کھیت کی مُولی/ راجا ناصر محمود

تم کِس کھیت کی مُولی ہو؟ آج کل سوشل میڈیا کے آسرے پر جینے والا ہر شہری یہ سوال صرف مُولی سے نہیں پوچھ رہا بلکہ کسی بھی قسم کا پھل یا سبزی خریدنے سے پہلے اُس کی تاریخِ پیدائش، جائے پیدائش اور پرورش کے طریقوں کی مکمل جانکاری لے رہا ہے۔ آرگینک پھلوں اور سبزیوں کے علاوہ وہ ہر چیز کو شک بھری نگاہ سے دیکھتا ہے جیسے اُس میں کوئی بارود بھرا ہو اور صرف آرگینک کی آبیاری آبِ حیات سے کی گئی ہو۔ آرگینک اور اِن آرگینک پھل اور سبزیاں شکل و صورت میں خاصی مماثلت رکھتی ہیں البتہ سپر مارکیٹوں کے اندر اُنھیں دیا جانے والا پروٹوکول دیہاتوں میں چوہدری اور مراثی کو ملنے والے پروٹوکول کے تقریباً ہم پلہ ہے۔ اِن آرگینک پھل اور سبزیاں مراثی کی طرح گندی ٹوکریوں میں زمین پر پڑی رہتی ہیں جب کہ آرگینک چوہدری کی طرح سج دھج کے اونچی جگہ پر براجمان ہوتی ہیں۔ دونوں کی قدر و قیمت میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ اوّل الذکر کوڑیوں کے بھاؤ بکتی ہیں اور ہر گاہک خریدنے سے پہلے اُنھیں کئی طرح سے ٹٹولتا ہے، ناک بھوں چڑھاتا ہے۔ جب کہ موخر الذکر کو صاحبِ حیثیت لوگ تبرک سمجھ کر ہلکا سا چھو کر خرید لیتے ہیں اور فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ گھر کی راہ لیتے ہیں۔
فی زمانہ سوشل میڈیا کے طبیبوں کی فوجِ ظفر موج ہاتھ دھو کر اصلی ڈاکٹروں کی روزی روٹی کے پیچھے پڑ گئی ہے۔ یہ اپنے فینز کو باور کرا رہے ہیں کہ صحت و تندرستی کے لیے آرگینک خوراک سے بہتر مارکیٹ میں کوئی تیر بہدف نسخہ دستیاب نہیں۔ یہ اب پڑھے لکھے شہریوں کو کچی سبزیاں، سلاد اور پھل کھانے پر اُکسا رہے ہیں۔ گویا وہ شہریوں کو دیہاتیوں کے پیچھے لگانا چاہتے ہیں جو کھیت کھلیانوں سے یہ سب کچھ بغیر کسی تکلّف کے دن بھر کھاتے رہتے ہیں۔ یہ صورتِ حال خاصی دھماکہ خیز لگتی ہے کہ اب پڑھے لکھے شہری دیہاتیوں کے طور طریقے اپنا کر اُن کی طرح پیٹ پوجا کریں گے۔علاوہ ازیں، سوشل میڈیا کے طبیب فاسٹ فوڈز اور شیف برادری کا بھی مکو ٹھپنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ شہریوں کی طرف سے جس قدر پذیرائی اور لائکس اُنھیں مل رہی ہیں، اُس سے لگتا ہے کہ وُہ دن دور نہیں جب بہت سارے شیف کچن میں مرچ مصالحوں کی تعریفیں کرنے کی بجائے کھیتوں میں کھڑے ہو کر گاجر اور مُولی کے گُن گا رہے ہوں گے۔
آرگینک کا بخار شہر کے تقریباً تمام امیروں کو چڑھ چکا ہے۔ علاج کے طور پر مریضوں کو صرف آرگینک پھل اور سبزیاں ہی نہیں بلکہ آرگینک گوشت، دودھ اور انڈے بھی کھلائے جا رہے ہیں۔ مرغیوں اور جانوروں کو ڈربوں اور ڈیری فارموں سے نکال کر ایک بار پھر کھیتوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جس پر یہ تمام بے زبان محوِ حیرت اور سخت ناراض ہیں کیونکہ اُن کے مزیدار ولایتی کھانے بند کر کے اُنھیں ایک بار پھر گرمی سردی میں بے مزہ گھاس پھوس اور جڑی بوٹیاں کھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ البتہ اُن کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ اگر امیر شہری اپنے پرآسائش گھر چھوڑ کر دیہاتوں میں گارے مٹی کے بنے ہوئے آرگینک گھروں میں رہائش اختیار کر لیں تو اُنھیں اپنی قدرتی خوراک کھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
شہریوں کی مُولی میں غیر معمولی دلچسپی اور اُس کا اتا پتا معلوم کرنے کی کوشش میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ مُولی کو اپنی گوری چِٹی رنگت اور ملائم و سڈول جسامت کی بدولت تمام سبزیوں میں وہی درجہ حاصل ہے جو آم کو پھلوں میں۔ آم اگر پھلوں کا بادشاہ ہے تو مُولی سبزیوں کی شہزادی ہے۔ مُولی جب صبح سویرے نہار منہ، نہا دھو کر جلوہ گر ہوتی ہے تو اِس کے قرب و جوار میں پڑی سبزیوں کے دِلوں میں حسد کی آگ بھڑک اُٹھتی ہے۔ بینگن تو حسد میں جل کر کالا شاہ ہو چکا ہے جب کہ کریلے میں کڑواہٹ کوٹ کوٹ کر بھر چکی ہے۔ بہرحال حاسدوں کا یہ حال ہونا ایک فطری عمل ہے۔ یہاں اِس راز سے بھی پردہ اُٹھانا ضروری ہے کہ آپ مُولی سے زیادہ سوال و جواب اور بے تکلّفی اختیار نہ کریں کیونکہ یہ ظاہری حسن و جمال رکھنے کے باوجود زبان کی بڑی کڑوی ہے۔ مثل مشہور ہے: ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی۔

کھیت کی مُولی، آرگینک سبزیاں، سوشل میڈیا طبیب، شہری خوراک، دیہاتی طرزِ زندگی، طنزیہ اردو مضمون، راجا ناصر محمود، سبزیوں کی شہزادی، اردو ادب، 

Facebook Comments

راجہ ناصر محمود
راجا ناصر محمود قطر میں مقیم ایک کہنہ مشق اور وسیع المطالعہ فیچر رائٹر ہیں جو گزشتہ تین دہائیوں سے وہاں آباد ہیں۔ وہ پاکستان اور عالمی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں اور معاشرتی مسائل پر اپنے بصیرت افروز اور شائستہ اسلوب میں اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ ان کے کالم طنز، مزاح اور سنجیدہ فکری تجزیے کا حسین امتزاج ہوتے ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مطالعہ، سفر اور مشاہدہ ان کے ذوق کا حصہ ہیں جن سے اُن کے خیالات کی گہرائی اور تحریر کا حسن مزید نکھرتا ہے۔ راجا ناصر محمود ایک متوازن، سنجیدہ اور شگفتہ قلم کار ہیں جو انسانی رویّوں اور روزمرہ حقیقتوں کو فکرانگیز اور دیرپا تاثر میں ڈھالتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply