• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مسلمان اور سائنس : عقل کی معطلی اور علم سے فاصلہ/محمد امین اسد

مسلمان اور سائنس : عقل کی معطلی اور علم سے فاصلہ/محمد امین اسد

انسانی تاریخ کی گزشتہ چند صدیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے جو انقلاب برپا کیا، وہ تمدن کی سمت بدل دینے والا واقعہ ہے۔ انسان نے خلا کی وسعتوں کو ناپا، مصنوعی ذہانت ایجاد کی، بایوٹیکنالوجی سے زندگی کی بناوٹ میں مداخلت کی، اور ایٹم سے لے کر کہکشاؤں تک علم کی روشنی پھیلا دی۔ مگر جب یہ سوال مسلمانوں پر آتا ہے تو منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ دو ارب کے قریب مسلمان (2020 میں عالمی مسلم آبادی تقریباً 2.0 بلین؛ دنیا کی آبادی کا 26٪)، ستاون آزاد ریاستیں، بے پناہ وسائل, لیکن دنیا کی علمی و تحقیقی دوڑ میں ہماری حیثیت اکثر تماشائی جیسی رہ گئی ہے۔ دنیا پیدا کرتی ہے، ہم زیادہ تر خریدتے ہیں؛ دنیا سوال اٹھاتی ہے، ہم جوابات ڈھونڈتے ہیں۔
یہ وہی قوم ہے جس نے کبھی فکر و فلسفے کی دنیا کو نئی راہیں دکھائیں۔ بغداد اور قرطبہ کی درسگاہوں سے نکلنے والے سائنسدانوں نے ارسطو، جالینوس اور بطلیموس کے نظریات کو عقل و تجربہ کی کسوٹی پر پرکھا اور ان سے آگے بڑھے۔ مگر آج مسلم دنیا میں وہی عقل دب چکی ہے جو کبھی سوال کرتی تھی۔ اب ہمارے بعض اداروں میں تجسس کو گستاخی، سوال کو بے ادبی اور تنقید کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں سوال مر جائے، وہاں علم پنپ نہیں سکتا۔
سائنس شک سے جنم لیتی ہے، اور تحقیق کا آغاز سوال سے ہوتا ہے۔ مگر ہم نے یقین کو شک سے الگ کر کے ایک ایسی فکری دیوار کھڑی کر لی ہے جس کے اس پار سوال کی کوئی گنجائش نہیں۔ علم وہیں پروان چڑھتا ہے جہاں عقل کو پرکھنے کا حق حاصل ہو۔ قرآن کی بارہا دعوت ہے کہ “کیا تم غور نہیں کرتے؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟” مگر ہم نے ان سوالات کو محض تلاوت کی زینت بنا دیا۔
تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC) میں آج 57 رکن ممالک شامل ہیں، مگر ان کی مجموعی معیشت کا عالمی جی ڈی پی میں حصہ 2023 میں تقریباً 8.5٪ رہا یعنی آبادی کے تناسب سے کہیں کم معاشی وزن۔ (2008 میں 5 فیصد تھا)
اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے پیمانے پر بھی تصویر ملے جلے رنگوں کی ہے۔ کل جامعات کی جامع عالمی گنتی متغیر ہے، مگر ایک معتبر درجہ بندی (ISC IWUR 2022) میں مسلم ممالک کی 30 ریاستوں کی 460 جامعات شامل ہوئیں یہ بتاتا ہے کہ نمایاں ادارے موجود ہیں، تاہم عالمی مسابقت میں پھیلاؤ محدود ہے۔
تحقیق اور ترقی (R&D) پر خرچ مسلم دنیا کی کمزوریوں میں سرِفہرست ہے۔ OIC ممالک نے اوسطاً 2018 میں اپنی جی ڈی پی کا فقط 0.6٪ R&D پر صرف کیا، جب کہ عالمی اوسط 1.7٪ اور ترقی یافتہ ملکوں میں یہ شرح کہیں بلند ہے۔ اسی طرح محققین کی کثافت (researchers per million) OIC میں اوسطاً 512 فی ملین تھی، جب کہ دنیا میں اوسط 1,235 اور ترقی یافتہ ملکوں میں 4,705 فی ملین رپورٹ ہوئی، یعنی انسانی تحقیقّی سرمائے میں نمایاں خلا برقرار ہے۔
شرحِ خواندگی کے باب میں مجموعی “اوسطِ OIC” ہر سال بدلتا ہے اور ممالک کے درمیان بہت فرق ہے؛ تاہم تازہ SESRIC و UNESCO پروفائلز بتاتے ہیں کہ کئی مسلم اکثریتی ممالک نے نوجوانوں کی خواندگی میں اچھا اضافہ دکھایا ہے، مگر بالغ آبادی میں عالمی اوسط تک پہنچنے کے لیے خاطر خواہ فاصلہ باقی ہے، اس لیے پرانی عمومی دعویٰ اب مستند نہیں سمجھا جاتا اور ملک بہ ملک تصویر دیکھنا زیادہ درست ہے۔
عالمی تحقیقی پیداوار میں حصے کے معاملے میں OIC کی کارکردگی گزشتہ برسوں میں بہتر ضرور ہوئی ہے، مگر وزن ابھی محدود ہے؛ دنیا میں 2023 میں سائنسی و فنی اشاعتوں کی کل تعداد تقریباً 3.3 ملین مقالے رہے ہیں مسابقت میں اب بھی چند ہی مسلم اکثریتی ممالک نسبتاً نمایاں دکھتے ہیں۔
پاکستان کی مثال اس صورتِ حال کو مزید واضح کرتی ہے۔ پاکستان کی R&D پر سرکاری و نجی ملا کر کل لاگت 2023 میں جی ڈی پی کا تقریباً 0.16٪ رہی، یعنی تحقیق میں سرمایہ کاری اب بھی نہایت کم ہے۔ دوسری طرف اشاعتوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا اور 2022 میں پاکستان کے سائنسی و تکنیکی جرائد میں شائع مقالات کی تعداد تقریباً 22,643 رہی، اس سے پہلے بہت کم رہی ہے۔
یہ تمام حقائق ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں، علم کے بغیر کوئی معاشرہ خودمختار نہیں ہو سکتا۔ ترقی صرف جذباتی نعروں سے نہیں آتی بلکہ ایک عقلی نظامِ تعلیم، تحقیقی ثقافت اور تنقیدی آزادی سے جنم لیتی ہے۔ جب تک مسلم دنیا علم کو قومی ترجیحِ اوّل نہیں بنائے گی، اس کی عبادت گاہیں آباد رہیں گی مگر اس کے ذہن ویران۔
دنیا اب طاقت کو علم کے ترازو میں تولتی ہے۔ معیشت، سیاست اور دفاع، تینوں کا توازن اسی کے ہاتھ میں ہے جو تحقیق کرتا ہے۔ تیل، فوج اور جغرافیہ وقتی عناصر ہیں؛ علم وہ سرمایہ ہے جو قوموں کو مستقل طاقت دیتا ہے۔ (OIC کا عالمی جی ڈی پی میں 8.5٪ حصہ اور R&D میں اوسط 0.6٪، یہی فرق ہمیں پالیسی کی سمت بتاتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا سوال کرنے، تجزیہ کرنے اور سیکھنے کی طرف لوٹے۔ یقین سے زیادہ اہم اب فہم ہے، اور عبادت سے زیادہ ضروری اب علم۔ اگر ہم نے اپنے ذہنوں کو آزاد نہ کیا تو آنے والا زمانہ ہمیں صرف بطور صارف، تماشائی اور مقلّد یاد رکھے گا۔ قوموں کی تقدیر کتابوں میں لکھی جاتی ہے، نعروں میں نہیں۔

julia rana solicitors london

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply