میرے دوستِ خردمند!
سورج غروب ہو چکا ہے اور اندھیرا دھیرے دھیرے اپنا سیاہ چوغہ پھیلانے لگا ہے۔ فضا میں ایک ٹھہراؤ سا اتر آیا ہے؛ جیسے ہر شے نے کسی پراسرار خاموشی میں پناہ لے لی ہو۔
زندگی کے ہنگامہ خیز شور میں بھی جب انسان ذرا دیر ٹھہرتا ہے تو من میں کہیں ایک آہٹ جنم لیتی ہے؛ بہت مدھم سی، مگر اتنی گہری کہ ساری ہلچل تھم جاتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب خواہش اور سکوت ایک دوسرے کے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ ہمارا دل چاہتا ہے کہ پر ہوں…ہم اڑ سکیں، چھو سکیں اُس خواب کو جسے محبت اور آرزو کا نام دیا گیا تھا۔ مگر پھر ہوا کا ایک جھونکا آتا ہے اور وہ سارا منظر دھند میں تحلیل ہو جاتا ہے-
شاید شاعر کے لبوں پر اسی کیفیت میں یہ سوال مچل اٹھا تھا،
“They faded, and, forsooth! I wanted wings:
O folly! What is Love? and where is it?”
کیا محبت واقعی کوئی ٹھوس حقیقت ہے یا محض ایک لمحاتی خوشبو، جو چھوتے ہی ہوا میں بکھر جاتی ہے؟ ہم اُسے تھامنا چاہتے ہیں، مگر وہ ریت کی مانند انگلیوں سے پھسل جاتی ہے۔
جب انسان بازیچہ اطفال سی دنیا کے تماشے دیکھتا ہے، تعریف کے نقرئی شور کو سنتا ہے، تو ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب یہ سب اُسے مصنوعی لگنے لگتا ہے۔ شہرت کسی کاغذی پھول کی مانند ہوتی ہے: خوبصورت، مگر خوشبو سے خالی۔ کیٹس نے بھی اس مصنوعی چمک سے بیزار ہو کر کہا تھا،
“For I would not be dieted with praise,
A pet-lamb in a sentimental farce!”
اور واقعی شہرت ایک موم کی مورتی ہے؛ دھوپ ذرا سی تیز ہو تو پگھل جاتی ہے۔ تعریفوں کا ہجوم آخر کار اُسی تنہائی میں تحلیل ہو جاتا ہے جس سے بھاگ کر ہم دنیا کے شور میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔
میرے دوست، کیا تم نے کبھی ایسا لمحہ محسوس کیا ہے جب دل چاہتا ہے کہ ساری خواہشیں، ساری آوازیں، سارے وسوسے بس پگھل جائیں، ختم ہو جائیں، اور اندر ایک بے آواز خلا رہ جائے؟ ایک ایسا خلا جس میں سکون سانس لے سکے-
“O why did ye not melt, and leave my sense
Unhaunted quite of all but—nothingness?”
یہ “nothingness” دراصل فنا نہیں بلکہ سکون کا پہلا زینہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی دوڑ، اپنی کشمکش، اپنی خواہشوں کا بوجھ اتار دیتا ہے۔ اور پھر جو باقی بچتا ہے، وہ محض ایک خاموش روشنی ہوتی ہے؛ نرم، پرسکون اور سچی۔
کیٹس کی ایک اور خواہش پر غور کرو، جو نہ تو پرواز کی ہے، نہ تالیاں بجاتی بھیڑ کی- وہ تو بس دھوپ کی ایک نرم کرن چاہتا ہے، جو آہستہ آہستہ اُس کے وجود کو تھپک دے، اور وہ خاموشی سے سو جائے-
“Let me alone, and let the warm sun sing me into rest.”
میرے عزیز، شاید یہی زندگی کا سب سے گہرا فلسفہ ہے۔ انسان جتنی شدت سے دوڑتا ہے، اتنی ہی شدت سے کسی دن ٹھہرنے کی خواہش بھی کرتا ہے۔ محبت ہو یا شہرت، خواب ہوں یا خواہشیں، سب آخرکار ایک ساکت نقطے پر آ کر تھم جاتے ہیں۔ اُس لمحے نہ کوئی تعریف درکار ہوتی ہے، نہ کوئی معانقہ؛ صرف دھوپ کی ایک کرن، اور سکوت کا ایک سانس۔ کیونکہ انسان کو یہ سمجھ آ ہی جاتی ہے کہ جن خواہشوں کے پیچھے وہ ساری عمر دوڑتا رہا، وہ دراصل اُسی ایک ساکت منزل کی طرف لے جا رہی تھیں جسے وہ خود سے بہت دور سمجھتا تھا۔ عشق، جب سچا ہو، تو راستوں کو تلاش نہیں کرتا راستے خود عشق کے تابع ہو جاتے ہیں۔
“عشق شور انگیز را ہر جادہ در کوی تو برد
بر تلاش خود چہ مینا زد کہ رہ سوی تو برد”
اور ہاں۔۔۔جانتے ہو یہ خط میں نے اُس لمحے کے نام لکھا ہے جو تمہیں بھی کسی دن آ کر چھوئے گا۔ اُس لمحے تم جان لو گے کہ حقیقی سکون خواہشوں کے پورا ہونے میں نہیں بلکہ اُن کے آہستہ آہستہ پگھل جانے میں چھپا ہے۔
پُرسکون خاموشیوں کے ساتھ،

تمہارا اپنا۔۔۔
عبداللہ
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں