دنیا اور اُس کی حقیقتیں۔۔۔۔سلمان امیر

بشیر میرے سامنے بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ یار بشیر کیا سوچ رہے ہو ،سوچنا کیا ہے صاحب جی آپ نے سنا تو ہوگا کہ  نواز شریف کی ذوجہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ فوت ہو گئی ہیں اللہ ان کو جنت نصیب کرے۔ سارے میڈیا چینلوں پہ اخباروں میں اُن  کے مرنے  کی  خبریں آ ئیں  اور افسوس کیا گیا ۔  اور تو اور سنا ہے صاحب جی کہ نواز شریف کو اور مریم صاحبہ کو کچھ دنوں کے لئے رہا ئی بھی مل گئی ہے۔

ہاں تو بشیر اس میں حیران ہونے والی اور سوچنے والی کیا بات ہے۔ بات ہے نا صاحب جی کیا اس سے پہلے آج تک کسی کو رہائی  ملی ہے ۔وہ جو چاچا  طفیل ہے اس کا بیٹا شہباز جو آج سے کافی سال پہلے  قتل کے قیس میں جیل میں ہے پچھلے مہینے اس کی ماں کینسر کی  وجہ سے فوت ہو گئی تھی ۔تو شہباز کو ایک دن کے لئے بھی رہائی نہیں ملی تھی ۔سنا ہے کہ اُنہوں نے کسی آفیسر کو بھی کہا تھا۔ صاحب جی  اور بھی تو آئے دن بہت سے لوگ مرتے ہیں بہت سی مائیں اس دنیا سے رخصت ہوتی ہیں ان کا ذکر تو کبھی ان میڈیا چینلو ں پر نہیں آیا۔

بشیر لگتا ہے کی توں چلا ہو گیا مجھے یہ بتا بلیوں کے بچے اتنے مرتے ہیں   ان کے مرنے کی خبر سنی ہے توں نے کبھی ان کے لئے افسوس والے کلمات کسی کی زبان سے سنے ہیں تو نے، نہیں صاحب جی ، شیر کے مرنے کی خبریں بھی تم نے سنی ہوں گی اور   افسردگی والے کلمات بھی سنے ہوں گے۔ ۔ مجھے یہ بتاؤ   توم نے کبھی کسی کی زبان سے یہ سنا ہے کی آج رات یہ ستارا نہیں نکلا  سب یہی کہتے ہیں نا کہ آج رات چاند نہیں نکلا۔ یہ دنیا ہے بشیر اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔ ہم غریب لوگ ہیں ہم جیتے بھی بے نام ہیں اور مرتے بھی بے نام ہیں ۔ یہ امیر اور حکمران لوگ ہیں نا جو یہ اشراف ہیں یہ نایاب ہیں   ان کا سانس لینا بھی قیمتی ہے ۔  رہی بات محمود و ایاز کے ایک ہی صف میں کھڑے ہونے کی یہ  تو بس اللہ کے  ہاں اور اللہ تعالیٰ کے گھر مسجد میں ہے ۔یہ دنیا کے لوگ ان باتوں کو نہیں مانتے۔ یہاں  “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ” والی بات ہے۔

سلمان امین
سلمان امین
اقبال و فیض کا ہمسایہ ہونے کے ناطے ہلکا پھلکا ادب سے لگاؤ رکھتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *