کینیڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ۔۔۔روبینہ فیصل

کئی دفعہ بڑے بڑے سوالوں کا جواب نہ کسی علم میں، نہ کسی دانش میں، نہ دانشوروں کے ہاں اور نہ کتابوں میں ملتا ہے، وہ غیر متوقع طور پر کسی چھوٹی سی جگہ سے مل جاتا ہے۔ میرے ساتھ یہی ہوا،کرتار پور راہداری کے کُھلنے کے معاملے کو لے کر میں بھی اوروں کی طرح کبھی بدگمانی کبھی خوش گمانی کا شکار ہو رہی تھی۔۔قوسِ قزع  کے سات رنگوں کی طرح دل کے رنگ بھی سات ہی ہو رہے تھے، کبھی نیلا کبھی اودا، کبھی پیلا۔۔سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایک طرف کشمیر کا معاملہ، جہاں انڈیا کی ہٹ دھرمی اور بدمعاشی ہضم نہیں ہو رہی اور دوسری طرف ہم کرتار پور کا راستہ بھی کھول دیں۔۔ وہ تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو ہماری کشادہ دلی کیا معجزہ دکھا دے گی؟اور پھر کبھی یہ شک کہ سِکھ کہیں ہمارا پنجاب بھی نہ مانگ لیں۔۔ بڑی سکیمیں۔جاسوسیاں۔۔سازشیں اور نہ جانے کیا کیا۔۔

اس موضوع پر جتنے بھی آرٹیکل لکھے جارہے تھے سب کے سب پڑھنے کی کوشش میں لگی ہو ئی تھی کہ کچھ نظر میں آنے سے رہ نہ جائے۔۔ مگر دل ایک فیصلہ کر نہیں پا رہا تھا اور دماغ کا فیصلہ تو ویسے ہی ہم جیسوں کا بعد میں آتا ہے۔

ایسی کنفیوژن میں مجھے اپنے ہیئر ڈریسر کے پاس جانے کا اتفاق ہوا۔جہاں سے میں سالوں سے بچوں کی اور اپنی بھی ہیئر کٹنگ کر واتی ہوں۔۔اس سیلون کا مالک کلین شیو سِکھ لڑکا بنٹی ہے،ایمپلائیز میں ہر طرح کی نیشنیلٹی کی جن میں پاکستانی، انڈین، سپینش اوررشین لڑکیاں ہیں۔مالک کا ایک کزن بھی ہے، ظاہر ہے وہ بھی سِکھ ہی ہے اور وہ بھی کلین شیوڈ ہی ہے۔ میں جب بھی وہاں جاتی ہوں، ایک فیملی کا احساس ہو تا ہے۔ حال چال یہ وہ، کے بعد اگر تو کوئی خاتون ایمپلائی میرا کام کر رہی ہوں تو میری تحریروں کے بعد ان کے زنانہ مسائل، ساس نے یہ کہہ دیا، خاوند نے وہ کہہ دیا ٹائپ گفتگو ہوتی رہتی ہے اور وقت کٹ جا تا ہے۔اور اگربنٹی یااس کا کزن وکی آجائیں تو میری تحریروں،ٹاک شو، فلم،سیاست، مذہب سب پر بات ہو تی ہے بلکہ وکی کا مطالعہ تو اتنا وسیع  ہے کہ انڈو پاک تاریخ میں ہمارے کئی نام نہاد دانشوروں کو پیچھے چھوڑ جائے،ذوالفقار علی بھٹو ہو یا نہرو یا ضیاالحق، مجھے ان کے متعلق وکی سے بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔

میرے علاوہ بھی جتنے لوگ وہاں کام کروانے آتے ہیں، سب کے ساتھ ان سیلون والوں کا سلوک بہت دوستانہ ہو تا ہے۔مگرمیرا مرتبہ باقی گاہکوں سے ایک درجہ یوں بلند ہو جاتا ہے کہ مجھے کبھی کبھار وہاں کوفی شوفی کی آفر بھی ہو جاتی ہے۔
“باجی ٹم ہارٹن جا رہے کوفی پینی جے”۔۔خیرمحلے کے نائی والی دکان جیسے ماحول میں بیٹھ کر کئی مرتبہ وہاں دیوار پر لگے ایل سی ڈی پر کر کٹ میچ بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔۔۔ سیلون میں سب پاکستانی انڈین بال کٹوانے کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور ساتھ ساتھ میچ دیکھ رہے ہیں اور خوب نعرے لگ رہے ہیں۔۔ ایک ایسے ہی دن میرے وہاں بیٹھے بیٹھے پاکستان میچ جیت گیا تو میں نے خوشی میں ساتھ والی دکان سے بھاگ کر مٹھائی پکڑی اور کاونٹر پر رکھ دی تاکہ ہماری خوشی میں سب خوش ہوں۔سکھ بردارن کے چہروں پر وہ خوشی نہ تھی جو میں دیکھنے کی متمنی تھی کہ جب اتنا دوستانہ بردارانہ ماحول ہے تو پھر بھی پاکستان کی جیت وہ بھی انڈیا کے خلاف نہیں بلکہ انگلینڈ کے خلاف ہے تو یہ اس طرح خوش کیوں نہیں ہو رہے۔۔خیر۔۔سوچا وہی اینٹی پاکستان جذبات۔۔ان باتوں سے ہٹ کروکی کے کرکٹ کی تاریخ سمیت حالیہ تبصرے بھی قابل ِ تحسین ہوتے ہیں۔۔

ایک بات جو مجھے تکلیف دیتی تھی۔۔ وہ تھی انڈیا کے اندر اقلیتیوں کے ساتھ سلوک اس بات پر وکی، یا بنٹی انتہائی نیوٹرل ہو نے کے باوجود ایک متعصبانہ رویہ رکھتے تھے اور مکمل انکاری ہو جاتے تھے کہ انڈیا کے اندر کوئی ایسا غیر مساوی سلوک بھی موجود ہے، دوسری بات ان کا الگ وطن” پاکستان “کے بننے پر اختلاف ۔۔
“تسی زیادہ سارے لوگ انڈیا وچ ہوندے تے تسی وڈی اقلیت ہونا سی کھل کے مقابلہ کر دے “۔ میں کہتی “اقلیت چھوٹی ہو یا بڑی ہوتی تو اقلیت ہی ہے۔۔ساڈے بزرگ ہندو انتہا پسندی دا چہرہ نہ دیکھدے تے اُنہوں نے کیوں وکھرا ہو نا سی؟ ”
خیر یہ بحث ہو تی رہتی تھی۔۔۔۔
خیر میں بھی اور وہ لوگ بھی اپنی اپنی بات پر ڈٹے بھی رہتے مگر احترام کا دامن تھامے۔
پھر ایک دن وکی نے کہا “باجی آپ اپنے ٹاک شو میں خالصتانیوں کو کیوں بلاتی ہیں؟ یہ کوئی تحریک ہے ہی نہیں۔۔ ہے بھی تھی تو ختم ہو چکی ہے۔ ۴۸ کے بعد بس اب باہر کے ملکوں میں ہی دو چار بندے راگ الاپتے ہیں۔ ہمیں انڈیا میں کو ئی تنگی نہیں ہے۔ انڈیا بڑا وڈیا ملک اے۔۔ پاکستان کی طرح نہیں کہ جہاں اقلیتیوں پر ظلم ہو تا ہے اور انہیں دبایا جا تا ہے۔۔ تہاڈا پاکستان ضیاالحق نے برباد کر دتا اے۔۔ طالبان اوتھے ہو ندے۔دہشت گرد اوتھے ہوندے، انڈیا نوں سکھ دا ساء نہیں لین دیندے تسی لوگ۔” وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔اور میں نے یعنی دل ِ ناتواں نے یہاں بھی مقابلہ خوب کیا مگر اس کی آنکھوں میں موجود اپنے بیان پر یقین میں مٹا نہیں سکی۔۔

یہاں تک کہ وکی انڈیا میں پھیلی غربت اور تھڑوں پر سوئے لوگ جو میں اپنی آنکھوں سے دِلّی میں دیکھ کر آئی تھی، ان حقیقتوں کو بھی میرے یا کسی بھی پاکستانی کے سامنے ماننے سے انکاری رہتا تھا۔ اور یہ بات انڈینز میں کوٹ کوٹ کر بھری ہو ئی ہے کہ وہ پاکستانیوں کے سامنے کبھی اپنی کمزوری کو نہیں اچھالتے بلکہ گناہ تک چھپا نے کی عادت میں مبتلا ہیں۔ ہمارے دانشوروں کی طرح پیٹ سے کپڑا اٹھا اٹھا کر ڈھنڈورا پیٹنا ان کے کسی بھی لیول کے بندے کو نہیں آتا تھا۔۔حتی کہ وہاں کے ٹیکسی ڈرائیور کو بھی پتہ چل جائے کہ آپ کا تعلق پاکستان سے ہے تو انڈیا کے گن گانے شروع کر دیتے ہیں۔۔۔

مگر کرتار پو ر راہداری کے کھلنے کے اگلے ہی دن اس سیلون میں ایک عجیب صورتحال تھی۔ میں جیسے ہی داخل ہو ئی، وکی کسی اور کے بال کاٹنے میں مشغول تھا۔مجھے دیکھتے ہی دور سے سیلوٹ کیا،عزت تو پہلے بھی بہت کیا کرتے تھے، مگر آج اتنا ٹکا کے سیلوٹ؟۔۔ میں نے مسکرا کر دور سے ہاتھ ہلا دیا۔ اتوار کے دن کچھا کھچ بھرا ہوا ہال،اتنی مصروفیت کے باوجود،بنٹی نے کہا” باجی تسی جانا نہیں ”

کیونکہ بھرا ہال دیکھ کر میں سوچ رہی تھی واپس چلی جاؤں ،پھر آجاؤں گی اتنی دیر کون بیٹھے۔۔بنٹی نے میری نظریں پڑھ لی تھیں۔۔
” تسی ایتھے بیٹھو میں ہنے کڑی نوں کہنا واں۔۔۔”پھر چمکتی آنکھوں، دہکتے گالوں سے اس نے مجھے شکریہ کہا۔ میں کاؤنٹر پر پڑے مٹھائی کے دو ڈبوں کو دیکھ کر سمجھ گئی کہ شکریہ کیوں کہہ رہا ہے، کیوں نہ سمجھتی ایک کے اوپر کرتار پور کی راہداری کھلنے پر مبارکباد لکھ کر ڈبہ رکھا ہوا تھا۔ “باجی مٹھائی کھادے بغیر نہیں جانا۔۔ یہ ہمارے پاکستانی کلائنٹ رکھ کر گئے ہیں۔۔ اور کل ہم نے سارا دن ڈسکاونٹٹد پرائس یا فری کام کیا سب پاکستانیوں کا۔۔۔ آپ نے ہم لوگوں کو بہت بڑی خوشی دی۔۔” اور پھر عمران خان اور پاکستان کی تعریفوں کے انبار لگنے لگے۔۔۔

مجھے حیرت سے زیادہ پریشانی ہو نے لگی، میں جو سالوں سے ان لوگوں کے ساتھ سر کھپا رہی  تھی اور جو باتیں میں کہتی تھی، مثلاً ہندو انتہا پسند ذہنیت کی، ہندوستان میں مذہبی شدت پسندی کی، تنگ نظری کی، دوسرے مذاہب کو برداشت نہ کر سکنے اور خود کو برتر سمجھنے کی عادت کی۔۔آج وہ سب باتیں وکی، بنٹی،(وہ سِکھ جو ہندستانی ہونے کے ناطے اس دھرتی سے اپنی وفاداری کے ثبوت پر اس کی برائیوں پر بھی پردہ ڈالتے رہتے تھے اورکسی ٹیپیکل ہندوستانی کی طرح ہر بات کا مورد ِ الزام پاکستان کو ٹھہراتے رہتے تھے یکا یک ہندوستان اور پاکستان کے بارے میں ان کے نظریات بدل چکے تھے۔۔۔ اور آج تو بنٹی نے (جووکی سے زیادہ محتاط ہوا کرتا تھا):” تہاڈی بابری مسجد دا فیصلہ آیا،انڈین مسلم چُوں بھی نہیں کر سکتے۔وہاں کوئی بول نہیں سکتا۔۔ “میں نے کہااتنا سخت ماحول ہے تو پہلے کیوں بولتے تھے۔۔ میں یہی تو کہا کرتی تھی تو مجھے جھٹلا دیا کرتے تھے۔۔ کہنے لگا باجی تب لگتا تھا کیا فائدہ، جہاں رہنا وہاں اپنے لئے کیوں مسئلہ پیدا کرنا۔۔ لیکن اب پاکستان نے یہ کر دیا، ہم پر اتنا بڑا احسان ہے کہ میں آپ کو لفظوں میں نہیں بتا سکتا۔۔ ۵ کلومیڑ کے فاصلے سے ہم نے اپنے ماپوں کو دوربینیں لگا کروہاں جانے کے لئے تڑپتے دیکھا ہے۔۔ ہم کتنے خوش ہیں اس کا اظہار الفاظ میں نہیں کر سکتے مگر ہمارے دل احترام سے بھر گئے ہیں۔ اب کس منہ سے انڈیا کے لئے جھوٹ بولیں اور پاکستان کو بُرا کہیں۔۔اور سب سے بڑھ کر یہ جو مٹھائی کا ڈبہ پڑا ہے، اور یہ جو تین ہندو ابھی ابھی آپ کے آگے گئے ہیں، اور کل سے جو بھی ہندو آرہا ہے، کسی نے ڈبہ کھول کے دیکھا تک نہیں، اوپر سے ہی مبارک کا پیغام پڑھ کر منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی ہم سے محبت۔۔”۔۔تو سِکھ کی آنکھ سے ہندو کی محبت کا جھوٹا پردہ ہٹ گیا۔۔۔ایک راستہ کھلنے سے۔۔دماغ کے کئی در بھی کُھل سکتے ہیں میں جو ہمیشہ یہی سمجھتی آئی تھی کہ مذہب، انسانوں میں تقسیم کی وجہ بنتا ہے۔ اس دن اس بنٹی کے سیلون میں بیٹھ کر احساس ہوا کہ مذہب کا “پتا” ٹھیک طرح چل لو تو دلوں کو جوڑنے والی اس سے بڑی وجہ دنیا میں کو ئی اور نہیں ہو سکتی۔۔ خان کے پاکستان نے یہ پتاٹھیک چل لیا ہے۔۔سکھوں کے دل جیت لئے۔۔ مودی کے ہندوستان نے بابری مسجد کا فیصلہ مسجد کی تعمیر کے خلاف دے کر مسلمانوں کی نفرت خرید لی ہے۔۔

ایک فیصلے کی پھونک سے سے ہندوستان کی سیکولرازم کا راز فاش ہوا اور اسی طرح کی ایک پھونک سے پاکستان کی مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت کی بدنامی غائب ہو تی نظر آئی۔۔۔اسی کو معجزہ کہتے ہیں۔۔۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *