مکتوب زمانی /علی عبداللہ

ان الفاظ سے آغاز جو عاشقوں کے سینوں میں نہیں، زمانے کی نبض میں پھڑپھڑاتے ہیں؛ وہ الفاظ جو کبھی کسی صوفی کی خلوت میں اترتے ہیں، کبھی کسی فلسفی کے تصور سے دھول بن کر اٹھتے ہیں، اور کبھی کسی شب زدہ دل کے تاریک دریچوں میں چراغ بن کر جلتے ہیں۔

یہ رات محض رات نہیں؛ یہ وقت کا ٹھہرا ہوا لمحہ ہے، جیسے کائنات نے اپنی گردش روک کر سننے کی کوشش کی ہو کہ دل کے کون سے نہاں خانوں میں سوچیں جاگ رہی ہیں۔
یہ تحریر بھی کوئی خط نہیں، یہ وہ پرزہ ہے جو شاید کسی صحرائی قافلے کے صندوق سے گر گیا تھا، یا شاید کسی خانقاہ کی محراب سے پھسل کر دنیا کی پگڈنڈیوں پر آ نکلا۔ سلام اُن لمحوں کو جو گزر کر بھی ٹھہرے رہتے ہیں، اور اُن سانسوں کو جو نام لیے بغیر بھی روحوں کو پکار لیتی ہیں۔

دل میں مدت سے ایک شور جمع ہے- ایسا شور جسے اہلِ دل “ہنگامۂ سکوت” کہتے ہیں۔ الفاظ کسی قدیم کنویں میں پڑے پتھروں کی طرح ہیں، تہہ میں اتر کر، لہریں بناتے ہیں، اور پھر سوال چھوڑ جاتے ہیں کہ آیا خاموشی بھی کوئی سُر رکھتی ہے؟ اقبال نے شاید اسی کیفیت کو “سوزِ دروں” کہا تھا-

میں چاہتا ہوں کہ الفاظ دل کی راہداریوں سے نکلیں، زبان کی دنیا میں قدم رکھیں، اور پھر تمہارے دل کے نہاں خانے میں اتر جائیں۔ مگر ہر خواہش کے ساتھ ایک خوف ہے۔ سانس لیتے ہوئے یہ اندیشہ جاگتا ہے کہ اگر یہ لفظ تم تک نہ پہنچے تو پھر ان کی تقدیر کیا ہے؟ لفظ جب محبوب تک نہ پہنچیں تو وہ موسیقی نہیں رہتے، وہ چیخ بن جاتے ہیں۔ ایک ایسی چیخ جو وجود کے پردے پھاڑ دیتی ہے۔

کہتے ہیں انسانی تاریخ دل سے نکلے ہوئے دو جملوں کی مرہونِ منت ہے؛ ایک محبت کا… اور دوسرا سچ کا۔ اور یہ دونوں، ہر دور کے سقراط، منصور اور مجنوں جیسے لوگوں کی سانسوں سے برآمد ہوئے۔ مگر کون جانتا ہے کہ کتنے نامعلوم دل اپنے الفاظ کہے بغیر گم نام ہو گئے- تم تک لفظ پہنچانے کا سفر کتنا طویل ہے- یہ صرف فاصلے کا سفر نہیں یہ امکان اور امید کے درمیان کی لکیر ہے۔ میں سوچتا ہوں، اگر یہ آواز تم تک نہ پہنچی تو کون سی کائنات ان کی پناہ گاہ ہو گی؟ اور اگر پہنچ جائے… تو پھر شاید یہ الفاظ صدا نہیں رہیں گے، دعا بن جائیں گے۔

سو اگر کبھی خزاں رسیدہ کتاب کے پنے پلٹتے ہوئے یہ سطور تمہارے ہاتھ لگیں، یا کسی صوفی کے حجرے میں، کسی شاعر کے بکھرے مصرعوں کے درمیان، یا کسی مسافر کی جھولی سے یہ تم تک آ پہنچیں تو جان لینا، یہ الفاظ تمہارے نام پر اٹھائے تو نہیں گئے تھے مگر تمہارے نام کے بغیر رہ بھی نہ سکے۔

یہ دل ہمیشہ سے یہی کہتا آیا ہے کہ محبتیں وقت کی محتاج نہیں ہوتیں- وہ لمحوں کے پیمانوں میں نہیں سمٹتیں؛ وہ یاد اور خواب کے درمیان کی اُس خاموش روشنی میں پلتی ہیں جہاں کائنات اپنے راز رکھتی ہے۔ جو باتیں زبان پر نہیں آتیں، وہی لوحِ دل پر کندہ رہتی ہیں۔ اور انہی ان کہی سرگوشیوں میں کبھی کبھی خدا اپنی سب سے لطیف وحی انسان کے دل پر اتارتا ہے۔

اگر کبھی زمانہ پوچھے کہ یہ لفظ کس کے لیے تھے، تو کہنا یہ کسی چہرے کے لیے نہیں، کسی نام کے لیے نہیں، بلکہ اُس ازلی امید کے لیے تھے جو انسان کو مٹی سے دل ہونے تک کا سفر کراتی ہے، اور پھر دل کو دعا بناتی ہے، خواہ وہ قبول ہو یا رد ہو جائے-

julia rana solicitors

اور اگر کوئی پوچھے کہ ان لفظوں کا خالق کون ہے؟ تو کہنا جس نے اسے پڑھ لیا، سمجھ لیا، وہی اس کا اصل وارث ہے۔
هو النداء الذي لا يَفنى
“یہ وہ پکار ہے جو فنا نہیں ہوتی”

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply