سپر سٹار : مارکسی تناظر/ذوالفقار علی زلفی

میڈم سائرہ رباب نے اپنی حالیہ تحریر “فن، جمالیات اور مزاحمت ــــ مارکس سے مارکیوز تک” کے ذریعے ہمارے درمیان جاری بحث کو شعوری یا شاید لاشعوری طور پر الجھانے کی کوششش کی ہے ـ مارکیوز پر میرا مطالعہ محدود ہے، فلمی اسکالرز عام طور پر ان کے حوالے اور طویل اقتباسات شیئر کرتے رہتے ہیں جس سے مجھے ان کے نظریات سے تھوڑی بہت آگاہی ملتی رہتی ہے ـ
سائرہ کی تحریر سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے مارکیوز نے مارکس ازم کو رد کرکے ایک نیا نظریہ پیش کیا جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے ـ مارکیوز ایک مارکسی دانش ور ہیں جنہوں نے مارکسی نظریے کو ہی بنیاد بنا کر اپنا نظریہِ فن ترتیب دیا یعنی وہ مارکسی تھیوری کی توسیع کا کام کرتے ہیں اس کی نفی نہیں ـ مارکیوز نے اینگلز کے نظریہ فن کو آگے بڑھا کر واضح کیا کہ سرمایہ دارانہ نظام آزادی کا فریب دے کر انسانوں کے شعور کو یک رخا بنانے کی کوشش کرتی ہے جو مارکس ازم کے ہی بنیادی مقدمے سے ماخوذ ہے ـ
اسی طرح سائرہ رُباب نے مارکیوز کے نظریے کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے بنا اسے فلمی صنعت اور سپراسٹار سسٹم پر منطبق کرنے کے ساتھ ساتھ شاعری، موسیقی، مصوری یا ناول جیسے انفرادی فنون کو سرمایہ دارانہ اسٹوڈیوز میں بننے والی فلم کے ساتھ جوڑ دیا جس سے مارکیوز کی نظریاتی تفہیم الجھاؤ کا شکار ہوگئی ـ
اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے کوشش کروں گا کہ مارکیوز کے مارکسی نظریے کو جاری بحث یعنی سپراسٹار سسٹم پر اطلاق کرکے بحث کو دوبارہ اسی ٹریک پر لاؤں جہاں سے یہ شروع ہوا تھا ـ
فارم کی مبہم تفسیر
سائرہ رباب کے مطابق // مارکسی نقاد فن کے مواد پر زور دیتے تھے، مگر مارکیوز نے بتایا کہ اصل انقلابی چیز Form (صورت، ساخت، آہنگ) ہے، کیونکہ یہی روزمرہ کے میکانکی نظم کو توڑتی ہے۔
“Form itself can be revolutionary.”
یعنی اگر فن اپنے اسلوب یا آہنگ میں طاقت کے نظام سے مختلف ہے تو وہ خود مزاحمت ہے، چاہے موضوع سیاسی نہ ہو ـ //
یہاں دو پہلو مبہم ہیں ـ
اول؛ مارکسی ناقدین اور مارکیوز کو جدا قرار دیا گیا ہے جس سے تاثر ابھرتا ہے جیسے مارکیوز ایک غیر مارکسی نقاد ہیں جو یقینی طور پر غلط ہے ـ مارکیوز فرینکفرٹ اسکول کے نمایاں ترین مارکسی دانش ور ہیں ـ
دوم؛ فارم کی بحث میں مارکیوز کا لہجہ حتمی یا آفاقی نہیں ہے جیسا کہ اس اقتباس سے لگ رہا ہے ـ فارم اپنے مخصوص سیاق و سباق میں ہی انقلابی یا مزاحمتی ہوسکتی ہے ـ ہر جگہ اس کا یکساں اطلاق نہیں کیا جاسکتا ـ
مثال کے طور پر سویت یونین کے فلم سازوں آئزنشٹائن، پوڈوفکن، کولوشوف اور دیگر نے مونتاژ کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کیا اس زمانے (20s اور 30s) میں یہ انقلابی قدم تھا ـ انہوں نے فارم کے ذریعے بورژوا سینما کے پروپیگنڈے کو کامیابی سے کاؤنٹر کیا ـ آج مگر مونتاژ سرمایہ دارانہ فلموں میں بھی استعمال ہورہا ہے ـ حتی کہ ٹی وی اشتہارات میں بھی مونتاژ کا استعمال عام ہے ـ اس سے ثابت ہوتا ہے فارم مخصوص حالات میں ہی مزاحمتی ہوسکتا ہے ـ
اسی طرح بریخت کے تھیٹر کے حوالے سے بھی سائرہ نے معاصر دور کو نظر انداز کیا ہے ـ درست ہے مارکیوز اسے مزاحمت کی مثال سمجھتا ہے، جو کہ وہ اپنی مارکسی ہیئت کی وجہ سے تھا بھی مگر آج کی ڈیجیٹل دنیا میں بریخت تھیٹر کی تکنیکیں کس حد تک مزاحمتی ہیں؟ ـ برصغیر کے سینما میں پین انڈیا مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق تجارتی فلمیں سپراسٹار سسٹم، سرمایہ دارانہ اسٹوڈیوز اور پروڈکشن ہاؤسز کے مفادات کے ذریعے مزاحمت کو کم زور کیا جاتا ہے ـ
فارم ہر صورت میں مزاحمت کرتا ہے؛ نہ یہ مارکیوز کا استدلال ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے ـ خود سائرہ رباب نے بھی کم از کم سینما کے تناظر میں وضاحت نہیں دی کہ فارم کب مزاحمتی بنتا ہے ـ
سینما فارم کے ذریعے سماعتی و بصری تلذز فراہم کرکے اپنے سپراسٹارسسٹم کے ذریعے اسے کموڈیٹی میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے ـ پشپا کا “میں جھکے گا نہیں سالا” گیت، رقص، لباس اور جنسی اداؤں کے ساتھ فٹ ہوکر کنزیومرازم میں تبدیل ہوجاتا ہے ـ جس سے ساؤتھ فلم انڈسٹری کا نام نہاد subaltern aesthetic یا عام فہم لفظوں میں جنگل کے مزدوروں کی جمالیات پان انڈیا مارکیٹ میں جذب ہوکر سطحی تماشا بن جاتا ہے جس سے لذت تو حاصل کی جاسکتی ہے مگر کسی مزاحمت کا تاثر نہیں ملتا ـ
جمالیاتی آزادی کا یوٹوپیا
سائرہ رباب کے مطابق :
“مارکوز کے نزدیک فن صرف پیداوار نہیں بلکہ پیداواری طاقت (productive force) ہے ۔۔۔یعنی فن خود نئی حقیقتیں، نئے احساسات اور آزادی کے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فن نظام کا محض نتیجہ نہیں ، بلکہ نظام بدلنے کی قوت بن سکتا ہے۔
اس کے نزدیک فن محض حقیقت کی عکاسی نہیں بلکہ اس کی نفی ہے، کیونکہ موجودہ حقیقت خود نامکمل ہے۔ طاقت کے نظام نے جو دنیا دکھائی ہے، فن اسی ترتیب کو توڑ کر نئی ترتیب تجویز کرتا ہے۔”
فن کو “پیداواری قوت” قرار دینا مبالغہ آمیز اور غلط فہمیوں کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے ـ مارکیوز کے اس نظریے پر خود فرینکفرٹ اسکول کے دیگر مارکسی نظریہ دان شدید تنقید کرچکے ہیں ـ بالخصوص اڈورنو نے سماجی و معاشی پیداواری قوتوں کے تجزیے میں فن پر اس کے اثرات کا جائزہ لے کر اسے ایک تصوراتی نظریہ قرار دیا تھا ـ
فن کو تبدیلی کا محرک یا نظام بدلنے کی قوت قرار دینا بھی مارکیوز کے نظریے کو کم زور بنا دیتا ہے ـ مارکس، اینگلز اور لینن جیسے عظیم مارکسی نظریہ دان ثابت کرچکے ہیں کہ تبدیلی صرف طبقاتی جدوجہد اور ایک منظم کمیونسٹ پارٹی سے ہی آتی ہے ـ لینن نے اکتوبر انقلاب کے بعد سینما سمیت دیگر فنون کو مزدور طبقے کی نظریاتی تربیت اور بورژوا پروپیگنڈے کو کاؤنٹر کرنے کے لئے استعمال کرنے پر زور دیا ـ غالباً اڈورنو نے بھی فن کو انقلابی عمل میں ایک “حصہ دار” کے طور پر شناخت کیا ہے جو میرے نزدیک ایک درست مارکسی نکتہِ نظر ہے ـ
اسی طرح فن کو حقیقت کی نفی قرار دینا بھی نظری لحاظ سے درست نہیں ہوگا ـ فن یقیناً ترتیب توڑتا ہے مگر وہ ایک نئی حقیقت تشکیل دیتا ہے، یہاں آکر مارکیوز چوک جاتا ہے ـ بقول اڈورنو حقیقت کبھی اپنے تصور سے ہم آہنگ نہیں ہوتی ، فن کسی بھی “حقیقت” کے تضادات کو واضح کرسکتا ہے مگر کسی نئی حقیقت کی تخلیق نہیں کرتا ـ اڈورنو کے نظریے کو مزید پھیلایا جائے تو فن non-identity کے ذریعے نئی حسیت پیدا کرسکتا ہے مگر کونسا فن؟ ـ اس پر بھی طویل نظری بحث کی جاسکتی ہے جس کا شاید یہ مقام نہیں ہے ـ
جنوب کا سینما ہندی کے متبادل
سائرہ رباب نے جنوبی ہندوستان کے سینماؤں کو ہندی سینما کے متبادل قرار دے کر اسے عوامی جمالیات کا منصب عطا کیا ہے ـ میرے نزدیک اس قسم کی حتمی رائے دینے سے پہلے جنوبی سینما کے حالیہ ابھار کے محرکات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ جنوب کے سپراسٹار سسٹم اور پین انڈیا مارکیٹ کے ساتھ اس کی جُڑت کا تجزیہ کرنا چاہیے ـ
میں اسی وال پر لکھ چکا ہوں کہ “پشپا” مزدور طبقے کو آزادی کا فریب دے کر اسے کنٹرول کرتا ہے ـ مارکیوز نے بھی واضح کیا ہے کہ جدید سرمایہ دارانہ نظام فرد کو آزادی کا تاثر دے کر اسے اپنے بنائے ہوئے دائرے میں قید کرتا ہے ـ جنوب کا سینما (چند استثنی موجود ہیں) بھی یہی کرتا آرہا ہے ـ فارم اور سپراسٹار سسٹم (پربھاس، الو ارجن، رجنی کانت، وجے تھلاپتی وغیرہ) کے ذریعے پیدا ہونے والا آزادی و مزاحمت کا تاثر اپنے گہرے تجزیے میں محض سطحی تماشا اور فریب ہیں ـ جسے میں “سینما کا دلفریب دھوکہ” قرار دیتا ہوں ـ
جنوب کی بڑی بڑی فلمیں “کے جی ایف” ، “باہو بالی” ، “سالار” ، “قلی” یا دیگر کے نظریاتی تجزیے سے نتیجہ نکلتا ہے یہ ہیجان، لذت، اساطیر، دیہی ثقافت اور مزاحمت کو عالمی معیار پر پیش کرکے “آزادی” کا تاثر دیتے ہیں لیکن آخر میں یہ نظم کو بحال کردیتے ہیں جو مزاحمت نہیں مصالحت ہے ـ مزاحمت تب پیدا ہوتی ہے جب فارم فلم بین میں نئی حسیات پیدا کرے ـ اگر فارم کا مقصد محض ہیجان پیدا کرنا ہے جیسے کہ جنوب کا سینما کرتا ہے تو وہ مزاحمت نہیں کہلا سکتی ـ اس حوالے سے جنوب کے عظیم سپراسٹار رجنی کانت کی فلم “کالا” ایک استثنی ہے ـ مگر یہ بھی واضح رہے بھارت کی سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں یہ فلم تجارتی لحاظ سے ناکام ہوگئی تھی ـ جیسے گلوبل سپراسٹار شاہ رخ خان کی مزاحمتی فلم “سودیس” کو بازار نے مسترد کردیا تھا ـ اس ناکامی کو سپراسٹار سسٹم میں اپنے ہی چراغ سے جلنا قرار دیا جاسکتا ہے ـ
ہندی کلاسیک مثالیں
محض لباس کی تبدیلی یا شہر کو گاؤں یا جنگل میں بدل دینے سے مزاحمت پیدا نہیں ہوتی ـ ہندی سینما میں “مدر انڈیا” اور “گنگا جمنا” دیہی ثقافت اور جاگیردارانہ نظام کو پیش کرتی ہیں ـ دونوں فلموں میں کردار جاگیردارانہ نظام کے استحصال کے ردعمل میں ڈاکو بن جاتے ہیں ـ مدرانڈیا اپنے بیٹے برجو کو قتل کرکے نہرو کی ڈیم پالیسی کی حمایت کرتی ہے جو ستیہ جیت رے کے نیو رئیل اسٹ سینما پر تنقید ہے ـ
“گنگا جمنا” کا دلیپ کمار اختتام میں ریاست کے سامنے سرینڈر کرکے نہرو پالیسی سے اتفاق کرکے اسے کسان کی نجات کا راستہ تسلیم کرلیتا ہے ـ گویا محض دھوتی، مٹی سے اٹے چہرے، کھیت کھلیانوں کی منظر کشی سے مزاحمت پیدا نہیں ہوتی ـ
حرفِ آخر
میں کوئی محقق، فلم ناقد، فلسفی یا نظریہ دان نہیں ہوں ـ میں کراچی کے حاشیے میں پلنے والا ایک عام محنت کش انسان ہوں ـ میرے مخاطب مجھ جیسے عام انسان ہیں ـ اس تناظر میں کوشش کرتا ہوں بنا کتابی اصطلاحات کے سادہ اور عام فہم انداز میں لکھوں تاں کہ میرے جیسے لوگ میرے ساتھ جُڑ کر فلم کو سمجھنے کی کوشش کریں ـ
ادق فلسفیانہ مباحث سے گریز کرتا ہوں ـ اس بحث کا محور برصغیر کا سپراسٹار سسٹم ہے کہ وہ کیسے کام کرتا ہے اور کس طرح فلم بینوں کو آزادی اور مزاحمت کا فریب دے کر ریاستی نظم بحال کرتا ہے ـ سو بحث کا دائرہ یہاں تک محدود رہے تو مجھ جیسے کم علم کو بات کرنے میں زیادہ آسانی رہے گی ـ

Facebook Comments

ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply