• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مشال کیس: پارٹیوں کی قومی و مقامی قیادت کا متضاد موقف– طاہر علی خان

مشال کیس: پارٹیوں کی قومی و مقامی قیادت کا متضاد موقف– طاہر علی خان

مشال خان سانحہ پر عدالتی فیصلے کے بعد ایک طرف مقدمے میں نامزد ملزمان کے حق میں  زور و شور سے مہم شروع کی گئی اور دوسری طرف مشال خان کے خلاف توہین رسالت کا پروپیگنڈہ بھی تیز کیا گیاہے۔ عدالتی فیصلے کے علی الرغم مشال خان کیس میں سزا یافتہ افراد کا جس طرح والہانہ استقبال کیا گیا، انہیں غازی قرار دیا گیا، ان کی رہائی کے لیے تن من دھن سے کام لینے کا عزم ظاہر کیا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مشال خان کو ”گناہگار“ ثابت کرکےاس ماوراۓ عدالت قتل  کوجائز ثابت کرنا چاہتے ہیں اورانکے قتل میں کسی بھی طرح حصہ لینے والوں کو انعام واکرام کے مستحق سمجھتے ہیں۔

اس قضیے کا ایک حیران کن پہلویہ ہے کہ مختلف مذہبی و سیاسی پارٹیوں کی قومی اور مقامی قیادت کے اختیار کردہ موقف اس مسئلے میں یکساں نہیں بلکہ متضاد تھے اور ہیں۔ مثلاً جماعت اسلامی کےامیر سراج الحق صاحب، جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان سمیت اکثر سیاسی جماعتوں کی قومی قیادت اور قومی تنظیمی ڈھانچے نے مشال خان کے قتل کی مذمت کی تھی لیکن ان کی مقامی قیادت اور تنظیمیں اس مسئلے پر لائن کی دوسری طرف کھڑی ہیں اور مشال خان کیس میں گرفتار یا سزا شدہ افراد کو بچانے اور رہا کروانے کے لیے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔ مگر المیہ تویہ ہے کہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی سمیت اکثر بڑی پارٹیوں کی قومی قیادت نے ابھی تک اپنی مقامی تنظیموں کی اس تناقص کا نوٹس لینے اور ان سے  لوگوں کے سامنے بازپرس کرنے سے اجتناب کیا ہوا ہے۔   ریاست اور ریاستی اداروں کی موجودگی میں کسی اور کو حق نہیں کہ وہ کسی کو ازخود گناہگار قرار دے اوراس پر سزا نافذ کردے۔۔ پھرسول اور فوجی نمائندوں پرمشتمل جے آئی ٹی کی جانب سے توہین رسالت کےالزام سے پاک قرار دینے کے بعد اصولاً تو مشال خان پر ایسا پپ الزام لگانامناسب ہی نہیں لیکن لوگ انہیں اب بھی معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

اپنی تقاریر میں مذہبی رہنماٶں اور مشال کیس میں رہا شدہ افراد نے لگی لپٹی رکھے بغیر اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر آئندہ بھی کوئی توہین رسالت کا مرتکب ہوا (یعنی اگرکسی پر توہین رسالت کا الزام لگ گیا)تو اسے بھی نہیں چھوڑا جاۓ گا۔ کیا یہ لاقانونیت، افراتفری اور فساد فی الارض کی دعوت نہیں ہے۔؟ مذہبی سیاسی گروہوں کے رہنماٶں کواحساس ہی نہیں ہے کہ وہ ان ملزمان کی پشت پناہی کرکے سماج اور ریاست کو کتنے بڑے خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔ اگر مشال خان سرکاری اداروں کی تحقیقات میں بے گناہ ثابت ہو چکا تھا تو اس کے خلاف وہی الزامات اب بھی دہرانے کا اس کے سوا کیا مطلب ہے کہ سرکاری ادارے اور عدالت چاہے کچھ بھی کہے یہ لوگ اپنی مرضی کرنے اورخود ہی مدعی منصف اور جلاد بن جانے کواپنا حق سمجھتے ہیں۔  اگر یہی ان کی سوچ ہے تواس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ کسی نظام، قانون اور آئین کو نہیں مانتے مگر کیا یہ بات یہ لوگ واضح طور پر کہہ سکتے ہیں؟

اگر عدالت کا چند ملزمان کی رہائی کا فیصلہ ٹھیک ہے تو اوروں کو سزا دینے کا فیصلہ بھی اس دلیل پر خوشی سے قبول کیا جانا چاہیے مگر یہاں تو باقی سزا یافتہ مجرموں کو بھی رہا کروانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ عدالت کی طرف سے رہا ہونے والے افراد کیا واقعی غازی اور ہیرو ہیں؟ ایک امکان یہ ہے کہ یہ اس قتل میں ملوث ہی نہیں تھے اور اس وجہ سے بری بھی کر دئے گئے۔ ایسی صورت میں ان کے ”مجاہد اور غازی“ ہونے کا سوال کیوں پیدا ہو اور انہیں یہ ”تمغہ“ کیوں دیا جاۓ؟ دوسرا امکان یہ ہے کہ یہ لوگ مشال خان کے قتل میں ملوث تھے۔ چنانچہ اگر یہ ان کے نزدیک کوئی قابل فخر کارنامہ تھا تو انہوں نے عدالت میں اس قتل میں ملوث ہونے کی تردید کیوں کی اور اس کا اقرار کیوں نہیں کیاتھا؟ تاہم حیران کن طور پر عدالت میں  مشال خان قتل میں تلویث سے انکار اور اپنی بے گناہی کے حلف اٹھانے اور اس کے لیے دلائل دینے کے بعد جب ان کو بری کیا گیا تو اپنے استقبال کے موقع پر انہوں نے عزم کیا کہ آئندہ بھی اگر کسی نے ایسی ”گستاخی“ کا ارتکاب کیا تو اس کے ساتھ بھی یہی کچھ کریں گے۔ ایک سوشل میٖڈیاتبصرہ نگار کے بقول ”قاتل وکیل کے ذریعے اپنی بے گناہی ثابت کر کے بری ہونے کے بعد اعلان کر رہا ہے کہ قاتل تو وہی تھا ۔ چنانچہ اب عدالت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرلینی چاہئے“۔ اگر ان لوگوں نے واقعی کوئ قابل فخر کارنامہ انجام دیا تھا تو پھر ان کو پھانسی یعنی شہادت پانے، قید سے بچانے اور ان کو رہا کروانےکے لیے دھوڑ دھوپ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ان کی رہائی پر خوشی کیا اس لیے ہو رہی ہے کہ انہوں نے”گستاخ مشال خان“ کو قتل کرکے ”کارنامہ“ بھی انجام دیا ہے اور عدالت سے بری بھی ہو گئے؟

جےآئی ٹی رپورٹ میں مشال خان کو توہین رسالت کے الزام سے کلیر کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود مذہبی سیاسی پارٹیوں کے مقامی رہنماء اسے اس کا قصوروار ثابت کرنے پر تلے ہوۓ ہیں۔ جماعت اسلامی تو صوبائی حکومت میں اتحادی ہے تو کیا اسے اپنی ہی حکومت کے پولیس کی تفتیش بھی قبول نہیں جس نے مشال خان کو بےگناہ اور ان کے قتل میں حصہ لینے والوں کو قصوروار ٹھہرایا تھا؟ جماعت اسلامی کے ساتھ دیگر مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کے لوگ بھی استقبال میں موجود تھے۔ جے یو آئی کے لوگ تو سٹیج بھی سنبھالے ہوۓ تھے۔ مگر انہوں نے استقبال کے لیے جماعت کی طرح پوسٹیں نہیں لگوائیں۔ یوں اگرچہ صرف جماعت اسلامی ہی اس استقبال کے موقع پرتنقید کا ہدف رہی مگر حقیقت یہ ہے تقریباً  تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں اور پیشہ ورانہ تنظیموں کے مقامی ذمہ داران یا کارکنان نے اس ”کارخیر“ میں حصہ لیا ہے۔

اور یہ اتفاق اور باہمی اشتراک صرف ملزمان کے پرجوش استقبال اور اس میں تقاریر تک محدودنہیں تھا بلکہ اس سے پہلے جب مشال خان قتل کو کیا گیا تو بھی جماعت اسلامی جمعیت علماء اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت تقریباً سب ہی پارٹیوں کی مقامی تنظیموں نے اپنی ملکی یا صوبائی ذمہ داران کی پالیسی کے برعکس نہ صرف مشال خان قتل کے ملزمان کی رہائی تک اکٹھے تحریک چلانے کا وعدہ کیا تھا بلکہ مشال خان کو ”توہین رسالت کا مرتکب اور مرتد“ ثابت کرنے کے لیے مشترکہ طور پر ایک پمپلٹ بھی شائع کیا تھا۔

 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *