وقت کی رفتار سے ڈر لگتا ہے۔کل ہی پرائے دیس سے واپس پاکستان جانے کے بارے گفتگو رہی۔ آج 9ماہ گزار کر واپس بھی آچکا ہوں۔
میرا سفر اک علمی و فکری سفر تھا۔ تاہم نجی کاموں میں بھی مصروف رہا۔
14جنوری 2025 سرزمین پاکستان میں قدم رکھا ۔
کراچی جہاں میں نے بولنا ،لکھنا ،گنگنانا سیکھا جہاں میرا لڑکپن سے لے کر عہد جوانی کی حسیں یادیں مدفون ہیں۔
اک بار پھر تعلیم و تعلم کے حوالے سے وہاں جینے کا،سانسیں لینے کا موقع ملا۔
میں دیار غیر میں وہاں کے یادوں کو لے کر آہیں بھرتا تھا۔
لیکن گردش ایام نے پھر ان یادوں کو عملی جامہ پہنانے کا موقع دیا۔
ان بچھڑے دوستوں کے ساتھ پھر سے محفل جمانے کا موقع دیا۔پھر سے راتوں کو ہوٹلوں،کیفوں میں بیٹھ کر علاقائی و ملکی مسائل،ادبی و علمی ظریف نکات پر بحث و مباحثہ کا حسِیں موقع ملا۔
زندگی تیرا شکریہ تُو نے
غمِ جاناں سے آشنا کردیا
ہر دور کا اپنا اک حُسن ہوتا ہے۔ہاسٹل لائف ان میں سے اک نہایت ہی حسیں دور ،عہد ہوتا ہے۔
پطرس بخاری نے ہاسٹل پر لکھ کر اس عہد کو امر کردیا ہے۔
اس عہد کے کچھ چنیدہ و حس مزاح سے بھرپور دوستوں میں سے اک “غلام حسنین خپلوی”صاحب ہے۔ہم سن و سال،ہم مکتب و ہم حجرہ بھی رہے۔
وہ اب کراچی یونیورسٹی کی رنگین فضا میں اک مقصد کی تکمیل ،اک خواب کی تعبیر ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔
لیکن محبتیں دائم رہے۔ہم کراچی پہنچنے کے بعد بار بار ،وقتٙٙا فوقتٙٙا محفلیں سجانے،سنگتوں کو رونق بخشنے تشریف لاتے تھے۔کبھی ہم انکے در پر کبھی وہ ہمارے در پر۔
کبھی ہوٹلوں ،کیفوں اور در بدر۔
شوخ و چنچل مزاجی اپنی جگہ سنجیدگی اور وضع و قطع میں خوبصورتی اپنی جگہ۔
مختلف مذھبی و رفاہی کاموں کے حوالے سے بھی کئی راتیں ہم مل بیٹھے۔
اک رات محمود آباد 6نمبر کوئٹہ ہوٹل پہ کچھ مطالعاتی و ادبی حوالے سے گفتگو رہی۔اتفاقا اسی دوران کراچی یونیورسٹی میں کتب میلہ لگا ہوا تھا۔
کتب بینی کے حوالے سے اک پرمغز شام تھی ۔
مدارس دینیہ میں غالبا ثقیل اور خشک کتابوں سے پالا زیادہ پڑتا ہے۔شاید اسی لیے مزاج میں کرختگی ،نظریات میں شدت پیدا ہوتی ہے۔
میں نے مطالعے کی اہمیت کے حوالے سے اپنی تئیں کچھ معروضات پیش کی۔ہمارا مدعا یہ رہا کہ ابتدائی طور پر نصابی کتابوں کو پڑھنے کے بعد صاحبانِ مطالعہ اور صاحبان علم کی رہنمائی میں مطالعاتی سفر کو تیز کرے تو شاید روایتی طور پر اک حصار میں زندگی کرتے پڑھنے سے بہتر نتائج حاصل ہوسکتا ہے۔
چند مثالیں ہم نے سر دست مودودی سے لے اسرار احمد تک پیش کی۔
اگلے ہی دن حسنین کا مسیج آیا ابھی کراچی یونی میں کتب میلہ چل رہا ہے اگر ممکن ہے تو دوپہر تک یونی پہنچ جاو۔اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں ہم بھی بروقت پہنچ گئے۔
میں تو عارف خٹک کے ناول “یہ پالا ہے،اور “چھٹکی”ڈھونڈنے نکلا تھا پر تلاش بسیار کے باوجود یہ دونوں ناول نہیں مل سکا۔
پر حسنین صاحب کو ہم نے ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب”محاضرات”جو 6جلدوں میں موجود ہیں۔خریدنے کا عندیہ دیا۔
اور اتفاقا وہ کتاب اک بک سٹال پر موجود تھی۔
یہ کتاب علمی ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی چاشنی سے بھرپور ہے۔
پھر اک سلسلہ وار مطالعہ کرنے والے کےلیے اسلامی تراث کا اجمالی طور پر اک خاکہ مل جاتا ہے۔
اب سوچتا ہوں تو
یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تری آواز آرہی ہے ابھی
کے علاوہ کچھ بچا ہی نہیں۔
لکھوں تو سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا جاے گا۔
اور آخری بار ہم پھر ہم کوئٹہ ہوٹل پر بیٹھ گئے۔شب کی سیاہی پھیلتے بیٹھے ہی تھے۔صبح کی سپیدی بھی پھیل گئی۔ یعنی خوبصورت دل، دل لبھانے والی گفتگو کرنے والے دوستوں کے ساتھ بیٹھو تو وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا شاید یہی اوقات زندگی کا اہم حصہ اور اثاثہ ہوتے ہیں۔

جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں