نقشوں کی سیاست/قاسم یعقوب

آپ نے مختلف ایجادات کا سنا ہوگا کہ فلاں چیز ایجاد ہوئی تو اس طرح کی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ یا انسانی سماج کو سمجھنے کے لیے، اسے طرح طرح کے معاشی، سیاسی اور جغرافیائی تقسمیوں سے گزارا جاتا ہے۔ان میں نقشوں کی اہمیت کوبہت کم زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ نقشہ یعنی map کی ’’تخلیق‘‘ حیران کن انسانی دریافت کہی جا سکتی ہے جس نے مختلف خطوں میں بند سماجوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور سمجھنے کا موقع دیا۔ بلکہ سمجھنے سے زیادہ ایک دوسرے پر حملوں کے ذریعے ’غاصبیت‘ کا ایک دور شروع ہوا۔
ایک منٹ کے سوچئیے اگر نقشہ نہ ہو تو ہم اپنے اردگرد کو کیسے تصور کر سکتے ہیں ۔ محض سفر کی یادداشت کے سہارے ۔ پوری دنیا کا تصور تو ناممکن ہے۔ ہوں ہم بہت محدود سوچ کے پابند ہو جائیں گے
انسان نے کب پہلا نقشہ بنایا اس حوالے سے کوئی واضح اور قطعی دلیل موجود نہیں مگر کہا جاتا ہے کہ دنیا کی مختلف تہذیبوں میں قدیم ترین نقشوں کے نشان ملے ہیں۔انسان نے اپنے جغرافئیے سے باہر نکل کر دیکھنا شروع کیا تو اسے لکیروں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش شروع کی۔ کہ فلاں سمت جائیں تو یہاں سے وہاں تک فلاں فلان چیزیں موجود ہیں۔ اس طرف یہ اور اُس طرف وہ وہ راستے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ظاہری بات ہے ، پہلے پہل یہ سب اندازے ہی ہوں گے۔نقشہ اصل میں ایک خاکہ ہے جو کسی زمین، خطے، شہر، یا علاقے کی سطح، حدود، مقام، قدرتی وسائل، سڑکوں اور دیگر اہم عناصر کو مخصوص پیمانے اور علامات کے ذریعے دکھاتا ہے تاکہ اسے سمجھنا اور استعمال کرنا آسان ہو۔دوسرے لفظوں میں دنیا کو اوپر سے دیکھنے کا عمل ہے۔ ہم لکیروں میں اپنے اردگرد کوجوڑ دیتے ہیں۔
طاقت کو نقشوں نے راستہ فراہم کیا کہ یہاں سے وہاں تک اتنا فاصلہ ہے۔ یہاں یہ مشکلات ہیں اور وہاں یہ۔ راستوں میں آساناں کتنی ہیں اور رکاوٹیں کتنی۔ یوں طاقت کے نشے میں ایک علاقے سے نکل کر دوسرے علاقوں پر حملہ کیا جاتا۔ باقاعدہ نقشے سامنے رکھ کر منصوبے بناتے۔کہ اس خطے تک کیسے پہنچا جائے۔
اگر ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو نقشوں کی ’’ایجاد‘‘ سے پہلے بیرونی حملہ آوروں کا تصور بہت کم تھا۔ صرف وہی حملہ آور دوسروں خطوں کی طرف سفر کرتے اور قبضہ کرتے جو معاش ، بھوک موسم یا رہائش کے ہاتھوں خطے سے نکلنے پر مجبور ہوتے۔ دوسروں خطوں میں حملہ کرتے اور وہیں بس جاتے۔ انھیں یہ بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کس طرف کو جا رہے ہیں اور کب تک پہنچیں گے۔ گویا یہ خانہ بدوش سفر ہوتا جو سنی سنائی معلومات پر محو سفر ہوتا۔۔ نقشوں نے سماج کو سمجھایا کہ اُس جگہ کیا ہے اور وہ جگہ اس جگہ سے مختلف کیوں ہے۔ فاصلے، راستے اور جغرافیائی رکاوٹوں کا مکمل حال نقشوں میں جمع ہونے لگا۔
گذشتہ دو اڑھائی ہزار برسوں میں نئی بستیوں کی تلاش سے زیادہ دوسروں علاقوں پر قبضہ کی تاریخ ملتی ہے جو نقشوں کی مدد سے ’’لالچ‘‘ کی طرح حکمرانوں کے دلوں میں ناچتی رہتی۔
نقشوں نے مخصوص علاقوں کو مرکزیت دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ دنیا کو گلوبل بنانے میں بھی نقشوں کا بنیادی کردار ہے۔
آج کی جدید دنیا ’’ میپنگ ‘‘کے بغیر چل ہی نہیں سکتی ۔ آج بھی طاقت کا بنیادی ہتھیار یہ نقشے ہیں۔ ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں داخل ہونے کے لیے نقشہ بنیادی راستہ فراہم کرتا ہے۔
مزے والی بات یہ ہے کہ انسانی دماغ کا بغیر نقشے کے دنیا کا مجموعی تصور قائم ہی نہیں ہو سکتا۔انسانی ذہن اپنے اردگرد کو جوڑ کے اس قدر دیکھ ہی نہیں سکتا جتنا نقشہ اسے دکھاتا ہے۔
گویا نقشہ وہ تخیل ہے جو انسانی دماغ میں ہیولا تھا جسے کاغذ یا لیکروں میں سامنے لا کے طرح طرح کے منصوبے بنائے جانے لگے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply