آخر ہم کنٹروورشل کیوں رہتے ہیں؟ کیا ہم ااس ضمن میں خود اذیت پسندی ، توہین پسندی اور زیر بحث رہنے کی نفسیات کے عادی ہوتے ہیں؟ دراصل توجہ حاصل کرنے کے رجحانات، خود پرستی سے حاصل ہونے والی تسکین سے جڑے ہوئے ہیں۔یہ خود پرستی کیوں پیدا ہوتی ہے؟ جب انسان میں شدید محرومیاں، خواہشات کی تکمیل اور احساسِ تفاخر کا نشہ سر چڑھ کے بولنے لگے تو خود پرستی کی عادت زور پکڑتی ہے۔اس کے ڈانڈے ’’توجہ حاصل کرنے ‘‘ سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ توجہ ملے خواہ اس کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ گالیاں، تذلیل، توہین ، تحقیر وغیرہ وغیرہ۔ توجہ ملنے سے سب کچھ بھول جاتا ہے۔اصل میں ’توجہ‘ ایک بیماری میں دوائی کی طرح ضرورت بن جاتی ہے۔جب کوئی فرد عام طریقوں سے یہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا تو وہ اختلاف، تنازع یا گھٹیا اور سطحی نمائش کے ذریعے اسے حاصل کرنے لگتا ہے۔کنٹروورشل ہونا،توجہ حاصل کرنے کا ایک مؤثر مگر خطرناک ذریعہ بن جاتا ہے۔ (ویسے توجہ اگر عام طریقوں سے مل بھی رہی ہو مگر تذلیل توہین اور تحقیر سے پیدا ہونے والی توجہ الگ شناخت دینے لگتی ہے)
آپکو شاید عجیب لگے کہ اس کیفیت میں رہنے والے لوگ توہین و تحقیر پسندی کو پسند ہی نہیں کرتے بلکہ اپنی ضرورت محسوس کرنے لگتے ہیں۔گالی،غصے اور نفرت کے اظہارات سے خوش ہوتے ہیں۔رد کرنے کے عمل میں ایسے لوگ، اپنی تصدیق تلاش کر رہے ہوتے ہیں، یعنی اگر مجھے رد کیا جارہا ہے تو کیا ہوا، یوں میں زیرِ بحث تو ہوں۔جب کوئی فیس بک پوسٹ، اخباری یا سوشل میڈیائی بیان یا عمل تنازع پیدا کرتا ہے تو توجہ حاصل کرنے کی نفسیات دما غ میں dopamin خارج کرتی ہے جو عجیب سی خوشی کا احساس دیتی ہے۔ایک وقت آتا ہے کہ انسان کنٹروورشل ہونے کا عادی بن جاتا ہے۔
مجھے یاد ہے میں نے 2006 میں ایک معروف غزل گو شاعر پر مقالہ لکھا تھا جس کی نقاط میں اشاعت کے بعد اس پر اچھا ہنگامہ برپا ہوا۔ سچی بات ہے میں شدید پریشان ہوا۔ ڈان ، دی نیوز میں کالم لکھے گئے۔حتیٰ کہ مجھے توہین آمیز خطوط بھی ملے۔ میں نے انجم سلیمی سے جب اس پریشانی کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ ’’یہی تو وہ چاہتا تھا کہ میں زیرِ بحث رہوں، یونہی مجھے ڈسکس کیا جاتا رہے خواہ کسی بھی حوالے سے ہو۔آپ نے اس کی خواہش پوری کر دی۔‘‘
وہ شاعر آج بھی اسی طرح اپنی کنٹرورشل حیثیت میں ڈسکس ہوتے ہیں۔ اصل میں ایسی نفسیات رکھنے والے لوگ بار بار عوامی نفرت یا rejection کے ذریعے اپنیexistence محسوس کرنا چاہتے ہیں۔یہ کیفیت لاشعور میں ایک منفی پن پیدا کرتی ہے۔ چلو میں کیسا بھی ہوں میں غائب تو نہیں حاضر ہوں۔ پڑھا جاا رہا ہوں دیکھا سنا جا رہا ہوں۔ لوگوں میں موجود ہوں۔ مجھے لوگوں نے مرکز بنایا ہوا ہے۔
توہین ، غصے اور حقارت سے جس قدر لوگ بھاگتے ہیں، یہ لوگ اتنا ہی اسے پسند کرتے ہیں۔ بلکہ کنٹرورشل رہنے میں انھیں لذت اور اطمینان محسوس ہونے لگتاا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں