اثاثے پروڈکشن فیکٹری کب بند ہوگی/ارشد بٹ

پاکستان میں مذہبی تنظیموں کو ہمیشہ سے ریاستی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ مگر مذہبی تنظیموں اور مذہبی سیاسی پارٹیوں کو ریاستی اثاثہ کے درجہ پر فائز کر کے جمہوری قوتوں کے خلاف استعمال کرنے کا آغاز ۱۹۶۹ میں جنرل یحیی خان کےآمرانہ دور سے ہوا تھا۔ یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ جنرل یحیی خان کے ایک وزیر جنرل شیر علی نے ’’نظریہ پاکستان’’ کی اصطلاح گھڑی تھی۔ جسے مذہبی تنظمیں ، مذہبی سیاسی جماعتیں، دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اور ریاست اپنا مذہبی بیانیہ بنانے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ یاد رہے کہ سیاسی اثاثوں کی آبیاری کرنے کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی مذہبی اثاثوں کی۔ جس کے لئے علیحدہ تحریر کی ضرورت ہے۔

جنرل یحیی آمریت میں سب سے نمایاں اورقیمتی اثاثہ جماعت اسلامی تھی۔ جسے سابقہ مغربی پاکستان یعنی آج کے پاکستان میں پیپلز پارٹی اور جمہوری جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف بڑی دیدہ دلیری سے استعمال کیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف کفر کے فتوے، اخلاق سے گرے ذاتی الزامات اور ترقی پسند طلباء اور سیاسی کارکنوں پر متشدد حملے جماعت اسلامی کی کٹھ پتلی طلباء تنظیم کے سنہری کارناموں میں شامل ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ترقی پسند طلباء کی پر امن سرگرمیوں کو پر تشدد کاروائیوں سے روکنا ان کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ سابقہ مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش میں ریاستی پشت پناہی سے مسلح تنظیمیں الشمس اور البدر بھی جماعت اسلامی کا دوسرا روپ تھا۔ یہ مسلح تنظیمیں ریاستی پشت پناہی سے شیخ مجیب الرحمن کی جماعت عوامی لیگ کے خلاف استعمال کی جاتی تھیں۔ جنرل ضیاء کی آمریت میں بھی جماعت اسلامی بڑا اہم ریاستی اثاثہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے کے لئے جماعت اسلامی کا جنرل ضیاء پراپیگنڈہ مشنری میں بنیادی کردار تھا۔ جماعت اسلامی دیگر دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ بھٹو کو پھانسی پر لٹکائے جانے تک جنرل ضیاء کی فوجی کابینہ کا حصہ رہی تھی۔

گذشتہ صدی میں اسی کی دہائی سے شروع ہونے والے نام نہاد افغان جہاد اور بعد ازاں کشمیر جہاد کے نام پر پاکستان میں مذہبی شدت پسنداور مذہبی عسکری گروہوں کی زور و شور سے پرورش کی جاتی رہی ہے۔ اب جماعت اسلامی کے ساتھ دیوبند مکتبہ فکر کی مذہبی جماعتیں بھی ریاستی اثاثہ میں شامل ہو چکی تھیں۔ نام نہاد مجاہدین افغانستان میں مقدس جہاد کے نام پر سوویت روس کے خلاف امریکی سی آئی اے کی پراکسی جنگ لڑ رہے تھے۔ نام نہاد افغان جہاد اور پاکستان میں اسلامائزیشن کو جنرل ضیاء نے اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لئے استعمال کیا۔ جنرل ضیاء کے اثاثوں یعنی جماعت اسلامی اور دیوبندی مکتبہ فکر کی مذہبی تنظیموں نے بھی نام نہاد جہاد کے لئے فراہم کردہ امریکی ڈالروں اور مادی وسائل پر ہاتھ صاف کئے تھے۔

نام نہاد جہاد کشمیر کے لئے مذکورہ پرانے اثاثوں کے علاوہ نئے اثاثوں کو بھی پروان چڑھایا گیا تھا۔ لشکر طیبہ، جیش محمد اور نہ جانے کتنے اور اثاثے ریاستی سرپرستی میں پرورش پاتے رہے۔ جنرل مشرف نے ۲۰۰۲ میں مینجڈ عام انتخابات منعقد کراوائے تھے۔ ان انتخابات میں حصہ لینے کے لئے جماعت اسلامی، جے یو آئی اور دوسری غیر معروف مذہبی سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد، متحدہ مجلس عمل ایم ایم اے کھڑا کیا گیا تھا۔ ایم ایم اے جسے ملٹری ملا الائنس بھی کہا جاتا رہا ہے، کو جنرل مشرف کی جانب سے افغان جہاد میں خدمات سر انجام دینے کے صلہ میں صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت کا تحفہ پیش کیا گیا۔

حالات کی ضرورتوں کے تحت اثاثوں میں کمی بیشی لائی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کئی اثاثے اپنی قدر کھونے لگتے ہیں یا انکی آفادیت نہیں رہتی۔ کئی اثاثوں کو دوبارہ کسی نئے نام سے عوام کے سامنے لایا جاتا ہے۔ مذہبی تنظیموں کے علاوہ مختلف شعبہ زندگی سے وابسطہ افراد کو بھی قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے اور بوقت ضرورت بروے کار لایا جاتا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان سنی مکتبہ فکر کا اہم اثاثہ بن کر ابھری تھی۔ میاں نواز شریف کی تیسری حکومت کے خلاف دھرنوں میں اسکے کمالات دیکھنے کو ملے۔ نواز حکومت کے خلاف ٹی ایل پی کے دھرنوں میں اس وقت کی مقتدرہ کے نامی گرامی جرنیلوں کا عمل دخل ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ عمران خان حکومت کے خلاف بھی ٹی ایل پی کی قوت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ چند سالوں سے ٹی ایل پی کے آئے روز پر تشدد مظاہروں کے سامنے عوام، سول انتظامیہ اور سول سیکورٹی اداروں کی بے بسی دیدنی تھی۔ گذشتہ ہفتے طاقت کے نشہ میں بد مست ٹی ایل پی نے ریاست کی آہنی دیوار سے ٹکر مار کر اپنا سر پھوڑ لیا ہے۔ اب اس بے قابو مونسٹر سے نجات حاصل کرنے کے حیلے بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی کو غیر قانونی قرار دینے کے لئے وفاقی حکومت کو لکھ دیا ہے۔ ٹی ایل پی کا نام تو قصہ پارینہ بن جائے گا اور اس کے سر کردہ راہنما جیلوں میں سزائیں بھگتیں گے۔

یہ سوال اپنی جگہ رہے گا ٹی ایل پی کے کھنڈروں سے نیا اثاثہ کب ابھارا جائےگا۔ سب سے اہم سوال جمہوری قوتوں اور حکومتوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے مذہبی، غیر مذہبی اور سیاسی اثاثوں کی پرورش کا سلسلہ بند کئے جانے کا کتنا امکان ہے۔ مذہبی اثاثے ملک میں فرقہ واریت، شدت پسندی، دہشت گردی، عدم برداشت، نفرت اور فکری انتشار پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ سیاسی اثاثوں سے سیاسی موقع پرستی، لوٹا کریسی، جمہوریت کی بیخ کنی اور غیر جمہوری رویوں کی ترویج ہوتی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی حالات کے تقاضے مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کےلئے تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لئے مذہبی اثاثوں کی سرپرستی اور پشت پناہی جاری رکھنا دن بدن مشکل ہوتا نظر آ رہا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply