لکھ رہا ہوں یادوں کا مجموعہ ،ازیتوں کا سامان،علمی سفر کے پُرکشش ایام ۔سال 2025تقریبا مجھے ارض پاکستان میں گزارنے کا موقع ملا ۔جہاں قدم قدم پر محبتوں سے بھرپور دوستوں نے زندگی کو زندگی کہنے کا موقع دیا۔اک شخص جس کے ساتھ عہد طفلی سے لے کر اب عہدِ شباب تک ،گاوں کی تنگ و تاریک گلیوں سے لے کر کراچی کے علمی درسگاہوں تک شب و روز اک ساتھ بیتایا ہو۔اب دیار غیر کی ہوا کھانے کے بعد اُس سے وابستہ یادوں کو لکھنا مجھ جیسے نازک مزاج،حسّاس دل ،شاعر آوارہ پر گراں نہ سہی مشکل ضرور ہے۔ احباب اُس سے “لاہوتی”کے نام سے پکارتے ہیں۔بعض “یوسف لاہوتی “بھی کہتے ہیں۔پرائمری سکول بردس تھلے سے لے کر ہائی سکول تھلے تک برابر کرسیوں اور چٹائیوں پر بیٹھتے رہے۔پھر 2013ء سردیوں کی چھٹیوں کے بعد ہم نے گاوں چھوڑ کر کراچی میں جینے کا فیصلہ کیا۔بس اک سال بعد ہی لاہوتی بھی کراچی آبسے۔اور ہم دونوں پھر اک ہی درسگاہ میں اک ہی روم میں شب و روز ساتھ گزارنے لگے ۔لنگوٹیا یار ہونے کے باوجود ہمارا نہایت احترام کا تعلق رہا اور ہے ۔ آج تلک ہمیں اک بڑے بھائی کی حثیت دے کر ہر علمی و نجی مسئلوں میں باہمی مشاورت بلکہ خاکسار کی باتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔حالانکہ رسمِ دنیا کے تحت ظاہری سن و سال میں ہم سے بڑے بھی ہیں۔یہی محبت اور اپنائیت مجھے ہمیشہ انکی یاد میں آہیں بھرنے پر مجبور کرتے ہیں۔خیر اک طویل جدائی کے بعد اک بار پھر ہمیں کراچی نے کچھ علمی وفکری کاموں کےلیے بلایا۔اور ہمیں اک بار پھر عہد رفتہ کے یادوں کو دوبارہ سے عملی جامہ پہنانے کا موقع دیا۔کوئی ایسی رات نہیں جو ہم دونوں مل بیٹھے ہو اور صبح کی سپیدی پھیلنے کے قریب نہ ہوئی ہو۔راتیں طویل ہوتی تھی۔پر ہماری گفتگو کےلیے راتیں پھر بھی کم پڑ جاتی تھی۔
ہم وقت نکال کر ہی منگھوپیر کراچی لاہوتی صاحب کے درگاہ پر حاضری دیتے رہے۔کیونکہ اس خاموش فضا میں راتیں جاگنا ہماری طویل تھکاوٹ کو لمحوں میں رفع کرتے تھے۔
لاہوتی صاحب مطالعے سے شدید شغف رکھتے ہیں۔بلخصوص تاریخ و ادب سے۔شدید نہ سہی مختصر سے رغبت مطالعے سے ہم بھی رکھتے ہیں۔ہماری راتیں اکثر حالی و پروین شاکر ،اقبال و فیض سے لے کر غلام حسین بلغاری کے غزلیات پر تبصروں ،بحث و مباحثوں میں کٹتی رہیں۔ہم نے اک ساتھ 2025ء کراچی یونیورسٹی کتب میلے میں شرکت کی۔ہم نے اک ساتھ محمود آباد کوئٹہ کیفے پر بیٹھ کر راتیں کبھی گاوں کے حسِین سُرمئی شاموں پر ،کبھی بچپن کے رعنائیوں پر کبھی سکول کے شرارتوں پر اور کبھی سنجیدہ ملکی و علاقائی مسئلوں پر گفتگو کی۔
اور اب آتے ہوئے رات بھر جاگتے رہے۔صبح کے تین بجتے نم آنکھوں،بوجھل دل کے ساتھ اک بار ُپھر جدائی کا تحفہ دے کر ۔دوبارہ سے ملاقاتوں کا امید بقید حیات دے کر پرائے دیس میں آبسا ہوں۔۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں