• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • علامہ اقبالؒ کے یوم پیدائش پر ایک شرمندہ کالم /سیّد سردار احمد پیرزادہ

علامہ اقبالؒ کے یوم پیدائش پر ایک شرمندہ کالم /سیّد سردار احمد پیرزادہ

ہم علامہ اقبالؒ کا یوم پیدائش 9نومبر کو ظاہری جوش و جذبے سے مناتے ہیں جسے منافقت بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہمارے اِس مزاج پر شرمندگی سے بھرپور ایک کالم پیش خدمت ہے۔ اگر قیامت کے روز ہمارا سامنا اقبالؒ سے ہو گیا تو ایک اور قیامت ہوگی۔ وہ کہیں گے کہ میرے نام پر تم نے بہت کمائی کی۔ میرے نام کو خوب بےچا لیکن میرے کہنے پر عمل کتنا کےا؟ مےں نے تو بچوں کو خوشامد پسندی کا دردناک عذاب سمجھانے کے لئے ”اےک مکڑا اور مکھی“ نظم لکھی لےکن تم تو بڑے ہوکر بھی بچوں سے چھوٹے نکلے اور خوشامد کے چکنے راستے پر پھسل کر خوشی سے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ اس کا انجام مےں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ:
مکھی نے سنی جب ےہ خوشامد تو پسےجی
بولی کہ نہےں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا
انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں
سچ ےہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہےں ہوتا
ےہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے
پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی
آرام سے گھر بےٹھ کے مکھی کو اڑایا
علامہ اقبالؒ کہیں گے کہ میں نے تمہیں اپنی نظم ”پہاڑ اور گلہری“ کے ذرےعے بڑائی پر غرور کرنے سے منع کےا تھا اور کسی کو حقیر جان کر اُس سے حقارت نہ کرنے کا سبق دےا تھا لےکن تم باز نہ آئے اور چھوٹی اور کمزور شے سے بھی بے عزتی کرا بےٹھے۔
قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نری بڑائی ہے! خوبی ہے اور کےا تجھ مےں
جو تُو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
ےہ چھالےا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو
علامہ اقبالؒ ہم سے پوچھیں گے کہ میں نے تمہیں کیا یہ نہیں بتاےا تھا کہ مضبوط ارادے کو خدا کی مدد حاصل ہوتی ہے اور انسان اپنی تقدےر خود بنا سکتا ہے ورنہ:
تن بہ تقدےر ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں مےں خدا کی تقدےر
تھا جو ناخوب، بتدرےج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
علامہ اقبالؒ ہماری طرف انگلی کا اشارہ کرکے کہیں گے کہ میں نے تمہےں وہ راز بھی بتائے تھے جن سے اقوامِ عالم مےں معراج حاصل کرسکتے ہو۔ کےا تم نے مےرے ےہ اشعار نہےں پڑھے تھے؟
دے ولولہ شوق جسے لذتِ پرواز
کرسکتا ہے وہ ذرہ مہ و مہر کو تاراج!
ناوک ہے مسلماں! ہدف اس کا ہے ثرےا
ہے سرِّ سرا پردہ جاں نکتہ معراج
علامہ اقبالؒ ہمارے قرےب آکر سرگوشی مےں کہےں گے کہ تم سب مال و زر کے پےچھے پڑگئے حالانکہ مےں نے تمہےں واضح بتاےا تھا کہ دنےا مےں صرف مال و زر سے عزت نہےں بڑھتی۔
اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات
جو فقر سے ہے میسر تونگری سے نہیں!
اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیر
قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں!
ہم قیامت کے روز علامہ اقبالؒ کے سامنے شرمندہ کھڑے ہوں گے اور وہ چپ چاپ وہاں سے چلے جائےں گے۔ ہم سوچنے لگےں گے کہ دنےا مےں کہا جاتا تھا اقبالؒ اےک تحرےک کا نام ہے، وہ ہردور مےں زندہ رہےں گے۔ ےہ سچ تھا کےونکہ اقبالؒ نے تقریباً سوبرس پہلے ہی کرپشن مقدمات کا فےصلہ ”اسرارِ خودی“ میں یوں سنا دیا تھا:
آتش جان گدا جوع گداست
جوع سلطان ملک و ملت را فناست
ےعنی ”گدا کی بھوک صرف اس کی جان کھا لیتی ہے جبکہ سلطان کی بھوک تو ملک و ملت کھا جاتی ہے“۔

علامہ اقبالؒ یومِ پیدائش 9 نومبر،اقبالؒ کی نظموں کا پیغام،خوشامد اور منافقت پر اقبالؒ،پہاڑ اور گلہری نظم کا سبق،اقبالؒ کا فلسفہ خودی،قوموں کی غلامی اور ضمیر،اقبالؒ کی شاعری میں اصلاحِ معاشرہ،اقبالؒ کا تصورِ فقر و قلندری،اقبالؒ کی تعلیمات پر عمل،اقبالؒ اور ہماری بے عملی،اقبالؒ کی فکر اور آج کا معاشرہ،اقبالؒ کی نظموں سے سبق،اقبالؒ کا پیغام نوجوانوں کے لیے،اقبالؒ اور کرپشن کے خلاف پیغام،اقبالؒ کا تصورِ عزت و غیرت

julia rana solicitors london

بشکریہ نئی بات

Facebook Comments

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply