• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • انڈیا، افغان حکومت، طالبان اور پی ٹی آئی/ارشد بٹ

انڈیا، افغان حکومت، طالبان اور پی ٹی آئی/ارشد بٹ

افغانستان کی پناہ گاہوں سے تحریک طالبان پاکستان، ٹی ٹی پی اور بلوچ لبریشن آرمی، بی ایل اے، پاکستان کے خلاف بھارت کی پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں عوامی مقامات اور سکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کے نہ تھمنے والے دہشت گرد حملوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ طالبان کے دہشت گرد حملوں میں سینکڑوں نہتے عوام، سکیورٹی اہلکار اور افسران شہید ہو چکے ہیں۔ اشتعال انگیز دہشت گرد حملوں کے رد عمل میں پاکستانی مسلح افوج نے افغان سرحد پار کاروائیوں سے دہشت گردوں کے بیسیوں ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا اور سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس وقت پاکستان اور افغانستان بارڈر پر جنگی ماحول جیسی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ گزشتہ تین روز سے پاکستانی افواج اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی جھڑ پوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارت کا افغانستان میں اثر و رسوخ پاکستان کے لئے ہمیشہ سے ایک چیلنج اور حساس معاملہ رہا ہے۔ افغان وزیر خارجہ امیر متقی کے حالیہ دورہ بھارت کے بعد افغانستان میں بھارت کا عمل دخل مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ افغان وزیر خارجہ کے دورہ کے بعد افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے خدشات میں اضافہ ہو ا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے بھارت اور افغانستان میں قربتیں مزید بڑھتی نطر آ رہی ہیں۔ افغانستان حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو پناہ گاہیں فراہم نہیں کر رکھیں۔ افغان وزیر خارجہ نے بھارت میں کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور وہ اسے خود حل کرے۔

ایک طرف خیبر پختون خوا  میں مذہبی شدت پسند طالبان نے اسلامی انقلاب کے نام پر دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان میں انتہا پسند قوم پرست علیحدگی پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ نہتے پنجابی مزدوروں کو ہلاک کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف کا دہشت گرد پاکستانی طالبان اور افغانی طالبان حکومت کے لئے نرم گوشہ اور مفاہمانہ موقف نا قابل فہم ہے۔ پی ٹی آئی کےنو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے نامزدگی کے وقت کہا تھا کہ پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان تحریک طالبان پاکستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کے ایکشن کی حمایت نہیں کرتے۔ وہ طالبان سے بات چیت کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کے حامی ہیں۔ عمران خان نے جیل سے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان سے کشیدگی کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا دہشت گردی کا حل سیاسی طور پر نکالا جائے۔ عمران خان نے دہشت گردی کی مذمت کرنے کے ساتھ حکومت کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر بھی تنقید کی ہے۔

یاد رہے امریکہ کی پٹھو اشرف غنی حکومت کے ۲۰۲۱ میں خاتمہ کے بعد طالبان نے افغانستان کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ افغانستان کے اقتدار اعلیٰ پر افغان طالبان کے قبضہ کے بعد پاکستان نے طالبان حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطح کے روابط جاری رکھے ہیں۔ مگرچارسالہ طالبانی دور حکومت میں پاکستان پر افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ایک طویل عرصہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ براہ راست بات چیت اور چین کی دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور کرانے کی تمام کوششیں بے نتیجہ نکلیں۔ چین، روس اور ایران بھی افغانستان سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف مسلح کاروائیاں کرنے والے مسلح گروہوں کا خاتمہ کیا جائے۔ افغان حکومت نے تحریک طالبان کی پاکستان کے خلا ف مسلح دہشت گرد کاروائیوں کو روکنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ نہ ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کیا، نہ انکی تربیت گاہوں کو بند کیا اور نہ ہی انکی مالی امداد فراہمی کے دروازے بند کئے۔ یہ ہی پالیسی نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی کے لئے جاری رکھی ہوئی ہے۔ بی ایل اے نیٹ ورک کے دہشت گردوں کو بھی افغان سرزمین میں محفوظ پنا گاہیں فراہم کی جاتی ہیں۔ خیبر پختون خوا  اور بلوچستان میں سیاسی عدم استحکام کی صورت حال بھی دہشت گرد گروہوں کے لئے زرخیز زمین کا کام کرتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال یعنی ۲۰۲۴ میں طالبان پاکستان کے اندر کم ازکم چھ ہزار دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال دہشت گرد واقعات میں پچھلے سال کی نسبت اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ اسلام آباد میں ایک تھنک ٹینک سی آر ایس ایس کے مطابق اس سال کی پہلی تین سہ ماہی میں شہید ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد 2400سے زیادہ ہو چکی ہے۔اس دہائی میں یہ سب سالوں سے زیادہ خونی سال رہا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اب پاکستان نے افغانستان کے طرف سے طالبان کی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی پر عمل کرنے کی ٹھان لی گئی ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے کسی حملے کی صورت میں اس کا جواب افغانستان کے اندر کاروائی کرکے دیا جائے گا۔بعض تجزیہ کار افغانستان میں طالبانی رجیم تبدل کرنے کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔ افغان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کی شدت کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کا ۱۲ ۔ اکتوبر ۲۰۲۵ کا ایک بیان بڑا معنیٰ خیز ہے کہ ہمیں امید ہے کہ ایک دن افغان عوام آزاد ہوں گے اور وہاں حقیقی عوامی نمائندوں کی حکومت قائم ہو گی۔

julia rana solicitors london

خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے صوبے میں سیاسی استحکام بہت اہم ہے۔ مگر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت مسلح دہشت گردی کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کی حامی نہیں ہے۔ عمران خان طالبان کے ساتھ گفتگو کے ذریعے سیاسی حل ڈھونڈے پر زور دے رہے ہیں۔ یاد رہے تحریک طالبان کے مطالبات میں پاکستان کے اندر اسلامی قوانین کا افغانستان کی طرز پر سختی سے اطلاق، گرفتار دہشت گردوں کی رہائی، سابقہ قبائلی علاقوں کا صوبہ پختون خوا سے الحاق کا خاتمہ اور پرانے قبائلی نظام کی بحالی شامل ہے۔ کیا طالبان کے ساتھ مذاکرات میں عمران خان ان میں سے کوئی مطالبہ تسلیم کرنے کو تیار ہوں گے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply