• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عفت عمر کے “گریٹ ڈیبیٹ” میں بچوں کی تربیت کے مذاکرے کا جائزہ (3) -وحید مراد

عفت عمر کے “گریٹ ڈیبیٹ” میں بچوں کی تربیت کے مذاکرے کا جائزہ (3) -وحید مراد

عفت عمر صاحبہ کے پروگرام “دی گرینڈ ڈیبیٹ” میں بچوں کو سیکس ایجوکیشن دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک تعلیمی یا حفاظتی نکتہ محسوس ہوتا ہے مگر مغربی معاشروں میں یہ اصطلاح اب محض “آگاہی” تک محدود نہیں بلکہ جنسی آزادی، ہم جنس پرستی اور لذت پرستی کے ایک پورے فکری نظام میں ڈھل چکی ہے۔ وہاں تعلیم و تربیت کے نام پر معصوم ذہنوں کو ایسی ایسی چیزیں پڑھائی اور سکھائی جاتی ہیں جو رفتہ رفتہ حیا، حدود اور اخلاقی شعور کو کمزور کر دیتی ہیں۔

ہماری تہذیبی روایت میں “حیا” ایمان کا جزو ہے۔ یہ صرف سماجی آداب نہیں بلکہ روحانی حفاظت کی ایک مضبوط دیوار ہے۔ بچوں کو جسمانی یا جنسی معاملات سے آگاہی دینے کی ضرورت اپنی جگہ درست ہے مگر اس کا طریقہ وہی ہونا چاہیے جو تربیتِ عفت و طہارت پر مبنی ہو نہ کہ مغربی “سیکس ایجوکیشن” جیسا آزادانہ اور غیر محتاط ماڈل۔

ہمارا نقطۂ نظر، یہ نہیں کہ ان موضوعات پر بات ہی نہ کی جائے بلکہ یہ ہے کہ گفتگو ادب، حکمت اور عمر کے لحاظ سے کی جائے۔ بچوں کو اچھے اور بُرے لمس کی سمجھ دینا، صفائی، اعتماد اور تحفظ سکھانا لازمی ہے لیکن اس انداز میں کہ ان کے ذہن میں تجسس نہیں بلکہ شعور پیدا ہو۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ مغرب میں تعلیم اور اخلاق دو الگ موضوعات ہیں ۔ وہاں جسمانیات(Body awareness & Personal Hygiene) کو صرف حیوانی سطح پر پڑھایا جاتا ہے اور روحانی و اخلاقی پہلو یکسر نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیکس ایجوکیشن اب تربیت عفت و طہارت نہیں بلکہ جنسی آزادی کی تحریک بن چکی ہے۔ اس میں ایسے کورسز شامل کر دیے گئے ہیں جن میں جنسی تعلق کے طریقے، مانع حمل ذرائع، جنسی رجحانات (Sexual Orientations)، اور ہم جنس پرستی (LGBTQ+ Education) جیسے پہلوؤں پر کھلے عام بات کی جاتی ہے۔

یہ طرزِ فکر اخلاقیات کے اعتبار سے ناقابلِ قبول ہے اور یہی وجہ ہے کہ مغرب میں رہنے والے بہت سے معتدل والدین بھی سیکس ایجوکیشن کی اصطلاح سے شدید اضطراب محسوس کرتے ہیں۔ہماری تہذیب میں اگر ایسی تعلیم دی بھی جائے تو وہ بالغ یا شادی سے قبل نوجوانوں کے لیے ازدواجی تربیت (Pre-Marital or Family Life Education) کے نام سے دی جا سکتی ہے نہ کہ کم عمر بچوں کے اذہان کو آلودہ کرنے کے لیے۔

ہماری تہذیبی روایت میں جسم، دل اور روح کی تربیت ساتھ ساتھ دینے پر زور دیا گیاہے۔ یہاں علم کا مقصد محض معلومات نہیں بلکہ تزکیۂ نفس اور طہارتِ کردار ہے۔ اسی لیے سیکس ایجوکیشن کے بجائے زیادہ مناسب اصطلاحات یہ ہیں:جسمانی آگاہی (Body Awareness)، اچھا لمس، بُرا لمس (Good Touch/Bad Touch)، ذاتی حفاظت کی تعلیم (Personal Safety Education)، تربیتِ بلوغت (Puberty Education) اور تربیتِ عفت و طہارت (Moral & Physical Purity Education)۔یہ اصطلاحات تعلیم اور تربیت کے درمیان وہ توازن قائم کرتی ہیں جو ہماری تہذیبی روح کی پہچان ہے ۔ اس تربیت کا مقصد یہ ہےکہ بچہ اپنے وجود، حدود اور ذمہ داری کو سمجھے، اعتماد کے ساتھ اپنی حفاظت کر سکے اور جسمانی تبدیلیوں کو فہم اور وقار کے ساتھ قبول کرے۔

درحقیقت مسئلہ علم اور آگاہی کا نہیں بلکہ زاویۂ نظر کا ہے۔ جب علم کو اخلاق سے جدا کر دیا جائے تو تعلیم محض معلومات رہ جاتی ہے اورمعاشرہ اندھی تقلید میں گم ہو جاتا ہے۔ ہمیں ایک متوازن اور باوقار تعلیمی پالیسی تشکیل دینے کی ضروت ہے جو فطرت، اخلاق اور روحانیت کا امتزاج ہو۔ بچوں کی تربیت محض نصابی فریضہ نہیں بلکہ تہذیبی امانت ہے۔ اگر ہم یہ امانت مغربی ماڈلز کے حوالے کر دیں تو بظاہر آزاد اور معلومات رکھنے والی لیکن اقدار اور باطن سے محروم نسلیں جنم لیں گی۔ سیکس ایجوکیشن کےبجائے جسمانی و اخلاقی آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہےتاکہ ہماری نئی نسل باشعور، بااخلاق اور باوقار ہو اور توازن کے ساتھ پروان چڑھے۔یہی تعلیم و تربیت کا اصل مقصد ہے ۔

جب جدید تربیت پر زور دیتے ہوئے والدین کو کہا جاتا ہے کہ وہ بچوں کی پرورش کےدوران بچوں کے احساسات، جذبات اور خواہشات پر زیادہ توجہ دیں یا صنفی مساوات جیسے تصورات کو قبول کریں تو دراصل تربیت کو ایک محدود نفسیاتی و انفرادی مظہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر محض ایک سماجی تجویز نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ مقدمہ ہے کہ فرد، معاشرے سے الگ ایک خودمختار وجود ہے جو اپنی تمام اقدار، اخلاق اور ترجیحات خود متعین کر سکتا ہے۔

یہی وہ بنیاد ہے جس پر مغربی تہذیب کا “فرد مرکز نظریہ زندگی” (individualistic paradigm)کھڑا ہے ۔ یعنی فرد سب سے بڑا محور ہے اور اجتماعی ادارے ،خاندان، مذہب، معاشرہ اس کے تابع۔یہ تصور آزادی کے نام پر فرد کو خود کفیل بناتا ہے مگر درحقیقت اسے معنوی جڑوں سے کاٹ دیتا ہے۔جب تربیت کی ذمہ داری معاشرے یا مذہب سے ہٹ کر صرف فرد پر ڈال دی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب ہر شخص اپنی “سچائی” اور “اقدار” خود تخلیق کرے گا اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے فکری انتشار اور اخلاقی افراتفری جنم لیتی ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر اس کے برعکس ہے۔ اس میں فرد کو نہ تو اجتماعی وحدت کا اسیر سمجھا گیا ہے نہ مکمل آزاد شے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔بلکہ وہ ایک ایسا وجود ہے جو رب سے منسلک ہے، معاشرے سے مربوط ہے اور اخلاقی ذمہ داری کا حامل ہے۔یہی ربط تربیت کو محض ایک فن یا تکنیک نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک تہذیبی فریضہ بنا دیتا ہے۔ اس تربیتی فکر کے مطابق انسان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ اس کا وجود، اس کی عقل، اس کی آزادی اور اس کی ذمہ داری سب ایک بلند تر اخلاقی نظام سے وابستہ ہیں۔جب یہ تعلق منقطع ہو جاتا ہے تو تعلیم اور تربیت دونوں اپنی روح کھو دیتے ہیں۔پھر بچہ خواہ دنیا کی بہترین جامعات میں کیوں نہ پڑھ لے وہ صرف نفس کی تربیت کرتا ہے، روح کی نہیں۔

ہماری روایت میں تربیت کو تہذیبی سانچہ کہا گیا ہے۔یہ وہ مجموعی فریم ورک ہے جس میں علم، اخلاق، عبادت اور سماجی روابط ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔یہ اجتماعی پیٹرن ہر فرد کو ایک ایسی فکری اور اخلاقی شناخت دیتا ہے جو محض شعور نہیں بلکہ کردار پیدا کرتی ہے۔یہی وہ سانچہ ہے جو ناخواندہ اور پسماندہ والدین کے گھر میں بھی اخلاق، حیا، خدمت اور ایمان کی خوشبو پیدا کر سکتا ہے۔

مغربی نظریات نے جب اس اجتماعی سانچے کو توڑ کر تربیت کو فرد کا ذاتی معاملہ بنا دیا تو ہر گھر، ہر شخص، ہر نظریہ الگ الگ دنیا میں رہنے لگا۔اب ہر ماں باپ اپنی اپنی سچائی اور نظریے کے مطابق بچے پال رہے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ پورا معاشرہ غیر ہم آہنگی، فکری انتشار اور اخلاقی اضطراب کا شکار ہو چکا ہے۔یہ وہ قیمت ہے جو جدید تہذیب نے “فرد کی آزادی” کے نام پر چکائی ہے۔اسلامی تہذیب اس کے برعکس آزادی کو ذمہ داری سے مشروط کرتا ہے اور ذمہ داری کو معرفتِ الٰہی سے جوڑتا ہے۔یہی وہ توازن ہے جو تربیت کو ایک مقدس، باوقار اور ہم آہنگ عمل بناتا ہے۔فرد کی اصلاح کے بغیر معاشرہ نہیں سنورتا اور معاشرے کی اصلاح کے بغیر فرد سلامت نہیں رہتا۔یہ باہمی ربط ہی اسلامی تربیت کی روح ہے جو نہ انفرادیت کو کچلتی ہے نہ اجتماعیت کو مقدس بناتی ہے بلکہ دونوں کے درمیان توازن پیدا کرتی ہے۔

julia rana solicitors london

مذکورہ مذاکرے میں اپنی جگہ درد، احساس اور مشاہدے کی صداقت موجود ہے مگر اس کا حل تہذیبی جڑوں سے کٹا ہوا ہے۔ حقیقی اصلاح تبھی ممکن ہے جب تربیت کی بنیاد توحید، اخلاق اور تزکیہ پر رکھی جائے۔ علم کو عمل اور نیت سے جوڑا جائے، والدین اور بچوں کے رشتے میں محبت کے ساتھ حدود ہوں اور مرد و عورت کے تعلق کو عدل، وقار اور ذمہ داری کی روشنی میں سمجھا جائے۔تعلیم و تربیت کا مقصد صرف کامیابی نہیں بلکہ خیر، عدل اور خدمتِ خلق ہونا چاہیے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply