے، اور کیا مسلم پرسنل لاء کےحدود میں موجوداس قسم کی روایات میں موجودہ سماجی اقدار اور آئینی اخلاقیات کے مطابق ترمیم و اصلاح کی ضرورت ہے۔

بھارتی مسلمانوں میں طلاق کا طریقہ کار 2017 سے عدالتی اور عوامی بحث کا اہم موضوع رہا ہے، جب سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں بیک وقت تین طلاق (طلاقِ بدعت) کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔روایتی اسلامی فقہ طلاق کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کرتی ہے: طلاقِ احسن، طلاقِ حسن اور طلاقِ بدعت۔ روایتی طور پر، یک طرفہ طلاق کا حق صرف شوہر کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر عورت نکاح ختم کرنا چاہے تو اسے خُلع لینا پڑتا ہے، جو شوہر کی رضامندی کا محتاج ہوتا ہے اور اکثراوقات عورت کو شوہر کو مال بھی دینا پڑتاہے۔

ان تین طریقوں میں طلاقِ بدعت اپنی فوری اور ناقابلِ رجوع نوعیت کے سبب نمایاں ہے، جس میں مفاہمت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔یہی پہلو اس کے عدالتی ابطال میں فیصلہ کن قرار پایا۔ اس کے برعکس، طلاقِ احسن اور طلاقِ حسن میں تقریباً تین ماہ کی عدت کے وقفے کے دوران مفاہمت کی گنجائش موجود رہتی ہے۔خواتین کے لیے طلاق کے حق کی عدم موجودگی اور طلاق کے بعد مفاہمت کی محدود گنجائشیہ دونوں مل کر روایتی فقہی تعبیرات میںمرد و زن میں عدم مساوات پر مشتمل فقہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مردوں کے زیرِ اثر تشکیل پائی ہے۔

اس کے برعکس، قرآن۔جو اسلامی قانون کا بنیادی ماخذ ہے۔ نہ تو عورتوں کے خلاف کسی قسم کا کوئی امتیاز برتتاہے اور نہ ہی انہیں نکاح کے خاتمے کا حق استعمال کرنے سے روکتا ہے۔ مزید برآں، قرآن طلاق سے پہلے متعدد اصلاحی اقدامات کا ایک تدریجی طریقۂ کار تجویز کرتا ہے، جو باضابطہ علیحدگی یعنی طلاق سے قبل مفاہمت اور تنازع کے حل پر زور دیتا ہے۔ یہ تصور روایتی فقہی آراء کے برخلاف ہے جو ان اصلاحی اقدامات کو طلاق کے اعلان کے بعد کا مرحلہ قرار دیتی ہیں۔

قرآن میں ارشاد ہے، ’’اور جن عورتوں کی نافرمانی (نُشوز) کا تمہیں خوف ہو، تو انہیں تنبیہ کرو، اور انہیں بستروں میں الگ کر دو، اور پھر انہیں چھوڑ دو (وَاضْرِبُوهُنَّ)‘‘ (سورۃ النساء 34)۔اور اگلی آیت کریمہ میں فرمایا ، ’’اور اگر تمہیں دونوں کے درمیان پھوٹ کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو۔ اگر دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔‘‘ (سورۃ النساء 35)

یہ آیات مجموعی طور پر ایک تدریجی اور مفاہمانہ طریقہ کار واضح کرتی ہیں، جو تنبیہ، وقتی علیحدگی اور باقاعدہ ثالثی کے ذریعے ازدواجی نزاع کے حل کی راہ ہموار کرتی ہے نہ کہ اچانک یا یک طرفہ طلاق کو دوام بخشتی ہے۔

عربی لفظ ’’طلاق‘‘ کا معنی ’’جدا کرنا‘‘ یا ’’رشتہ ختم کرنا‘‘ ہے، یعنی نکاح کے بندھن کا قطعی خاتمہ۔ اس مفہوم کی روشنی میں یہ خیال کہ علیحدگی کے بعد مفاہمت کے اقدامات کیے جائیںفطری طور پر ناقابلِ قبول معلوم ہوتا ہے، کیونکہ مفاہمت اس حالت میں ممکن ہے جب نکاح برقرار ہو۔ اس لیے قرآن کی بتائی ہوئی ترتیب یعنی نصیحت، ثالثی، اصلاح، جدید فیملی لاء کے اُس ماڈل سے قریب تر ہے جس میں طلاق سے پہلے مصالحتی کارروائی لازمی ہوتی ہے، اور دونوں زوجین کو طلاق کا مساوی حق حاصل ہوتا ہے۔

قرآن کا حکمِ عدت۔ جو طلاق یا وفات کے بعد عورت پر لازم ہوتا ہےوہ قرآنی منطق کو مزید واضح کرتا ہے۔ عدت، طلاق اور بیوگی کے بعد لازم ہے، جبکہ غیر مدخولہ عورت پر لازم نہیں۔ بیوہ کے لیے عدت کی پابندی اور غیر مدخولہ کے لیے اس کی چھوٹ اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عدت کا اصل مقصد حمل کی حالت کی تصدیق ہے، نہ کہ مفاہمت کا موقع فراہم کرنا۔

یہ تعبیر روایتی فقہی رائے سے متصادم ہے جو عدت کو ایک ایسا وقفہ قرار دیتی ہے جس میں نکاح گویا برقرار رہتا ہے۔یہ فہم اس نتیجے کو مضبوط کرتا ہے کہ عدت کے شروع ہوتے ہی نکاح ختم ہو جاتا ہے، اور طلاق اپنے اعلان کے ساتھ ہی نکاح کو حتمی طور پر ختم کر دیتی ہے۔ چنانچہ’’فوری‘‘ (طلاقِ بدعت) اور ’’تدریجی‘‘ (طلاقِ احسن، طلاقِ حسن) طلاق کی اقسام کے درمیان امتیاز غیر منطقی ہو جاتا ہے، کیونکہ نکاح کا خاتمہ دراصل طلاق کے اعلان کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے، نہ کہ تین مختلف مراحل کے ذریعے۔ جیسے نکاح ایک ہی عمل سے قائم ہوتا ہے، ویسے ہی طلاق ایک ہی عمل سے اسے ختم کرتی ہے۔

julia rana solicitors

اگرچہ قرآن ازدواجی نزاعات میں مفاہمت کے منظم طریقے کو واضح طور پر ترجیح دیتا ہے، مگر ساتھ ہی اس حقیقت کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ بعض حالات میں علیحدگی دونوں کے لیے بہتر ہو سکتی ہے۔ اس لیے قرآن کسی بھی شریکِ حیات کے حقِ علیحدگی پر غیر ضروری پابندی نہیں لگاتا جب مفاہمت کا امکان باقی نہ رہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply