کیا میڈیا والے واقعی دوزخ میں جلیں گے؟-عبدالستار

میڈیا والے دوزخ میں جلیں گے ، معروف اداکار زاہد احمد کا دعویٰ ۔
کنٹینٹ کیرئیٹر اور سوشل میڈیا والے دوزخ میں جلیں گے اور سوشل میڈیا سے متعلقہ سارے کام ہی ” دی ورک آف دی ڈیول ہیں”
کیا یہ درست رویہ کہلائے گا کہ زندگی سے خوب لطف اٹھاؤ اور آخر میں ڈیول پر ڈال کر مکت ہو جاؤ ؟
زندگی میں ہر طرح کے اللے تللے کرنے کے بعد کیریئر کے اختتام اور زندگی کی آخری ساعتوں میں حج ، عمرہ ، صدقہ و خیرات یا دعا و مناجات کے رعایتی پیکجز سے فایدہ اٹھا کر ضمیر کو شانت کریں اور ستو پی کر سو جائیں ۔
سوال یہ ہے کہ اگر سوشل میڈیا واقعی ڈیول ہاؤس ہے تو یہیں ٹک کر شہرت انجوائے کرنے اور پیسہ بناتے رہنے میں کیا مصلحت ہو سکتی ہے ؟
سوشل میڈیا اگر مجسم برائی ہے اور اسکرین آلہ شیطان تو بن سنور کر ڈرامے میں نامحرم خواتین سے آنکھ مٹکا کرنا ، گلے لگنا اور رومانوی گفتگو کرنا ، اس کے علاوہ مختلف پوڈ کاسٹ میں خوبصورت دکھنے کے لیے بننا سنورنا اور اسکرین کے مکمل تقاضے پورے کرنا کیا درست رویہ ہوگا ؟
کیا آرٹ ، فن ، فنون لطیفہ ، موسیقی ، قوالی ، شعر و شاعری ، اسٹیج ڈرامے اور اداکاری برے یا گندے میدان ہوتے ہیں ؟
ان فنون میں جو کچھ پیش کیا جاتا ہے کیا اس میں معاشرے کی عکاسی نہیں پائی جاتی یا خلا کی ترجمانی کی جاتی ہے ؟
زندگی تو بذاتِ خود ایک اسٹیج کی مانند نہیں ہوتی کیا ، جس پر سب اپنے اپنے حصے کا کردار نبھا کر تاریخ کے بلیک ہول میں کہیں گم ہو جاتے ہیں ؟
کیا ضروری ہے کہ خود کو پارسا یا اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لیے ہر میدان کو ریلئیجسنائز یا مسلمائیز کر دیا جائے ، کیا چیزوں یا حقائق کو گڈ مڈ کرنا کوئی صحت مندانہ رویوں میں شمار ہوگا ؟
نجی زندگی میں آپ جو بھی بننا چاہیں ، اختیار کرنا چاہیں یا کسی بھی طرح کا نقطہ نظر یا رائے رکھنا چاہیں کسی کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے لیکن جس پیڈسٹل پر کھڑے ہو کر روزی روٹی کمائی ہو اس کے متعلق اس طرح کی جرنلائز سی رائے قائم کر لینا کہ یہ سب نرک میں جلیں گے کچھ عجیب سی بات نہیں لگتی ؟
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ موصوف ان ساری نصیحتوں کے لیے میڈیم سوشل میڈیا کا ہی استعمال کر رہے ہیں ، اداکاری کے ذریعے سے پیسہ بھی خوب کما رہے ہیں ، ویسے حیرت ہوتی ہے زندگی کے انتہائی قیمتی ماہ وسال سوشل میڈیا کی نذر کر دیے اور ساری خیر وبرکات سمیٹ لینے کے بعد آخر میں نتیجہ کیا نکالا کہ سوشل میڈیا والے جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔
اس خیال کے پیچھے اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ نیا ٹیلنٹ آگے نہ آئے اور ان کے سامنے کیریئر کے شروع میں ہی اخلاقی رکاوٹ کھڑی کر دیں تاکہ پھلانگنے میں کچھ تو وقت ضائع ہو اور ذرا توقف کے بعد وہ اپنے اندر موجود خدا داد ٹیلنٹ کا گلا خود اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دیں ، ان ماں باپ کا کیا جنہوں نے انہیں اس مقام تک پہنچانے کے لیے نجانے کتنی راحتیں قربان کی ہیں ، خود ہی رو دھو کر بیٹھ جائیں گے ، خسارہ تو والدین کو ہوگا ، زاہد احمد ایسے نصیحت خان کو تو رتی بھر فرق نہیں پڑے گا ۔
کسی بحث میں الجھے بنا موصوف سے یہ پوچھنا تو بنتا ہے کہ آپ نے جو نتائج اخذ کیے ہیں اس کے متعلق آپ کے پاس کیا شواہد ہیں اور آپ کو کیسے پتا کہ وہ سارے جہنم میں جلیں گے ؟
جنت اور دوزخ کا معاملہ تو قدرت کی ڈومین ہے آپ کب سے اس طرح کے فیصلے کرنے لگے ، سویپنگ اسٹیٹمنٹ دینا یا انسانی پہلوؤں کو محض بلیک اینڈ وائٹ کے تناظر میں دیکھ کر رائے قائم کرنا کوئی دانشمندانہ رویہ تھوڑے ہوتا ہے اور آپ کے نتائج سے اتفاق ہی کیوں کیا جائے ؟
منافقت کا بھی کیا لیول ہے کہ میڈیا میں رہتے ہوئے کیریئر کا اسٹارڈم اور شہرت کا عروج انجوائے کرنے کے بعد کیریئر کے آخری پہر ہیرو یہ کہتا ہوا پایا جائے کہ یہ فیلڈ تو مکمل گند بازار ہے ، یہ تو پھر وہی بات ہوئی نا کہ جب چبانے کو منہ میں دانت نہ رہیں تو بندہ نیک پاک بن جائے ، مزا تو تب تھا کہ کیرئیر کے شروع میں ہی اس فیلڈ کو خیر آباد کہہ دیتے اور لوگوں کو بھی اس گند بازار میں قدم رکھنے سے روکتے ۔
اس طرح کے منافقانہ رویوں سے یہ سماج اٹا پڑا ہے ، یہ رویے بڑے بڑے ہیروز کھا گئے ، بہت سوں کے ٹیلنٹ کو نگل گئے ، قدرت کی عطا کردہ صلاحیتوں کے بیچ گناہ و ثواب آڑے آگئے ، اندر کا خلا انسان کو کیا کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے ، اس خلا کو معنویت سے بھرنے کے لیے بعض اوقات وہ اپنی صلاحیتوں کی بلی تک چڑھا دیتا ہے ۔
جن معاشروں میں چوائسز کا فقدان ہوتا ہے یا زندگی کا دائرہ گناہ و ثواب کی حد تک ہو وہاں کے ذہنی رویے انتہائی محدود ہوتے ہیں ، محدود فکر کوتاہ نظری کا سبب بنتی ہے اور زندگی کی بنیادی حقیقتوں سے منہ موڑ کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا ، مذہب کا چناؤ اور اخلاقی پیمانے ہر شخص کے اپنے ہوتے ہیں اور اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ اپنے حاصلات کو زبردستی دوسروں پر لازم نہ کیے جائیں ۔
سماج کے حمام میں تو سبھی ننگے ہوتے ہیں ، پارسا صرف وہی ہوتا ہے جسے موقع نہیں ملتا ، لحاظہ ججمینٹل بننے کی بجائے انسان کو محض انسان ہی سمجھنا چاہیے نا کہ فرشتہ یا اوتار ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply