کلکتے سے ہمارا پیار غالب کے زمانے سے ہے
کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشین
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
نوشاد مومن کا ” مژگاں“ ملتا ہے تو کالکاتا بھی یاد آتا ہے اور چچا غالب بھی اور چچا غالب کا کلکتہ بھی۔پہلے
مژگاں کی مستی میں ڈوب لیں بعد میں چچا غالب کے میوہ ہائے تازہ اور بادہ ہائے ناب گوارا کا بھی ذکر کر لیں گے کہ نوشاد بھی اور مژگاں بھی میوہ ہائے تازہ ہی شمار ہوتے ہیں۔
نوشاد مومن ڈاکٹر بھی ہیں اور ادب کے بیمار اور سیاست کے بیمار دونوں ان کی برابر توجہ پاتے ہیں۔اس بات کا اظہار انہوں نے مضراب میں کس خوش سلیقگی سے کیا ہے کہ ” کثرت میں وحدت وطنِ عزیز ہندوستان کے امتیازات میں سے ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔یہی سبب ہے کہ یہاں کا مذہبی اور لسانی تنوع طویل عرصے سے ملک کی طاقت اور فخر کا باعث رہا ہے۔اسی سرزمین پر متعدد مذاہب پنپ رہے ہیں اور سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔تا ہم اس بے نظیر تنوع کی زیریں لہروں میں ایک خاموش تقسیم بھی رہ رہ کر ابھر آتی ہے جو کبھی مذہب کے چولے میں تو کبھی زبان کے لبادے میں بڑی سرعت سے متنازعہ شکل اختیار کر لیتی ہے“۔اب اس طرح ملک کی مجموعی صورت ِحال کے جائزے سے معاشرے کی بخوبی عکاسی ہو رہی ہے۔یہ اقتباس ظاہر کر رہا ہے کہ مدیر محض ایک ڈاکیا نہیں اس کی ایک اپنی رائے ہے اور وہ معروض کی درستی کو فرض اول سمجھتا ہے۔پرچے میں اگر ہر صفحے پر مدیر کے دستخط نہ ہوں تو اسے پرچہ نکالنے سے تائب ہو جانا چاہیے۔
مژگاں کا مضراب یعنی اداریہ ہو، شعور و ادراک یعنی مضامین کا حصہ ہو، فکر و آہنگ یعنی نظمیں ہوں، اسلوب و بیان یعنی افسانے ہوں، جمال و کمال یعنی غزلیں ہوں یا مطالعے کی میز سے اور آخری سلام ہو ایک ایک جگہ پر مدیر کی موجودگی اپنا پتہ دے رہی ہے۔
یوں تو ظفر اقبال، ڈاکٹر توقیر عالم، سعادت سعید، مبین مرزا، محمد حمید شاہد، ڈاکٹر غلام شبیر رانا، ڈاکٹر اجے مالویہ، ف س اعجاز، ڈاکٹر مظفر احمد پرے، اعتبار ساجد، خورشید عالم انصاری اور برادرم آنجہانی ستیہ پال آنند کے علاوہ بہت سارے اہم ادبا نے اس شمارے کو وقیع بنایا ہے مگر خدا لگتی کہیں تو غالب اور عظیم آباد از سرور الہدی نے تو ہمیں اپنی جگہ سے ہلنے ہی نہیں دیا۔
بیدل کا ذکر ہو، عظیم آباد کا بیان ہو تو کون کافر کسی اور جانب دیکھے۔
اے خوش آن جود کہ از خجلت ِوضع ِسائل
لب بہ اظہار نیارند و بایما بخشند
جسے چچا غالب نے یوں بیان کیا
بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس میں نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
در جستجوئے ما نکشی زحمت ِسراغ
جائے رسیدہ ایم کہ عنقا نمی رسد
یہی مضمون غالب نے مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا میں باندھا ہے۔
اگرچہ اس مضمون میں غالب کے عظیم آباد کے قیام کے دوران کی تفصیلات نہیں ہیں مگر فاضل مضمون نگار نے بنیادی معلومات مہیا کر دی ہیں۔پٹنہ کا پرانا نام پاٹلی پترا تھا اور مغل دور میں عظیم آباد ہوا۔یہاں چار دریا گرتے ہیں اسی وجہ سے اس کا نام پتن یا پٹنہ ہو گیا(ا۔ ج )
غالب نے اگر کسی شاعر کو مانا ہے تو وہ بیدل ہی ہے اس نے اپنے زمانے کے کسی شاعر کو اہم سمجھا ہی نہیں۔کیا ذوق اور کیا اس سے پہلے کا قتیل۔اب مرزا قتیل کی بھی سن لیجیے کہ مرزا قتیل اپنا پنجابی بھرا ( بھائی) تھا اور سکھ تھا اور بٹالہ کا رہنے والا تھا۔ کا اصل نام دیوانی سنگھ تھا اور باپ کا نام درگاہی مل تھا۔قسمت کہیے کہ ان کی ملاقات مرزا باقر شہید اصفہانی سے ہوئی۔ دیوانی سنگھ سے وہ مرزا ہوئے، شاعر ہوئے، قتیل ہوئے اور شیعہ ہوئے۔کیا زمانہ تھا کہ شمال سے آنے والے حملہ آوروں کے ساتھ ساتھ اصفہانی جیسے لوگ ہندوستان آئے جنہوں نے یہاں ایک الگ تہذیب کی بنیاد رکھی جس کا جنگ اور مار دھاڑ سے کوئی واسطہ نہ تھا۔قتیل نے قبول اسلام کے بعد عراق اور ایران کے سفر کیے اور واپس آ کر لکھنو کو ٹھکانہ بنایا۔قتیل نے عام جغرافیہ کی بجائے سٹیفانو پیلو کے مطابق ہندوستان کا لسانی جغرافیہ تبدیل کیا۔ان کی بہت سی کتابوں میں ایک کتاب شوقیہ ہے جو ان کے شیعہ پس منظر سے جڑی ہوئی ہے۔چچا غالب ہزار خرابی کے بعد کلکتے سے واپس آئے تو لے پالک بیٹے کی موت منتظر تھی۔ کلکتہ سے غالب کے ناکام لوٹنے کی خبر ہر طرف پھیل گئی اور سا ہو کار اپنی کاروائیاں کر نے لگے جن کی پاداش میں غالب کو گرفتار کر لیے گئے۔
یوں تو ہمارا غالب سے کیا مقابلہ و موازنہ کہ ہم ظفر اقبال تھوڑی ہیں مگر ایک لحاظ سے ہم غالب سے کہیں خوش قسمت ہیں۔چچا بیچارہ کلکتے سے خالی ہاتھ آیا تھا اور نازنینانِ کلکتہ کی یادیں ہی سوغات لے کر آیا تھا اور ہمیں بلا تعطل ہر تین ماہ بعد اس شہر سے مژگاں کا
تحفہ موصول ہوتا ہے۔پرچہ دیکھتے ہی ہم غالب کی نازنینان کو بھول جاتے ہیں۔ کلکتے کی اور بھی بہت ساری سوغاتیں ہیں جن کا چچا غالب ذکر نہیں کرتے۔اب ہاؤڑا پل، دریائے ہگلی اور درگا پوجا کا ذکر نہ کر کے چچا نے زیادتی کی ہے۔پھر بنگالی ثقافت کو بھی نظرانداز کر دیا۔چچا میوہ ہائے تازہ شیریں اور باہ ہائے ناب گوارا پر ہی لٹو ہو گیا۔اب فی زمانہ کس کو معلوم ہو کہ چچا نے
دہلی سے کلکتہ کا ایک ہزار میل کا سفر یکے پر سترہ ماہ میں طے کیا۔اب جدید ٹیکنولوجی نے برقی ترسیل کے ذریعے پرچہ پلک جھپکنے میں لاہور پہنچا دیا۔ٹیکنولوجی بھی آصف برخیاہ ہی تو ہے۔
نوشاد سے محبت اپنی جگہ مگر ہم کلکتہ والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ بھئی قتیل عظیم شاعر سہی، ہمارا پنجابی بھرا سہی پر جیسے یگانہ سے لاہور والوں نے اچھا نہیں کیا تھا ایسا ہی سلوک غالب سے کلکتہ والوں کا تھا۔نہ چچا کو پنشن ملی اور نہ کلکتہ میں قتیل کا سا مقام۔
چچا غالب اور نوشاد مومن نے مژگاں کی وساطت سے کیسے کیسے لوگوں کا ذکر چِھڑوا دیا سچ مچ
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
(ہمارے دوست ستیہ پال آنند کا ذکر رہ گیا وہ پھر کبھی)
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں