علامہ کا ایما سے عشق’یومِ اقبال پر خصوصی تحریر/انور مختار

Love of Iqbal with Emma Wegenast
The love story of Emma Wegenast and Allama Iqbal remains a mystery even after more than seventy years. Emma Wegenast was a German woman and a language teacher who met Iqbal during his brief stay in Heidelberg in the summer of 1907.
فکرِ اقبال کے سینکڑوں پہلو ہیں جن کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے ان کی توضیح، تفہیم، تشریح اور تحقیق پر ہزاروں کتابیں تحریر کی گئی ہیں جبکہ سینکڑوں کانفرنسوں میں ہزاروں مقالات پڑھے جاتے ہیں آپ مجموعہ وظائف و اوصاف و کمال تھے علم و حکمت‘ علم اقتصاد، شاعری؛ سیاسی؛ شعوری‘ فلسفہ و اللھیات اور سائنس‘ وہ کون سا ایسا میدان ہے جس میں علامہ نے اپنا لوہا نہیں منوایا۔آپ جب شاعری کرنے پر آئے تو قرآن کی آیات کی تفسیر کر ڈالی علامہ اقبال کی شخصیت کا ایک پہلو دانشور، حکیم الامت اور مفکر پاکستان کا ہے، جو مطالعہ پاکستان کی درسی کتابوں اور 9 نومبر یا 21 اپریل کو ہونے والی سرکاری تقریبات کا موضوع ہوتا ہے مگر ان کی شخصیت کا ایک رخ جذبات سے مغلوب نوجوان کا بھی ہے ہر انسان کی طرح اقبال کی زندگی کے دو پہلو ہیں ایک ان کی ذاتی زندگی اور دوسرا وہ تہذیبی روایات جن کی آغوش میں اقبال کے ذہن نے پرورش پائی اقبال کی شخصیت کو محض تصوف اور ملت اسلامیہ کے تصورات میں مقید کرنے سے ان کی شخصیت کو رومانوی پہلو چھپا دیا گیا ہے جس کا اظہار وہ اپنی شاعری میں کرتے رہے ہیں اُن کے کلام کے مخصوص حصوں پر ہی بات کرنا اقبال کے ساتھ نا انصافی ہے اقبال نے خود کہا کہ
اقبال بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں مین موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا
علامہ محمد اقبال کے کلام میں برہمنیت، کاشمیریت، جمالیت، وطنیت، فطانت، حکمت،
ادبیت کے علاوہ عشق و محبت عیاں ہے علامہ اقبال کے عہد شباب میں صوفی نہیں بلکہ ایک عام انسان تھا جس کے قلب میں محبت کے تار چھڑے جس کے کلام میں محبوب کی تعریف ہے جس کے جذبات میں رومانویت ہے بانگ درا کے حصہ دوئم میں ان کی رومانوی شاعری کی جھلک نظر آتی ہے
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
مانا کے تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو مرا شوق دیکھ ، مرا انتظار دیکھ
کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہگزر میں نقش کف پائے یار دیکھ
ان نظموں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال اپنی اور محبوب کی ذات کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم قرار دیتا ہے، جیسے وہ بنے ہی ایک دوسرے کے لیے ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور جینے کی خاطر ہی پیدا کیے گئے ہوں، ان کے دلوں کا یہ رشتہ، ان کی روحوں کا یہ تعلق، ازلی و ابدی ہے، کبھی نہ ٹوٹنے والا۔
تو جو محفل ہے، تو ہنگامہ محفل ہوں میں
حسن کی برق ہے تُو، عشق کا حاصل ہوں میں
تُو سحر ہے تو میرے اشک ہیں شبنم تیری
شام غربت ہوں اگر میں، تو شفق تُو میری
میرے دل میں تری زلفوں کی پریشانی ہے
تیری تصویر سے پیدا مری حیرانی ہے
حُسن کامل ہے ترا، عشق کامل ہے مرا
The “Iqbal and Emma love” refers to the deep but unconsummated affection between the poet Muhammad Iqbal and his German tutor, Emma Wegenast, during his time in Heidelberg, Germany, in 1907. While Iqbal had to return to India without her and could not marry her due to family opposition, their connection was a significant influence on his later life and work, as evidenced by the letters he wrote to her.
“ڈاکٹر جاوید اقبال” اپنی کتاب “زندہ رُود” میں لکھتے ہیں کہ “جرمنی میں اقبال کا قیام اگرچہ مختصر تھا لیکن اس کے باوجود اس سرزمین جرمن شعر و ادب اور فلسفے سے انہیں گہری جذباتی اور روحانی وابستگی پیدا ہوگئی تھی۔ اس وابستگی کے پیدا کرنے میں ایما ویگے ناست کا بڑا ہاتھ تھا، کیونکہ جرمن زبان اور ادب و فلسفے سے ایما ویگے ناست ہی نے اقبال کو روشناس کرایا تھا ایما ویگے ناست ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد جرمن زبان کے ایک اسکول (پینسیون شیرر) سے منسلک ہوگئیں اور یہیں جولائی 1907ء میں اقبال کی ان سے ملاقات ہوئی۔ تب ایما ویگے ناست کی عمر اٹھائیس برس تھی۔ اقبال نے انہی سے جرمن زبان سیکھی اور جرمن شاعری اور ادب سے متعارف ہوئے۔ دونوں روزانہ ملتے اور گوئٹے کی تخلیقات اور جرمن فلسفے پر تبادلہ خیالات کرتے ایما ویگے ناست ایک ذہین اور حسین خاتون تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے دل و دماغ کے فاصلے بتدریج کم ہوتے چلے گئے اقبال کی ایما ویگے ناست کے ساتھ مراسلت کے بارے میں اب تک دریافت شدہ خطوط کی تعداد ستائیس(27) ہے۔ پہلا 16 اکتوبر 1907ء کو اور آخری 21 جنوری 1933ء کو لکھا گیا۔سترہ (17) خط جرمن زبان میں ہیں اور دس(10) انگریزی میں۔ایما ویگے ناست جرمن زبان کے علاوہ اور کوئی زبان نہ جانتی تھیں انہوں نے اقبال کو جو خطوط لکھے، وہ محفوظ نہیں۔ دونوں نے آپس میں تصاویر اور تحائف کا تبادلہ بھی کیا۔ اقبال انہیں اپنی تقاریر یا کلام بھی بھیجتے رہتے تھے اور بعض اوقات ان کے کلام کا جرمن ترجمہ بھی ایما ویگے ناست کی وساطت سے ہائیڈل برگ کے اخبارات میں چھپتا تھا”
شاعر مشرق کی ’’مغرب‘‘ میں اپنی اتالیق سے عشق کی ابتدا ہائیڈل برگ میں دریائے نیکر کے سرسبز و شاداب کنارے کے سحر انگیز اور رومان پرور ماحول میں ہوئی تھی۔ نیلی آنکھوں اور کالے گیسوؤں والی 28 سالہ جرمن دوشیزہ ایما کی محبت گو پروان نہ چڑھ سکی، لیکن یہ نامکمل تعلق اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑ گیا تھا ان میں اقبال کے خطوط خاص طور پر قابل ذکر ہیں، جن میں ہمیں وہ اقبال ملتا ہے جو پاکستان میں متعارف کروائے گئے اقبال سے بالکل ہی مختلف ہے۔ ان خطوط میں اقبال نے اپنی ذہنی کیفیت کا کھل کر اظہار کیا تھا اور ایما کےلیے اپنے پرخلوص جذبات بیان کیے تھے اقبال پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق نوجوان اقبال کےجذباتی دور کی سب سے بہترین عکاسی “ایما ویگیناسٹ” کو لکھے ان کے خطوط کرتے ہیں۔ ان خطوط کی رومانوی فضا کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اقبال کے جون 1908ء کو لکھے گئے ایک خط کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے ”میرا جسم یہاں ہے، میرے خیالات جرمنی میں ہیں۔آج کل بہار کا موسم ہے، سورج مسکرا رہا ہے لیکن میرا دل غمگین ہے۔ مجھے کچھ سطریں لکھیے، آپ کا خط میری بہار ہو گا۔ میرے دل غمگین میں آپ کے لیے بڑے خوبصورت خیالات ہیں اور یہ خاموشی سے یکے بعد دیگرے آپ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔”بقول اکمل سومرو” اقبال کی زندگی کے دو پہلو ہیں ایک ان کی ذاتی زندگی اور دوسرا وہ تہذیبی روایات جن کی آغوش میں اقبال کے ذہن نے پرورش پائی۔اقبال کی شخصیت کو محض تصوف اور ملت اسلامیہ کے تصورات میں مقید کرنے سے ان کی شخصیت کو رومانوی پہلو چھپ گیا ہے جس کا اظہار وہ اپنی شاعری میں کرتے ہیں۔ اُن کے کلام کے مخصوص حصوں پر ہی بات کرنا اقبال کے ساتھ نا انصافی ہے علامہ اقبال کے عہد شباب میں صوفی کا نہیں بلکہ ایک عام انسان کا بسیرا تھا،جس کے قلب میں محبت کے تار چھڑے، جس کے کلام میں معشوق کی تعریف ہے، جس کے جذبات میں رومانویت ہے۔ بانگ درا کے حصہ دوم میں ان کی رومانوی شاعری کی جھلک ملتی ہے لیکن اس اجمال میں تفصیل کی بے شمار رمزیں پوشیدہ ہیں۔ علامہ اقبال صاحب ذوق مرد کی طرح اپنے مذاق اور معیار کی عورت کے متلاشی رہے اور جرمنی جا کر اپنے دل کی مُراد پالی یہ خط جس لڑکی کو لکھا گیا تھا وہ” ایما ویگیناسٹ” تھیں مگر یہ کون تھیں؟ بی بی سی اردو کے نمائندے ظفر سید صاحب “علامہ اقبال اور ایما کا تعلق، عشق یا سادگی کی انتہا؟” کے عنوان سے اپنے آرٹیکل میں اس عشق کے بارے میں لکھتے ہیں کہ “میں زیادہ لکھ یا کہہ نہیں سکتا، آپ تصور کر سکتی ہیں کہ میری روح میں کیا ہے۔ میری بہت بڑی خواہش ہے کہ میں دوبارہ آپ سے بات کر سکوں اور آپ کو دیکھ سکوں، لیکن میں نہیں جانتا کیا کروں۔ جو شخص آپ سے دوستی کر چکا ہو اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ آپ کے بغیر جی سکے۔ براہِ کرم میں نے جو لکھا ہے اس کے لیے مجھے معاف فرمائیے یہ خط علامہ محمد اقبال کے ایملی ایما ویگےناسٹ کے نام جرمن زبان میں لکھے گئے متعدد خطوط میں سے ایک ہے۔ ایما سے اقبال کی ملاقات دریائے نیکر کے کنارے واقع سرسبز و شاداب مناظر سے مالامال قصبے ہائیڈل برگ میں ہوئی تھی۔ ایک تو ماحول رومان پرور، اوپر سے اقبال بھرپور جوانی کے عالم میں اور پھر حسین و جمیل ایما۔ حیرت کی بات یہ نہیں ہے کہ ایک ہندوستانی شاعر کا دل ان پر آ گیا، نہ آتا تو حیرت ہوتی۔

اقبال کی نظم ایک شام (دریائے نیکر، ہائیڈل برگ، کے کنارے پر) سے ان کے جذبات کا اندازہ ہوتا ہے:
خاموش ہے چاندنی قمر کی / شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی
وادی کے نوا فروش خاموش / کہسار کے سبز پوش خاموش
فطرت بے ہوش ہو گئی ہے / آغوش میں شب کے سو گئی ہے
کچھ ایسا سکوت کا فسوں ہے / نیکر کا خرام بھی سکوں ہے
اے دل! تو بھی خموش ہو جا / آغوش میں غم کو لے کے سو جا
اقبال کے دل میں ایما کا کیا مقام تھا اور ان کے ایما سے تعلقات کی نوعیت کیا تھی، اس کا کچھ کچھ اندازہ اس خط سے لگایا جا سکتا ہے:
‘براہِ کرم اپنے اس دوست کو مت بھولیے جو آپ کو ہمیشہ اپنے دل میں رکھتا ہے اور جو آپ کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ ہائیڈل برگ میں میرا قیام ایک خوبصورت خواب سا لگتا ہے اور میں اس خواب کو دہرانا چاہتا ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے؟ آپ خوب جانتی ہیں۔’
ان خطوط سے اقبال کے اس روایتی تصور سے بالکل مختلف تصویر ہمارے سامنے آتی ہے جو ہم شروع ہی سے نصابی کتابوں اور یومِ اقبال پر کی گئی تقاریر میں دیکھتے رہے ہیں۔ ان خطوط میں اقبال حکیم الامت اور مفکرِ پاکستان کم اور جذبات سے مغلوب نوجوان زیادہ نظر آتے ہیں۔
21 جنوری 1908ء کو انھوں نے لندن سے ایما کے نام خط میں لکھا:
‘میں یہ سمجھا کہ آپ میرے ساتھ مزید خط و کتابت نہیں کرنا چاہتیں اور اس بات سے مجھے بڑا دکھ ہوا۔ اب پھر آپ کا خط موصول ہوا ہے جس سے مجھے بڑی مسرت ہوئی ہے۔ میں ہمیشہ آپ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں اور میرا دل ہمیشہ بڑے خوبصورت خیالوں سے معمور رہتا ہے۔ ایک شرارے سے شعلہ اٹھتا ہے۔ اور ایک شعلے سے ایک بڑا الاؤ روشن ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ سردمہر ہیں، غفلت شعار ہیں۔ آپ جو جی میں آئے کیجیے، میں کچھ نہ کہوں گا، ہمیشہ صابر و شاکر رہوں گا۔’
‘خوش رہنے کا حق’
اقبال اس وقت نہ صرف شادی شدہ تھے بلکہ دو بچوں کے باپ بھی بن چکے تھے، یہ الگ بات کہ 18 برس کی عمر میں والدین کی پسند سے کریم بی بی سے ہونے والی اس شادی سے وہ سخت ناخوش تھے۔ ایک خط میں انھوں نے لکھا:
‘میں نے والد صاحب کو لکھ دیا ہے کہ انھیں میری شادی طے کرنے کا کوئی حق نہیں تھا، خصوصاً جب کہ میں نے پہلے ہی اس قسم کے کسی بندھن میں گرفتار ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ میں اس کی کفالت کے لیے تیار ہوں لیکن اس کو ساتھ رکھ کر اپنی زندگی کو عذاب بنا لینے کے بالکل تیار نہیں ہوں۔ ایک انسان کی حیثیت سے مجھے بھی خوش رہنے کا حق حاصل ہے، اگر سماج یا قدرت مجھے یہ حق دینے سے انکار کرتے ہیں تو میں دونوں کا باغی ہوں۔ اب صرف ایک ہی تدبیر ہے کہ میں ہمیشہ کے لیے اس بدبخت ملک سے چلا جاؤں یا پھر شراب میں پناہ لوں جس سے خودکشی آسان ہو جاتی ہے۔’
برطانیہ پہنچ کر مشرق کی پراسرایت سے معمور اور غیر معمولی حد تک ذہین و فطین اقبال نے خواتین کی توجہ مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچ لی۔ اس وقت تک ان کا کلام شمالی ہندوستان کے گوشے گوشے میں معروف ہو چکا تھا اور لوگ گلیوں میں اسے گاتے پھرتے تھے، اور اس شہرت کے کچھ کچھ چرچے انگلستان بھی پہنچ چکے تھے ان سے متاثر ہونے والی انھی خواتین میں سے ایک عطیہ فیضی تھیں (عطیہ فیضی کی علامہ اقبال سے جڑی یادوں پر شائع ہونے والی کتاب ’اقبال‘ انگریزی میں ہے۔ اس کتاب میں اقبال کے تحریر کردہ مکتوبات اور شاعری کے عکس بھی شامل ہیں) انھوں نے ایک کتاب Iqbal
لکھی جس میں اقبال کے اس دور پر روشنی ڈالی ہے عطیہ فیضی بمبئی کے ایک متمول خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد حسن آفندی بڑے تاجر تھے جو دوسرے ممالک کا سفر کرتے رہتے تھے۔ وہ روشن خیال تھے اور انھوں نے نہ صرف اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی بلکہ ان پر پردہ کرنے کا دباؤ بھی نہیں ڈالا۔ اس وقت کے گھٹے ہوئے ہندوستانی معاشرے میں یہ بات انوکھی تھی کہ ایک خاتون جو نہ صرف بےحد پڑھی لکھی ہے بلکہ مردوں کی محفل میں بیٹھ کر ان سے برابری کی سطح پر مکالمہ کر سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عطیہ نے اقبال کے علاوہ شبلی نعمانی کو بھی متاثر کیا جس کی تفصیل ‘شبلی کی حیاتِ معاشقہ’ میں مل جاتی ہے۔
بعض لوگوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ شاید اقبال عطیہ کی محبت میں گرفتار ہو گئے تھے، لیکن ہمارے خیال سے ان کا عطیہ سے دوستی فکری سطح پر تھی اور وہ ان سے فلسفیانہ مباحث کیا کرتے تھے۔ عطیہ کے نام لکھے گئے خطوط کا اگر ایما کے نام خطوط سے موازنہ کیا جائے تو فرق رات اور دن کی طرح واضح ہے۔
اقبال کے دل کی تمنا کچھ اور ہی تھی اور انھیں شک تھا کہ یہ تمنا کبھی پوری ہو گی بھی یا نہیں۔
جلوۂ حسن کہ ہے جس سے تمنا بےتاب / پالتا ہے جسے آغوشِ تخیل میں شباب
ابدی بنتا ہے یہ عالمِ فانی جس سے / ایک افسانۂ رنگیں ہے جوانی جس سے
آہ موجود بھی وہ حسن کہیں ہے کہ نہیں / خاتمِ دہر میں یا رب وہ نگیں ہے کہ نہیں
مل گیا وہ گل مجھے
اقبال نے خود ہی ایک جگہ لکھا ہے کہ ‘دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے،’ چنانچہ جرمنی میں ان کی دعا باریاب ہوئی، اور غالباً ایما کی صورت میں انھیں وہ نگیں مل گیا جس کی انھیں تلاش تھی۔ اس کے بعد انھیں یہ لکھنے میں دیر نہیں لگی:
جستجو جس گل کی تڑپاتی تھی اے بلبل مجھے / خوبیِ قسمت سے آخر مل گیا وہ گل مجھے
ضو سے اس خورشید کی اختر مرا تابندہ ہے / چاندنی جس کے غبارِ راہ سے شرمندہ ہے
اقبال انگلستان میں کیا کر رہے تھے؟
اقبال دو سال پہلے انگلستان آئے تھے جہاں انھوں نے کیمبرج سے بی اے کے ڈگری حاصل کی تھی۔ اسی دوران انھوں نے ‘ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا’ نامی مقالہ لکھا اور اب وہ اپنے استاد پروفیسر آرنلڈ کے مشورے سے اسی مقالے پر جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنا چاہتے تھے۔
اس مقصد کے لیے انھوں نے 1907ء کے موسمِ بہار میں جرمنی کا سفر اختیار کیا تھا جہاں ان کی ملاقات ایما سے ہوئی۔
ایما 26 اگست 1879ء کو دریائے نیکر کے کنارے واقع قصبے ہائلبرون میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی تین بہنیں اور دو بھائی تھے (بڑے بھائی کارل کا ذکر آگے چل کر آئے گا)۔
ایما 29 سالہ اقبال سے عمر میں دو برس چھوٹی لیکن قد میں ایک انچ لمبی تھیں۔ ان کی صرف ایک تصویر ہماری نظر سے گزری ہے جس میں ان کی آنکھوں سے وہی شریر تبسم جھلک رہا ہے جس کا ذکر اقبال نے اسی دور کی ایک غیر مطبوعہ اور نامکمل نظم ‘گم شدہ دستانہ’ میں کیا ہے:
رکھا تھا میز پر ابھی ہم نے اتار کر / تو نے نظر بچا کے ہماری اڑا لیا / آنکھوں میں ہے تری جو تبسم شریر سا ایما کی مادری زبان جرمن تھی، لیکن وہ یونانی اور فرانسیسی سے بھی خوب واقف تھیں۔ اس کے علاوہ وہ فلسفے اور شاعری سے بھی خاص شغف رکھتی تھیں اور یہی ان کے اور اقبال کے درمیان وجۂ اشتراک بھی ہے۔ اقبال کے خطوں سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے ایما کے ساتھ مل کر مشہور جرمن شاعر گوئٹے کو بھی سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایما نے ‘پینسیون شیرر’ نامی بورڈنگ ہاؤس میں ملازمت اختیار کر لی جہاں وہ بین الاقوامی طلبہ کو جرمن زبان سکھاتی تھیں، اور اس کے بدلے میں انھیں مفت طعام و قیام فراہم کیا جاتا تھا۔
اقبال نے کسی زمانے میں لکھا تھا کہ:
میں نے اے اقبال یورپ میں اسے ڈھونڈا عبث / بات جو ہندوستان کے ماہ سیماؤں میں تھی
لیکن یہ بات انگلستان کی حد تک درست تھی۔ جرمنی پہنچ کر ان کا خیال بدل گیا۔ ایک خط میں وہ لکھتے ہیں کہ ‘انگریز عورت میں وہ نسائیت اور بےساختگی نہیں جو جرمن عورت میں ہے۔ جرمن عورت ایشیائی عورت سے ملتی ہے۔ اس میں محبت کی گرمی ہے۔ انگریز عورت میں یہ گرمی نہیں۔ انگریز عورت گھریلو زندگی اور اس کی بندشوں کی اس طرح شیدا نہیں جس طرح جرمن عورت ہے۔’
‘بالکل مختلف اقبال’
عطیہ فیضی نے ہائیڈل برگ میں جو اقبال دیکھا اس سے وہ حیران رہ گئیں۔ وہ اپنی کتاب ‘اقبال’ میں لکھتی ہیں:
‘یہ اس اقبال سے بالکل مختلف تھے جسے میں نے لندن میں دیکھا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے جرمنی ان کے وجود کے اندر سما گیا ہے، اور وہ درختوں (کے نیچے سے گزرتے ہوئے) اور گھاس پر چلتے ہوئے علم کشید کر رہے تھے۔۔۔ اقبال کا یہ پہلو میرے لیے بالکل انوکھا تھا، اور لندن میں جو ایک قنوطی کی روح ان میں حلول کر گئی تھی وہ یہاں یکسر غائب ہو گئی تھی۔’
لندن کے اقبال کے بارے میں عطیہ نے لکھا ہے کہ ‘وہ بہت تیز آدمی تھے اور دوسروں کی کمزوریاں کا فائدہ اٹھانے کے لیے ہر دم تیار رہتے تھے، اور لوگوں پر طنز کے تیر برساتے رہتے تھے۔’ وہاں اقبال محفل کے دوران خاموشی سے بلکہ بظاہر بوریت کے عالم میں سب کی باتیں سنتے رہتے تھے لیکن جونھی موقع ملتا تھا، وہ چمک کر گفتگو میں شامل ہو جاتے تھے اور اپنی حیران کن دانش اور فراست سے سب پر چھا جاتے تھے۔
لیکن ہائیڈل برگ میں عطیہ نے دیکھا کہ اقبال کے اساتذہ جب انھیں ٹوکتے تھے تو وہ بچوں کی طرح اپنے ناخن چبانے لگتے اور کہتے، ‘ارے، مجھے اس بات کا تو خیال ہی نہیں آیا، مجھے یوں نہیں، یوں کہنا چاہیے تھا۔’
عطیہ کے بیان کے مطابق اقبال یہاں جرمن سیکھنے کے علاوہ رقص، موسیقی، کشتی رانی اور ہائیکنگ کے درس بھی لے رہے تھے۔ اسی دوران انھوں نے کشتی رانی کے مقابلے میں تھی حصہ لیا تھا لیکن آخری نمبر پر آئے۔ عطیہ کی کتاب میں اقبال کی کشتی چلاتے ہوئے تصویر بھی ہے۔
عطیہ نے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر بھی کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ یک طرفہ نہیں تھا بلکہ ایما بھی اقبال سے بےحد متاثر تھیں۔
گجرا بیچن والی نادان
ہوا یوں کہ ایما نے ایک دن اوپرا گانا شروع کر دیا۔ اقبال نے ان کا ساتھ دینا چاہا لیکن مغربی موسیقی سے ناواقفیت کی بنا پر بےسرے ہو گئے۔
یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ اقبال نے بےحد عمدہ گلا پایا تھا بلکہ ہندوستان میں ترنم سے مشاعرے پڑھنے میں انھوں نے خاصی شہرت حاصل کی تھی اور جب وہ اپنا کلام اپنی سریلی آواز میں پڑھتے تو اس کی تاثیر دوگنی چوگنی ہو کر بڑے سے بڑے مجمعے کو بہا لے جاتی تھی۔
لیکن جب وہ اوپرا گاتی ہوئی ایما کا ساتھ نہیں دے سکے تو انھیں اس پر سخت خفت محسوس ہوئی اور وہ پیچھے ہٹ گئے۔ شاید ایما کو بھی اس کا احساس ہوا اور اسی رات انھوں نے عطیہ سے درخواست کی کہ وہ انھیں کوئی ہندوستانی گیت سکھا دیں۔
ایما کے نام انگریزی میں لکھا گیا ایک خط۔ میں اقبال نے لکھا کہ ’میں جرمن بھولتا جا رہا ہوں، صرف ایک لفظ یاد رہ گیا ہے، ’ایما!‘‘
اگلے دن جب سبھی دریائے نیکر کے کنارے پکنک کے لیے نکلے تو اچانک ایما نے گانا شروع کر دیا:
گجرا بیچن والی نادان
یہ تیرا نخرہ
ایما کی زبان سے یہ گیت سن کر اقبال پر جو اثر ہوا ہو گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
عطیہ کے مطابق ایک دن ایما دوسری لڑکیوں کے ساتھ مل کر ورزش کر رہی تھیں اور اقبال ٹکٹکی باندھ کر انھیں تکے جا رہے تھے۔ عطیہ نے ٹوکا تو وہ کہنے لگے، ‘میں فلکیات دان بن گیا ہوں، ستاروں کے جھرمٹ کا مشاہدہ کر رہا ہوں!’
موسیقی کے علاوہ مغربی رقص بھی اقبال کے دسترس سے باہر تھا۔ عطیہ نے لکھا ہے کہ اقبال ایما کے ساتھ رقص بھی کیا کرتے تھے لیکن ایسے اناڑی پن کے ساتھ کہ ان کے قدم اکثر اوچھے پڑتے تھے۔
بعض ماہرینِ اقبالیات کے مطابق معاملہ صرف زبانی کلامی نہیں رہا تھا اور اقبال ایما سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ خود ایما کے کزن کی بیٹی ہیلاکرش ہوف نے سعید اختر درانی کو بتایا تھا کہ ایما 1908 کے لگ بھگ ہندوستان جانا چاہتی تھیں لیکن ان کے بڑے بھائی اور خاندان کے سربراہ کارل نے انھیں اس دور دراز ملک میں تنہا جانے سے منع کر دیا تھا۔
دو بڑے بھائی ’ظالم سماج‘ بن گئے
دوسری طرف اقبال ہندوستان لوٹنے کے بعد بڑی شدت سے یورپ واپس جانا چاہتے تھے، جس کا اظہار انھوں نے نہ صرف کئی بار ایما سے بھی کیا بلکہ عطیہ کو لکھے گئے خطوط میں بھی اس کا عندیہ ملتا ہے۔ ہم ایسے ایک خط کا اقتباس اوپر دے چکے ہیں۔ لیکن جس طرح ایما کے بڑے بھائی ان کے ہندوستان جانے کی راہ میں آڑے آ گئے، تقدیر کی ایک عجیب ستم ظریفی کی رو سے بالکل اسی طرح اقبال کے بڑے بھائی ان کے واپس ولایت جانے میں رکاوٹ بن گئے۔ نو اپریل 1909 کو وہ لکھتے ہیں: ‘میں کوئی ملازمت کرنا ہی نہیں چاہتا، میرا منشا تو یہ ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو، اس ملک سے بھاگ جاؤں۔ سبب آپ کو معلوم ہے۔ میرے اوپر اپنے بڑے بھائی کا اخلاقی قرض ہے جو مجھے روکے ہوئے ہے۔’
اخلاقی قرض یہ تھا کہ اقبال کی تعلیم کے اخراجات ان کے بھائی نے ادا کیے تھے، اور وہ یورپ سے آنے کے بعد انھیں یہ رقم لوٹانا چاہتے تھے۔ وہ ایما کو لکھتے ہیں: ‘کچھ عرصے بعد جب میرے پاس پیسے جمع ہو جائیں گے تو میں یورپ کو اپنا گھر بناؤں گا، یہ میرا تصور ہے اور میری تمنا ہے کہ یہ سب پورا ہو گا۔’ تاہم یہ تصور، یہ تمنا ناکام حسرت بن گئی۔ اقبال کی زندگی کا یہ حصہ سخت مالی مشکلات سے نمٹتے ہوئے گزرا۔
اس تمام عرصے کے دوران ایما کی یاد ان کے دل سے کبھی محو نہ ہو سکی۔ وہ بڑی حسرت سے لکھتے ہیں: ‘مجھے وہ زمانہ یاد ہے جب میں آپ کے ساتھ مل کر گوئٹے کا کلام پڑھا کرتا تھا۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ کو بھی وہ خوشیوں بھرے دن یاد ہوں گے جب ہم ایک دوسرے کے اس قدر قریب تھے۔ میں زیادہ لکھ یا کہہ نہیں سکتا، آپ تصور کر سکتی ہیں کہ میری روح میں کیا ہے۔ میری بہت بڑی خواہش ہے کہ میں دوبارہ آپ سے مل سکوں۔’
ایک اور خط میں لکھا:
‘آپ کا خط پا کر مجھے ہمیشہ بہت مسرت ہوتی ہے اور میں بےتابی سے اس وقت کا منتظر ہوں جب میں دوبارہ آپ سے آپ کے وطن میں مل سکوں گا۔ میں جرمنی میں اپنا قیام کبھی فراموش نہ کروں گا۔ میں یہاں بالکل اکیلا رہتا ہوں اور خود کو بڑا غمگین پاتا ہوں۔ ہماری تقدیر ہمارے اپنے ہاتھوں میں نہیں ہے۔’
شاعری کی دیوی
ایما سے ملاقات کے 24 برس بعد 1931 میں گول میز کانفرنس کے لیے جب اقبال لندن گئے تو اس وقت بھی انھوں نے جرمنی جا کر ایما سے ملنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا، اقبال نے دو مزید شادیاں کر لی تھیں اور ان کے بچے جوان ہو گئے تھے، اس لیے یہ ملاقات نہیں ہو سکی۔
اقبال نے بہت پہلے لکھا تھا:
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں / مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
شاید یہ ان کی سادگی ہی تھی کہ ہندوستان لوٹنے کے بعد بھی ایما سے ملن کے خواب دیکھتے رہے۔ حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی ہوائی سفر مستقبل میں تھا اور سمندر کے راستے ہندوستان سے یورپ جانے میں مہینوں لگا کرتے تھے۔ ان دونوں کے درمیان محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً سات سمندر حائل تھے۔
ایما سے اقبال کے تعلق کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی، تاہم ایما نے اقبال کی ‘میوز’ بن کر ان کی شاعری میں وہ کسک اور دردمندی پیدا کر دی جس سے ان کی شاعری عبارت ہے۔ ان کے کلام میں کئی نظمیں ایسی ہیں جو اس دور کی یادگار ہیں۔ اوپر دی گئی مثالوں کے علاوہ ‘حسن و عشق،’ ‘۔۔۔ کی گود میں بلی دیکھ کر،’ ‘چاند اور تارے،’ ‘کلی،’ ‘وصال،’ ‘سلیمیٰ،’ عاشقِ ہرجائی،’ ‘جلوۂ حسن،’ ‘اخترِ صبح،’ ‘تنہائی’ اور دیگر کئی نظمیں شامل ہیں جن پر ایما سے تعلق کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔
اقبال اور ایما کا ملاپ نہیں ہو سکا، لیکن اردو دنیا کو پھر بھی ایما کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ ان کی بدولت اردو کو چند لازوال رومانوی نظمیں مل گئیں”
اس موضوع پر ڈاکٹر سعید اختر درانی جو 1987ء سے 2015ء تک اقبال اکادمی (یو۔کے) کے چیئرمین رہے اور آپ نے علامہ اقبال کے قیامِ یورپ پر تحقیق کی جس سے علامہ اقبال کے قیامِ یورپ کے بہت سے پہلو نئے سرے سے عیاں ہوئے اس موضوع پر انھوں نے دو کتب “نوادر اقبال یورپ میں” اور “اقبال یورپ میں” مستند تحقیقی کتب لکھی ہیں جن میں اقبال کے سلسلے میں کئی نئے انکشافات ہوتے ہیں “نوادر اقبال یورپ میں” ان کی تحریر کردہ نہایت ہی اہم اور تحقیقی کتاب ہے اس کتاب میں مصنف نے یورپ میں قیام کے دوران اقبال کے حوالے سے نادر چیزوں کو بیا ن کیا ہے جس میں علامہ اقبال کی تاریخ پیدائش کے بارے میں بھی دل چسپ بحث کی گئی ہے۔ اقبال کے استاد آرنلڈ، کیمبرج میں اقبال کی قیام گاہ و تعلیمی سرگرمیاں کیمبرج اور لندن میں ان تمام عمارات کی جستجو ، جو مختلف اوقات میں علامہ کی قیام گاہ رہیں جرمنی میں علامہ کا قیام ہایڈل برگ، میونخ میں قیام ، جرمنی زبان سیکھنا ،قیام یورپ کے دوران تین اہم خواتین کا ذکر خصوصاً ایما کے رشتہ داروں سے ملاقاتیں شامل ہیں اور وہ ایما کے بارے میں وہ پہلو ہیں جو انھوں نے حقائق کی روشنی میں بیان کیے ہیں اس کے علاوہ اس کتاب میں انھوں نے اقبال کے غیر مطبوعہ خطوط بنام ایما ویگے ناسٹ کو بھی شامل کیا ہے جو کہ جرمن اور انگریزی زبانوں سے اردو میں ترجمہ کیے گیے ہیں
Emma Wegenast passed away in 1963 or 1964, but her letters to Iqbal were given to the Pakistani government, and some have been preserved. In 2015, a street was named “Iqbal Ufer” (Iqbal Embankment) in Heidelberg in his honor.
علامہ اقبال انسانی عشق کے تجربے سے محروم نہیں رہے، اقبال کی زندگی سے یہ حقیقتیں نہ مٹائی جا سکتی ہیں اور نہ ہی چھپائی جا سکتی ہے مگر ہمارے ہاں شخصیت پرست کہتے ہیں کہ اقبال کی شاعری کا محبوب کوئی مادی یا وقتی وجود نہیں بلکہ وہ ایک آفاقی اور لامحدود ہستی ہے جس کی طلب میں اقبال کی روح سرشار رہتی ہے اور اقبال کی شاعری میں عشقیہ جذبات کا اظہار کسی ایک انسانی محبوب سے وابستہ نہیں، بلکہ یہ ایک فلسفیانہ اور روحانی سفر ہے جہاں عشق مجازی سے حقیقی کی طرف سفر کرتے ہوئے محبوب کو اللہ کی ذات میں گم کر دیا جاتا ہے
اقبال کے ذہنی و فکری ارتقاءکی منازل کا تعین اس کی شاعری کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اقبال نے اپنے افکار و خیالات کے اظہار کا ذریعہ شاعری کو ہی بنایا ہے اقبال کی زندگی کا تفصیلی جائزہ سے یہ بات پوری عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ فکری ارتقاءکی مختلف منازل سے ضرور گزرے ہیں۔ لیکن فکری اور نظریاتی تضاد کا شکار کبھی نہیں ہوئے۔

julia rana solicitors london

 #علامہ_اقبال
#ایما_ویگےناسٹ
#اقبال_اور_ایما
#محبت_اقبال
#رومانوی_اقبال
#ہائیڈل_برگ
#IqbalDay
#MufakkirEPakistan

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply