پاکستان کی سیاست میں طاقتوروں آور مجرموں کے لیے آئین میں ترمیم کے ذریعے قانون سازی معروف امریکی موسیقار گیت کار اور سماجی رہنما باب مارلے کے اس قول کی یاد دلاتا ہے کہ جس دُنیا میں مجرم قانون بنائیں، وہاں انصاف نہیں مل سکتا۔ پاکستان میں با اثر لوگ اپنے فائدے کے لیے قانون کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے انصاف ایک خواب بن جاتا ہے۔ اس کی حالیہ مثال صدر آصف علی زرداری کی طرف سے آئینی ترمیم کے ذریعے خود کو قانونی چارہ جوئی سے بچانا ہے۔ یہ قدم جمہوری اصولوں کے خلاف اور پاکستان کی سیاست میں کرپشن اور طاقت کے گٹھ جوڑ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر، قانونی پہلوؤں اور عوام کے ردعمل کا جائزہ لیتے ہیں۔ آصف علی زرداری، نوے کی دہائی سے کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں۔ نواز شریف کے دورِ حکومت میں ان پر سوئس بینکوں میں کرپشن، غیر قانونی اثاثے بنانے اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات لگے۔ انہیں 1996 میں گرفتار کیا گیا اور تقریباً آٹھ سال جیل میں رہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق نیب نے ان کے خلاف 20 سے زائد ریفرنس دائر کیے۔ پرویز مشرف کے دور میں 2007 میں این آر او جاری ہوا، جس سے بینظیر بھٹو اور زرداری سمیت کئی سیاستدانوں کے کیسز ختم کر دیے گئے۔ لیکن سپریم کورٹ نے 2009 میں اسے غیر آئینی قرار دے دیا۔ زرداری نے صدر بننے کے بعد آئینی تحفظ حاصل کر کے اپنے خلاف مقدمات سے جان چھڑائی۔ 2013 کے بعد یہ کیسز دوبارہ کھلے، مگر دو ہزار بیس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت نے نیب قوانین میں ایسی ترامیم کیں جو صدر زرداری اور دوسروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئیں۔ زرداری آج تک اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو غلط ثابت نہیں کر سکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام الزامات نواز شریف کی حکومت نے لگائے تھے، جو آج پیپلز پارٹی کے خاموش اتحادی ہیں۔ یہ مفاد پرستی کی ایک مثال ہے۔ اس مفاہمت کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے جولائی 2024 میں شہباز شریف کی حکومت نے چھبیسویں آئینی ترمیم منظور کی جس نے عدلیہ کی آزادی پر سوالات اٹھا دیے۔ اس ترمیم کے تحت صدر مملکت کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قانونی کارروائی سے مکمل تحفظ مل گیا۔ آرٹیکل 248 میں ترمیم کے ذریعے صدر، گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو کرپشن سمیت تمام مقدمات سے تحفظ دیا گیا ہے۔ اس ترمیم سے زرداری کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے، کیونکہ نیب کے پرانے کیسز ابھی بھی زیرِ التوا ہیں۔ مثال کے طور پر، ٹوسا ہاؤس ریفرنس اور پولونیشن کیس میں اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں۔ اس ترمیم کے مخالفین اسے مجرموں کی قانون سازی قرار دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے۔ عمران خان نے اسے کرپٹ اشرافیہ کی بقا کی کوشش قرار دیا ہے، جو عوام کے انصاف کے حق کو ختم کرتی ہے۔ جبکہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے ہے اور زرداری کے کیسز سیاسی تھے۔ جمہوری اصولوں کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے کرپشن کے خلاف کنونشن کے تحت پاکستان سیاسی استثنا کو محدود کرنے کا پابند ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن بہت زیادہ ہے، اور ایسی ترامیم اس کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں طاقتور لوگ اپنے فائدے کے لیے آئین کو تبدیل کر لیتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم نے صوبوں کو زیادہ اختیارات دیے تھے، لیکن چھبیسویں ترمیم عدلیہ کو کمزور کر رہی ہے۔ قانونی ماہرین کے خیال میں یہ آئینی آمریت ہے۔ عوام اس ترمیم کے خلاف سوشل میڈیا پر احتجاج کر رہی ہے۔ وکلا کی ہڑتالیں ججوں کا اپنے منصب سے مستعفی ہونا اور پی ٹی آئی کا احتجاج اس کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ اس ترمیم کو چیلنج کرتی ہے، تو ملک میں سیاسی بحران آ سکتا ہے۔ آخر میں، باب مارلے کا قول سچ ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا چاہیے، نہ کہ مجرموں کو تحفظ دینا چاہیے۔ زرداری کی آئینی جیت دراصل جمہوریت کی ہار ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں، ورنہ یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور ملک میں کمزور جمہوریت پہلے کمزور اور آئین اپنا اصل مقام مکمل طور پر کھو دے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں