پہلے قومیت یا پھر معاشرت ؟-راجا ناصر محمود

قومیت وہ سیاسی اور نظریاتی شناخت ہے جو افراد کو ایک قوم یا ریاست کے طور پر متحد کرتی ہے جب کہ معاشرت لوگوں کے رویّوں، رسوم و رواج اور سماجی تعلقات کا مجموعہ ہے ۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ قومیت انسانوں کو نظریے کی بنیاد پر جوڑتی ہے جب کہ معاشرت روز مرہ زندگی میں اُن کے مختلف انداز و اطوار اور طرزِ عمل کو ظاہر کرتی ہے ۔ پاکستان میں مختلف سیاسی نظریات، زبانوں، ثقافتوں اور مذہبی فرقوں کی موجودگی کے باعث معاشرت کے کئی مخصوص رنگ اور خدوخال ہیں۔ پاکستانی قومیت بنیادی طور پر اسلام اور مشترکہ تاریخ سے جڑی ہے جب کہ معاشرت ہر علاقے کی مقامی اقدار، روایتوں اور سماجی طرزِ حیات کی عکاس ہے ۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو سماجی، ثقافتی، نسلی، لسانی، مذہبی اور سیاسی اعتبار سے بے پناہ تنوع کا حامل ہے ۔ اِس کی آبادی تقریباً 255 ملین نفوس پر مشتمل ہے جو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی آبادی ہے ۔ شہری آبادی تقریباً 38.82 فیصد ہے جب کہ دیہی آبادی کا تناسب 61.62 فیصد ہے جو معاشرتی اور اقتصادی تفاوت کو واضح کرتا ہے ۔ پاکستان میں 166 سے زائد سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں جو ملک کی سیاسی پیچیدگی اور تقسیم کو ظاہر کرتی ہیں۔ مذہبی لحاظ سے یہاں تقریباً تمام بڑے فرقوں کے پیروکار موجود ہیں جن میں سنی، شیعہ، اسماعیلی، بوہری اور دیگر شامل ہیں ۔ صوفی سلسلوں میں نقشبندی، قادری، چشتی اور سہروردی سلسلے نمایاں ہیں جو روحانیت، اعتدال اور مذہبی رواداری کی علامت ہیں۔ نسلی و قبائلی سطح پر پنجابی، پختون، سندھی، سرائیکی، بلوچ، مہاجر، ہزارہ، گلگتی، بروش، کالاش اور دیگر گروہ ملک کی ثقافتی اور سیاسی تنوع کی بنیاد بنتے ہیں ۔ یہاں 70 سے 80 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں پنجابی، پشتو، سندھی، سرائیکی، اردو، بلوچی، ہندکو ، براہوی، کوہستانی، کشمیری اور بلتی وغیرہ شامل ہیں۔

پاکستان کے مختلف نسلی، لسانی اور مذہبی گروہ اپنی الگ شناخت اور طرزِ زندگی رکھتے ہیں اور اکثر دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی کو پسند نہیں کرتے ۔ ہرگروہ کی اپنی زبان، لباس، تہذیب، رسوم و رواج اور معاشرتی آداب ہیں جو انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتے ہیں ۔ یہ تنوع ایک طرف تو ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے ملک کو رنگا رنگ اور متنوع بناتا ہے مگر دوسری طرف سیاسی و علاقائی تقسیم، عدم برداشت اور گروہی منافرت کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے ۔ مجموعی طور پر پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جو سماجی، ثقافتی، مذہبی، لسانی اور سیاسی لحاظ سے کسی حد تک تقسیم کا شکار ہے اور جہاں ہر گروہ اپنی شناخت اور مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط موقف رکھتا ہے ۔ تاہم پاکستانی معاشرت صدیوں پرانی اقدار اور روایات کی امین اور پاسدار ہے ۔ اِس معاشرت کا ہر ایک جزو ایک خوبصورت کِھلے ہوئے پھول کی مانند ہے جو سب مل کر قومیت کے دلکش گلدستے میں جُڑ جاتے ہیں ۔

julia rana solicitors london

پاکستان دنیا کا واحد مُلک نہیں ہے جہاں اِس طرح کا معاشرتی تنوع پایا جاتا ہے بلکہ دنیا میں ایسے بہت سارے ممالک موجود ہیں جہاں پاکستان سے کہیں زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ کئی مذاہب کے ماننے والے وہاں بستے ہیں، علاقائی ثقافت اور رسم و رواج ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں نیز انتظامی طور پر وہ ممالک زیادہ اکائیوں میں بٹے ہوئے ہیں لیکن وہاں قومیت کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور جب بات قومی وقار اور سلامتی کی ہو تو پھر وُہ اپنی قومیت کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں ۔لہٰذا آج جب وطنِ عزیز کو بے شمار اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے تو ہم سب کو اپنی اپنی معاشرت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے قومیت کا سبز ہلالی پرچم بلند رکھنے کے لیے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لیے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے ہچکچانا نہیں چاہئے اور ہر زبان سے بیک وقت یہ آواز نکلنی چاہئے کہ سب سے پہلے پاکستان۔ سلام پاکستان!

Facebook Comments

راجہ ناصر محمود
راجا ناصر محمود قطر میں مقیم ایک کہنہ مشق اور وسیع المطالعہ فیچر رائٹر ہیں جو گزشتہ تین دہائیوں سے وہاں آباد ہیں۔ وہ پاکستان اور عالمی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں اور معاشرتی مسائل پر اپنے بصیرت افروز اور شائستہ اسلوب میں اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ ان کے کالم طنز، مزاح اور سنجیدہ فکری تجزیے کا حسین امتزاج ہوتے ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مطالعہ، سفر اور مشاہدہ ان کے ذوق کا حصہ ہیں جن سے اُن کے خیالات کی گہرائی اور تحریر کا حسن مزید نکھرتا ہے۔ راجا ناصر محمود ایک متوازن، سنجیدہ اور شگفتہ قلم کار ہیں جو انسانی رویّوں اور روزمرہ حقیقتوں کو فکرانگیز اور دیرپا تاثر میں ڈھالتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply