سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشری بی بی بارے مشہور برطانوی اخبار ” دی اکانومسٹ”کی سٹوری کی گونج نے اگرچہ 27 ویں آئینی ترمیم پر پبلک ڈسکورس کو پس منظر میں دھکیل دیا تاہم آرٹیکل243 میں کی گئی غیر معمولی تبدیلیوں کے اثرات پھر بھی زائل نہیں ہو سکتے ۔”دی اکانومسٹ ” کی رپوٹ میں بھی بشری بی بی کی طرف سے اُلوہی قوتوں پہ تصرف کا سوانگ رچا کر عمران خان کی ضعف الاعتقادی کے استحصال کی داستان کے پس پردہ محرکات کو خفیہ ادارے کے سرکش افسران سے جوڑ کر دراصل ہماری مملکت کے اندر طواف الملوکی کی نقاب کشائی کی گئی لیکن بدقسمتی سے پی ٹی آئی نے”دی اکانومسٹ” کی شریک رپوٹر سے اُلجھ کر اُس طلسماتی کہانی کو اپنا چہرہ فراہم کر دیا جو فی الاصل یہاں حکمرانی کے مجموعی انحطاط کی غماضی کرتی تھی ۔ ابلاغیات کی لن ترانیوں سے قطع نظر27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے بظاہر عدالتی نظام اور دفاعی ڈھانچہ کی جُزیات تک پھیلے اُس امریکی اثر و نفوذ پہ قابو پانے کی کوشش کی گئی ، جس نے پچھلے 78سالوں سے سسٹم کو وقف اضطراب رکھا ہوا تھا ، شاید اسی لئے فوج میں فیصلہ سازی کے عمل اور کام کرنے کے طریقوں میں چند بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں لائی گئیں تاکہ پیراڈائم شفٹ کے خطرات سے بچا جا سکے گویا ہمارے فعال میڈیا اور اپوزیشن نے جس پیشدستی کو اندرونی سیاسی کشمکش کے تناظر میں دیکھا ، بیرونی طاقتیں اُسے ہمارے داخلی بحران میں بدلتا دیکھنا چاہتی ہیں ۔
آرٹیکل 243 سویلین اتھارٹی اور فوج کے درمیان تعلقات کی وضاحت تک محدود تھا جس میں ترمیم کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF)کا نیا عہدہ تشکیل دیکر آرمی چیف کو فضائیہ اور بحریہ سمیت پورے دفاعی ڈھانچہ پر مکمل تصرف دیکر سویلین اتھارٹی کے دائرہ اختیار سے ماورا کر دیا گیا ۔ یہ ایک ایسے اتھاریٹیرین بندوبست کی تشکیل کی طرف پیشقدمی نظر آتی ہے جسے باہر سے مسخر کرنا دشوار مگر اندر سے تارپیڈو کرنا آسان ہوگا ۔
ہرچند کہ پاکستان آئینی طور پر پارلیمانی جمہوریہ ہے لیکن زمینی حقائق اسے سول ملٹری اولیگارکی کے طور پہ منقش کرتے ہیں ، امر واقعہ بھی یہی ہے کہ یہاں چند لوگوں نے گورننس اور اتھارٹی کی کمی کو پالیسی کے طور پر دوام دیا ، جس کی جڑیں اُس پوسٹ نوآبادیاتی نظام کی حرکیات میں پیوست ہیں جسے عوامی خدمت کے بجائے کنٹرول کے لئے تشکیل دیا گیا تاہم اِس بندوبست کو سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی کے فروغ ، سروسیز فراہم کرنے والے سویلین اداروں کی کمزوریاں ، احتساب اور شفافیت کا فقدان ، منتخب حکومتوں اور اداروں کے درمیان لامتناہی کشمکش کی دھند میں چھپایا گیا ، اِسی نظامی انحطاط اورخود پیدا کردہ بے یقینی کی فضا میں عالمی مقتدرہ نے پاکستانی عوام کے حق حاکمیت ، ملکی وسائل اور قومی بیانیہ پہ حتمی اجارہ داری قائم رکھنے کی خاطر فوج کو ہماری قومی زندگی کا سب سے طاقتور ادارہ بنا کر اُسی کی وساطت سے ہماری مملکت کو سرد جنگ کی جدلیات میں استعمال کیا ۔ امریکہ کے عالمی مفادات کی تکمیل کے لئے چار فوجی بغاوتوں کو عدالتی توثیق ملی ، اسی تناظر میں پچھلے 78 سالوں میں اس ملک کی اعلی عدلیہ نے عالمی مقتدرہ کی ایما پر پارلیمنٹ کے قانون سازی کے حق کو محدود ، سویلین حکومتوں کے آئینی اختیارات کو کُند اور سیاستدانوں کو نااہلی ، جلاوطنی اور موت کی سزائیں دیکر سویلین لیڈر شپ کو نامراد اور فوج کی نجات دہندہ کے طور پر امیج سازی میں اہم کردار ادا کیا ، یوں کئی دہائیوں کی براہ راست اور بالواسطہ فوجی حکمرانی نے ہماری قومی زندگی میں فوج کے اثر و رسوخ کو مضبوط اور آرمی چیف کو ملک کی سب سے طاقتور شخصیت تسلیم کرا لیا ۔ چنانچہ اگست 2021 کو افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد جب ہماری ریاست امریکی تسلط سے آزاد ہو کر معمول کے وظائف کی طرف پلٹنے لگی تو اُسے ادارہ جاتی اضمحلال کے ساتھ پاور پالیٹیکس کے خُوگرججز اور جرنیلوں سمیت اُس بیوروکریسی کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے اپنی اولادوں، سرمایا اور مستقبل کے سُہانے خواب کو مغربی ممالک کی پُرآسائش دنیا کے سپرد رکھا ہوا تھا ، اِسی لئے آج ہمیں فوج ، عدلیہ ، سول بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ کے اندر گہرائی تک پھیلے امریکی اثر و نفوذ جیسی نظر نہ آنے والی رکاوٹیں تڑپا رہی ہیں ، انہی اندرونی علائم سے بچنے کے لئے پہلے مرحلہ میں 26ویں ترمیم کی منظوری کے ذریعے جوڈیشری کی طرف سے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے عمل میں مداخلت کی روایت کو بدلنے کے لئے آئینی درخواستوں کی سماعت کے لئے الگ بینچ بنا کر ملک میں حکمرانی کی کشمکش میں فریق بننے والے ججز کو نکیل ڈالی گئی اور اب 27 ویں ترمیم کے ذریعے الگ آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتوں کے ملکی سیاست اور قومی پالیسی پر اثرانداز ہونے کی راہیں بند کر دی گئی ۔ نئی وفاقی آئینی عدالت کو آئین کی تشریح، وفاقی-صوبائی تنازعات کو حل کرنے، قوانین کی درستگی کا تعین کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہو گا ، سپریم کورٹ برسوں سے آہنی الماریوں میں بند پڑے پچاس ہزار سے زیادہ سول اور فوجداری مقدمات پہ توجہ مرکوز کرکے سائلیں کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائے گی ، ارباب اختیار کہتے ہیں کہ جس طرح وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل آئینی تنازعات کے فیصلوں میں ہم آہنگی، رفتار اور نظم و ضبط یقینی بنائے گی اُسی طرح چیف آف ڈیفنس فورسیز کا آفس بھی اسٹریٹجک کمانڈ کو مربوط کرکے بحری و فضائی سروسز کی خود مختاری کو متاثر کئے بغیر دفاعی اداروں میں آہنگی بڑھائے گا ۔
علی ہذالقیاس، بظاہر دونوں اصلاحات گورننس کے چیلنجز سے نمٹنے اور عہد جدید کے ریاستی امور میں بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کی حقیقتوں پر مبنی ہیں ۔ یہ اقدامات پاکستان کو ایک بالغ حکمرانی پر مبنی رجیم کے طور پر تیار کرنے میں مدد دیں گے ، جہاں عدالتی، سول اور دفاعی ادارے ایک ممکنہ ربط کے ساتھ اپنا مخصوص کردار ادا کر سکیں گے ۔ تاہم بڑے بین الاقوامی اشارئے اور ماہرین کے تجزیئے پاکستان کی اتھارٹئیرین حکومت کے طور پر درجہ بندی کرتے ہیں ، جو اس کی سابقہ”ہائبرڈ حکومت” کی حیثیت سے ایک قدم آگے کی نشاندہی کرتی ہے ، جس کے کلیدی عوامل میں اسٹیبلشمنٹ کا گورننس اور فیصلہ سازی پر حتمی تصرف شامل ہے ۔
لاریب ، آج پوری دنیا کو جمہوریت کے بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے عالمی آزادی میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں مسلسل کمی نوٹ کی گئی ۔ یہ زوال دراصل سیاسی استحکام کی حامل استبدادیت کے فروغ اور جمہوری اداروں پر اعتماد کے بحران کا غماض ہے ۔ مطلق العنان حکومتوں، خاص طور پر چین اور روس نے تیز رفتار معاشی ترقی اور سیاسی استحکام حاصل کرکے عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانے میں کامیابی پائی ، ان کے نظام جمہوریتوں کے مقابلے میں بہتر نتائج دینے میں زیادہ موثر ثابت ہوئے بلکہ بہت سے ممالک میں جمہوریت کے کام کرنے کے طریقوں سے عوامی اعتماد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ، کچھ معاملات میں خود جمہوری ممالک نے بحرانوں کا استحصال کیا، جیسے کہ کرونا وباء کے دوران طاقت کو مضبوط ، نقل و حرکت اور اجتماع کو محدود اور انسانی معاشروں میں جزیات کی سطح تک نگرانی جیسے صحت عامہ یا قومی سلامتی کی آڑ میں بنیادی آزدیاں چھین کر جمہوریت اور استبدادیت کے مابین فرق کم کر دیا ۔ ساتھمپٹن یونیورسٹی کی نئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں پارلیمنٹ، منتخب حکومتوں اور سیاسی جماعتوں جیسے نمائندہ اداروں پر عوامی اعتماد زوال کا شکار جبکہ غیر نمائندہ اداروں جیسے پولیس، سول سروس اور قانونی نظام پر عوامی اعتماد مستحکم ہوا ، سیاسی قیادت پر عوامی اعتماد میں کمی آج بہت سے ممالک میں جمہوری حکومتوں کو درپیش چیلنجوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں