اگلی عالمی طاقت /ڈاکٹر مختیار ملغانی

عمومی رائے یہ ہے کہ چین ہی مستقبل کی عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے، ممکن ہے کہ چین کے ساتھ کچھ دیگر ممالک ملکر اسے امریکی ورلڈ آرڈر کے خلاف ایک توانا حریف کا درجہ دینے میں کامیاب ہو جائیں، راقم الحروف کی طالبعلمانہ رائے میں یہ تاثر یا یہ پیشن گوئی درست معلوم نہیں ہوتی ، کیونکہ چین کو بطور عالمی طاقت کا خواب دیکھنے والوں کی نظروں سے کچھ حقائق شاید اوجھل ہیں ۔ معیشت یا ٹیکنالوجی کی مدد سے علاقے کا چوہدری تو بنا جا سکتا ہے مگر اپنا ورلڈ آرڈر نافذ کرنے کیلئے ان “سرد ہتھیاروں ” کے علاوہ بھی کچھ درکار ہے جو کہ چینی قوم میں ناپید ہے ۔

سلطنت کا لفظ پڑھتے ہی ذہن میں سب سے پہلے رومی سلطنت کا خیال آتا ہے کہ یہی وہ پہلی باقاعدہ سلطنت تھی جس نے اپنا ورلڈ آرڈر دنیا کے بڑے حصے پر نافذ کر کے دکھایا ، اور یورپ کو یہ طاقت دینے میں شاید سب سے بڑا کردار فارس کا ہے، فارس میں زرتشت کے مذہب نے دوئی یعنی duality کا تصور پیش کیا، کہ کائنات میں خیر اور شر دو مختلف طاقتیں اپنا اپنا اثر رکھتی ہیں اور مسلسل ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں، آگے جا کر پھر مترازم نے اس پر آخری کیل ٹھونکا کہ جس میں خیر کو شر پر غالب آنے کی لازمی ترغیب دی گئی، یہی وہ اجتماعی شعور تھا جس نے فرد میں جارحیت کے جذبے کو پیدا کیا، اور شر پر خیر کی فتح کیلئے وسعت پسندی کا نظریہ پروان چڑھتا چلا گیا ، کوروش اعظم اور دارا جیسے بڑے شہنشاہ سامنے آئے اور دوئی کے اجتماعی شعور کے تحت یورپ تک کے علاقے فتح حاصل کرتے چلے گئے، شہنشاہ فارس کے جھنڈے پر سرخ عقاب طاقت اور اقتدار کی علامت تھا جسے خوارینو کہا جاتا، یہ خوارینو آگے جا کر یونانی زبان میں charisma کہلایا جسے بعد میں انگریزی زبان نے مستعار لیا ، فارس کے شہنشاہوں کی فتوحات اپنی جگہ ایک عظمت کی دلیل ضرور ہیں لیکن انہوں نے اپنے پیروں پہ کلہاڑی یوں چلائی کہ دوئی کے تصور کو یورپ میں متعارف کروایا جس کی بدولت بعد میں یہی یورپی لوگ واپس فارس کو فتح کرنے کیلئے پلٹے اور خوب پلٹے ۔

رومی سلطنت میں مترازم کی تعلیمات فارس سے سرایت کرتی رہیں اور رومی باشندے کے شعور اور تحت الشعور میں یہیں سے جارحیت اور پھر توسیع کی خواہش جاگی جس نے سلطنت کو وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ہی قانون تلے جمع کرنے کی ترغیب دی، کچھ عجب نہیں کہ آج عیسائی مذہب کی تعلیمات پر سب سے بڑی چھاپ زرتشتی مذہب کی ہے کہ یہ رومی دور سے چلی آ رہی ہیں ۔ شر اور خیر کی یہی دوئی فرد اور اقوام کے شعور اور لاشعور کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہوئی ایک خاص جارحیت کو جنم دیتی ہے اور یہی جارحیت پھر doctrine of expansion یعنی پھیلاؤ کی خواہش اور نظریہ پیدا کرتی ہے۔۔ فارس کی سرزمین سے ہی زرتشتی دوئی کا یہی نظریہ منگولوں کو منتقل ہوا جس کی بنیاد پر چنگیز خان نے تنگری نام کے مذہب کی داغ بیل ڈالی اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ اس کے جانشین بغداد کے محلات تک آن پہنچے ۔

اس duality کے متضاد پھر کل مطلق والا نظریہ ہے یعنی وحدت الوجود ، اس میں خیر اور شر کے ایسے کوئی پیمانے نہیں ہیں کہ یہ دو آپس میں گتھم گتھا ہوں ، یہاں ستے خیراں ہیں, شکاری شکار کو جکڑے تو گویا خود ہی شکار کر رہا ہے اور خود ہی کھا رہا ہے، گدھ اگر مردار کو نوچے تو اس فلسفے میں گدھ اور مردار ایک ہی وجود ہیں، قطرہ ہی سمندر ہے اور سمندر قطرہ،،،،،
اب یہ والا نظریہ ایک ایسی واحدانیت کو جنم دیتا ہے جہاں انضمام ہے، جہاں کوئی اختلاف نہیں، ایسے میں اجتماعی شعور کائنات سے یک جان یک قالب رہتے ہوئے جارحیت سے ناواقف رہتا ہے ، نتیجے میں کسی جغرافیائی ، قانونی یا فکری وسعت کا تصور ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ہندو مت، بدھ مت اور دیگر کچھ مذاہب اور افکار کی بنیاد اسی آفاقی واحدانیت پہ استوار ہے۔

عقائد ہمارے شعور بلکہ لاشعور میں راسخ ہوتے ہیں، یہی عقائد پھر افکار اور اعمال کو جنم دیتے ہیں، ہر وہ خطہ جہاں پہ وحدت الوجودی عقائد رائج رہے وہاں سے آج تک کوئی ایسا بڑا جنگجو، کوئی بادشاہ نہیں ابھرا جو اپنے سے مختلف عقائد یا اقوام کو فتح کر سکا ہو ، اشوکا اور چینی بادشاہت کے کچھ افراد کو بڑے حکمرانوں میں شمار کیا جا سکتا ہے لیکن یہ سب صرف اپنے جیسوں پر ہی حکومت کرتے رہے ، باہر نہ جا پائے، زیبرا اگر سب زیبروں کا سردار بھی بن جائے تو گھوڑوں پہ حکمرانی کرنا اس کیلئے پھر بھی مشکل ہوگا،،،،،،

سن 1500 عیسوی کے لگ بھگ جاپانیوں کی آبادی بیس ملین کے قریب تھی ، اور یہی ابادی اس وقت یورپ کی تھی، جاپان چونکہ ہر طرف سے سمندر سے گھرا ہے تو یہ بات سمجھ آتی ہے اس وقت کی بہترین سمندری ٹیکنالوجی ان کے پاس تھی ، سمندری جہاز انتہائی اعلی معیار کے تھے، ایک مضبوط سماجی سیاسی اور عسکری نظام تھا ، سونے پہ سہاگا کہ دنیا کے بہترین جنگجو، سامورائی، جاپان کا فخر اور اعزاز تھے ، یورپ ان تمام معاملات میں جاپان سے پیچھے تھا، لیکن واقعہ یہ ہے کہ جاپان کے سمندری جہاز بس ساحلی علاقے میں مچھلیاں پکڑتے رہے، اور ان کے بہترین جنگجو اپنی تیز دھاری تلوار کو بانس کے درختوں پہ آزماتے رہے، یہاں اکرام عارفی کا شعر یاد آگیا ،

” یہ جو مچی ہے بانس کے جنگل میں کھلبلی
ہم جوگیوں کو سانپ لڑے ہیں جنابِ من ”

بس جاپانی جوگیوں کو یہی وحدت الوجودی سانپ لڑے رہے کہ وہ بدھ مت کے پیروکار تھے، اس دوران یورپ نے آگے بڑھ کر آدھی دنیا فتح کر لی ، یہی حال ہندوستان کا ہوا کہ دنیا کے سب سے بڑے وسائل اور سب سے بڑی آبادی رکھنے کے باوجود برطانیوں کے ہاتھوں یہ یرغمال بن گئے بلکہ دوئی کا شعور رکھنے والا ہر فاتح ہندوستان کو فتح کرنے ضرور آیا اور لگ بھگ ہمیشہ ہی کامیاب رہا، اس کی واحد اور بنیادی ترین وجہ یہی ہے کہ یہاں شعور اس کائناتی کل مطلق سے جدا نہیں تو جارحیت اور وسعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آج سے دو ہزار سال قبل چین کا اقتدار دیوار چین تک تھا، آج بھی یہ اس دیوار کے باہر نہیں جا سکا، یہاں اقتدار سے مراد کاروبار ، معیشت ، بجٹ یا پیسوں کا لین دین نہیں بلکہ اپنے نظام کو نافذ کرنے کا نام ہے جس میں چین کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔

اس کے علاوہ ایک دوسری اہم وجہ جو اسی پہلی وجہ سے جڑی ہے یہ ہے کہ حقیقی فلسفہ مشرق میں کبھی پنپ ہی نہیں پایا، جو کچھ یہاں پنہپتا رہا وہ اساطیر ہے جسے کھینچ تان کے فلسفے کا نام دینے کی کوشش کی جاتی رہی، زیادہ سے زیادہ دائمی حکمت کہہ لیجئے۔ فلسفے کی درست اور پوری تعریف پہ صرف مغربی فلسفہ ہی پورا اترتا ہے ، کیونکہ فلسفے کا بنیادی مقصد روحانی اور مادی عروج تک پہنچ کر پھر اس عروج تلے دوسری اقوام کو بھی لانا ہے، سقراط، افلاطون اور ارسطو کے فلسفے کا عروج سکندر مقدونی کا ظہور ہے جو تیس بتیس سال کی عمر میں آدھی دنیا کو لتاڑتا ہوا ہندوستان تک آن پہنچا ، وہ جہاں جہاں سے گزرا اس نے اپنی تہذیب کو وہاں متعارف کرایا ، اس کے علاوہ بھی تاریخ میں جہاں کوئی بڑی سلطنت رہی، چاہے وہ مسلمان خلفاء، عباسی، اموی ، عثمانی یا دیگر اقوام ہوں، ان کے اندر خیر اور شر کی دوئی کا تصور نہایت واضح تھا اور ان کے فلسفۂ سیاست و سلطنت کی بنیاد میں فلسفیانہ فکر شامل تھی ،۔ رومی سلطنت البتہ ان سب کا نکتۂ عروج تھا ۔ مخالف سوچ کا کوئی گروہ کسی بڑی سلطنت کی بنیاد ڈالنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکا اور اب بھی اس کا کوئی امکان نہیں ، ورلڈ آرڈر بنانے اور اسے دنیا پر قائم کرنے کیلئے مادی وسائل اور ٹیکنالوجی کی اہمیت اپنی جگہ مگر جب تک فکر اور شعور میں دوئی کی باطنی اور روحانی بنیاد نہ ہو تب تک ” تیرے نام پہ جنگ” جتنی بھی لازم ٹھہرے، چین اور ہندوستان کبھی پہلی صف میں نظر نہیں آئیں گے، اور خوارینو والا سرخ عقاب اسی کے سر سایہ کرے گا جو پہلی صف میں موجود ہے۔

julia rana solicitors

اگلی عالمی طاقت یا یوں کہیے کہ ورلڈ آرڈر کسی ایک ملک یا قوم کے ہاتھ آنا مشکل ہے، اب کی بار شاید کچھ ممالک مل کر بنائیں، اور یہ یورپ اور روس کے باہمی اتفاق سے ممکن نظر آ رہا ہے، البتہ یہ بات طے ہے کہ ملک یا قوم کی بجائے اب کی بار اقتدار فکری گروہ کے ہاتھ ہوگا، اور یہ گروہ روایت پسندوں کا گروہ ہے جو گزشتہ ایک صدی سے لبرل گروہ کے ہاتھوں پچھلے قدموں جانے پر مجبور تھا، مگر وقت قریب ہے کہ یہ گروہ اپنا اقتدار اس لبرل گروہ سے واپس لیا چاہتا ہے، چین اور ہندوستان جیسے ممالک اس نئے ورلڈ آرڈر کے معاشی ستون تو ہو سکتے ہیں مگر بنیادی طاقت مغرب کے پاس رہے گی کہ دنیا کو کسی ایک تہذیب کسی ایک قانون کے تحت متحد رکھنے کا خاصہ وہی لوگ جانتے ہیں ۔ق

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply