کتاب : in the cafe of lost youth
مصنف : پیٹرک مودیانو
مترجم : ریحان اسلام
(ایسی کہانی جسے پڑھتے ہوئے ہمیں ہماری زندگی میں کبھی نہ کبھی شامل ایسی لڑکی یاد آ جاتی ہے جو بالکل “پیٹرک مودیانو” کی “لوکی” جیسی تھی۔)
“لوکی/جیکولین”، محبت یا گم شدہ محبت کے بارے میں لکھا پیٹرک مودیانو کا ایک ایسا کردار جس کے گرد “گم شدہ جوانی کا کیفے” کی کہانی گھومتی ہے!
کہانی کا بیانیہ “پیٹرک مودیانو” کے چنیدہ موضوعات “حافظہ، گمشدگی اور شناخت” کا احاطہ کئے ہوئے ہے، ناسٹیلجیا کے طور پر جب 1960 کی دہائی کا ایک کیفے “کونڈے، Condé” کہانی کی شروعات میں ہی ابھر آتا ہے جہاں لوگ شام اور رات کے ایک مخصوص دورانیے میں جمع ہوتے ہیں، جہاں کونے میں تنہائی کے ساتھ، بھیڑ میں خاموشی کے ساتھ یا پھر خاموشی میں گفتگو کے ساتھ “جیکولین/لوکی” ایک ایسا کردار ہے جس کی زندگی ہر اس انسان کے لئے معنی رکھتی ہے جو کبھی لوکی سے ملا تھا۔
ایک بوڑھا لکھاری، ایک تفتیشی پولیس افسر، ایک پرانا عاشق یا پھر اس کا شوہر، جنہیں لوکی یکے بعد دیگرے اپنی زندگی میں شامل کرکے الگ اور جدا کرتی جاتی ہے، وہ ادھ مرے ہو جاتے ہیں، سالہا سال کے بعد بھی جب وہ ملتے ہیں، یا جب تک وہ اس شہر میں ہیں یا پھر سوچنے اور ٹہلنے نکلتے ہیں، انہیں لوکی کی آواز سنائی دیتی ہے، وہ مڑ کر دیکھتے ہیں مگر لوکی، پیٹرک مودیانو کی لوکی، ہماری لوکی اور ان سب کرداروں کی لوکی ہمیں اور انہیں کہیں نہیں ملتی!
اور پھر، جب آپ اختتام کی آخری سیڑھی پر قدم رکھتے ہیں تب جانے، چار ابواب پر مشتمل، کتاب کے کون سے صفحے پر آپ کی بھنچ چکی مٹھیوں میں پسینے کی ایک تہہ بن چکی ہوتی ہے، آپ آخری سطر پڑھتے ساتھ ہی، کتاب بند کئے بغیر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر ایسے بیٹھ جاتے ہیں جیسے ابھی ابھی یہ اختتامی منظر آپ کی نظروں کے سامنے سے گزرا ہو، بشرطیکہ آپ نے اختتام بیٹھے ہوئے پڑھا ہو، یا اگر لیٹے ہوئے، تو آپ اپنی گردن کو ایک طرف ڈھلکا دیتے ہیں، کتاب آپ کے ہاتھ سے گر جاتی ہے اور بس!
کہانی اور پھر ایسی کہانی جس کی شروعات دلچسپی، ہلکی مسکراہٹ، بیک وقت مضحکہ خیزی اور کہیں کہیں دکھ بھرے لمحات سے گزرتی ہے مگر آخر تک پہنچتے ہوئے آپ کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہیں بچتا، ان بیشتر حصوں کے ساتھ جن میں ہم لوکی کے بارے میں جانتے اور پڑھتے ہیں، یقین کے ساتھ ہماری زندگی میں کبھی نہ کبھی شامل ہمیں ہماری ایسی “لوکی” یاد آتی ہے جسے ہم اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہم لوکی کو جان پائے ہیں ۔
کتاب کی یا ہماری وہی “لوکی/جیکولین” جس کے بارے میں کتاب کی ایک سطر مکمل صادق آتی ہے کہ : “پھر ایک دن لوگ اچانک غائب ہو جاتے ہیں اور آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے، حتیٰ کہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ دراصل کون تھے!” ص : 121
انتخابات :
▪️ہم کچھ خاص خاموشیوں کے رحم و کرم پر جیتے ہیں، ہم کافی عرصے سے ایک دوسرے کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہوتے ہیں اس لئے ہم ایک دوسرے سے ملنے سے گریز کرتے ہیں! ص : 34
▪️زندگی کا مقصد ہی یہی ہے کہ “تعلق بنانا!” ۔ اس زندگی میں جو کبھی کبھار اتنی وسیع نظر آتی ہے، جس کے مناظر کی کسی نشان کے بغیر خرابی سے بھرپور حد بندی کی گئی ہے، تمام غائب ہوتی سرحدوں اور کھوئے ہوئے افقوں کے درمیان ہم ایسے نقطوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جن کو جوڑ کر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنے نام کسی زمین کے ٹکڑے کا انتقال کروالیا ہے تاکہ اس تاثر کو جھٹلا سکیں کہ ہم راستہ بھٹکے ہوئے ہیں، اس مقصد کے تحت ہم تعلق جوڑتے ہیں، ہم کسی اجنبی سے ہونے والی ملاقات کو رشتے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں! ص : 47
▪️ہر شخص پر ایک ایسا وقت آتا ہے چاہے وہ کتنا ہی سخت جان کیوں نہ ہو، جب وہ سارے راز اگل دیتا ہے! ص : 51
▪️مجھے اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ میں اجنبی سے بات کر رہی ہوں، اسے لکھتا دیکھ میں اچھا محسوس کر رہی تھی، اگر چیزیں لکھ لی جائیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اب معاملہ نپٹ/نمٹ گیا ہے، جیسے کَتبے پر نام اور تاریخیں لکھی جاتی ہیں!
ص : 67
▪️میری اچھی یادیں وہی ہیں جب میں اڑان بھر کر بھاگ رہی ہوتی تھی مگر زندگی آپ سے ہمیشہ ایک قدم آگے رہتی ہے! ص : 84
▪️”تو تمہیں ہنس لینا چاہیے تھا” اس نے ڈانٹ کر کہا ۔ “ہنسی چھوت کی طرح ہوتی ہے، تم ہنستے تو اندھیرے میں ہم سب ہنستے!” ص : 117
▪️جب ہم کسی سے واقعی محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی ذات کی پراسراریت کو قبول کرنا پڑتا ہے! اسی لئے تو ہم اس سے محبت کرتے ہیں! ص : 118

نوٹ : سن 2007 میں پیٹرک مودیانو کی فرانسیسی زبان میں شائع ہونے والی مذکورہ کتاب کا اسلوب و بیانیہ Mosaic Style Narrative ہے جہاں ماضی اور حال مشترکہ طور پر گم شدہ جوانی کی تصویر بناتے ہیں، اس کتاب کا انگریزی ترجمہ غالباََ 2016 میں Chris Clarke اور فارسی ترجمہ “ساسان تبسمی” نے کیا جب کہ اردو ترجمہ حال ہی میں پاکستانی نوجوان مترجم ریحان اسلام نے کیا ہے۔ پاکستان میں یہ کتاب فکشن ہاؤس، لاہور کے ذریعے شائع ہوئی ہے!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں