کتاب بینی سے یوٹیوب بینی تک، آگے کیا ہو گا؟ ۔۔۔ پرویز بزدار

غیر روایتی طریقوں سے پیسے کمانے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ پرانے زمانے میں لوگ کتاب لکھ کر پیسہ کماتے تھے اور پھر اس کی جگہ آن لائن کانٹینٹس نے لے لی  اور یوں لوگ کتاب لکھنے کی بجائے ویب سائٹ بنانے لگے اور اس سے کمائی ہوتی رہی۔ اس سے اگلے مرحلے میں لوگ آن لائن چیزیں پڑھنے سے بھی بیزار ہو گئے تو بات آڈیو سننے پر آگئی۔ اب جب لوگوں کو تیز انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے تو کوئی آڈیو بھی نہیں سننا چاہتا اور اب بات صرف تصاویر اور ویڈیوز تک رہ گئی۔

امریکہ کے کے دستیاب اعداوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت غیر روایتی طریقوں سے سب سے زیادہ کمائی یوٹیوب پر کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد ہاتھ سے چیزیں بنا کر بیچنے کی ویب سائٹ اور پھر انسٹاگرام ہے۔ اعدادوشمار سے دیکھا جا سکتا ہے کہ ورڈپریس یعنی ویب سائٹس کی کمائی میں ایک ہی سال میں اکیس فی صد کمی ہوئی۔ گیموں کی ویڈیوز لائیو براڈکاسٹ کرنے کی ویب سائٹ ٹوئچ سے لوگوں کی کمائی میں اسی سال تیس فی صد اضافہ ہوا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ویڈیوز کے بعد کس طرح کے کانٹینٹس کمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟

کیا آپ نے کبھی آگمینٹڈ رئیلٹی (اے آر) اور ورچوئل رئیلٹی (وی آر ) کا نام سنا؟ اگلا دور انہی کا ہے۔ ابھی یہ دونوں کسی حد تک نابالغ فیز میں ہیں اس لیے مارکیٹ میں کم دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ ان کے نام ملتے جلتے ہیں مگر یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

آگمینٹڈرئیلٹی میں یہ ہوتا ہے کہ آپ جس جگہ پر پہلے سے موجود ہیں یعنی جو آپ کی رئیلٹی ہے اس میں آپ چیزیں اگمینٹ کر سکتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں چیزوں کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے ایک نیا گھر بنایا اس میں کمرے ابھی خالی ہیں تو آگمینٹڈ رئیلیٹی کے ذریعے آپ یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ کونسی چیز کہاں رکھیں۔ گھر میں کس کلرکے صوفے زیادہ خوبصورت ہونگے اور صوفوں کا سائز کیا ہو وغیرہ وغیرہ۔ ایسی بہت سے فری اپلیکیشنز گوگل پلے سٹور اور ایپل ایپ سٹور میں موجود ہیں جو آپ اپنے موبائل فون میں انسٹال کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک فری اپلیکیشن آئی کیا ہے۔

اب اگر ورچوئل رئیلٹی کی بات کی جائے تو یہ مکمل طور پر مختلف ہے۔ اس میں چیزیں آپ کی رئیلٹی میں شامل کرنے کی بجائے آپ کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ آپ کہیں اور ہیں۔ اس کےلیے کچھ ڈیوائسز لازمی ہیں کیونکہ اس کے بغیر آپ یہ محسوس نہیں کر سکتے۔ اس کےکام کرنے کا طریقہ اس تحریر میں بتانا تو ممکن نہیں مگر سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس میں استعمال ہونے والی ویڈیوز یا تصاویر لازمی تین سو ساٹھ ڈگری کی (شش جہتی) ہوتی ہیں۔ آپ جیسے اپنا چہرہ گھماتے ہیں تو آپ کےسر پر لگا ہیڈ سیٹ تصویر کو اس طرح گھماتا جاتا ہے جس سے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ بالکل اسی سین کے اندر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہاتھوں کے لیے بھی ایسے ڈیوائس ملتے ہیں کہ ان کے ساتھ جب آپ کسی نرم چیز کو ٹچ کریں گے تو آپ کو ویسا احساس آئے گا اور جیسے آپ کسی سخت چیز کو ہاتھ لگائیں تو آپ اس کو بھی محسوس کر سکیں گے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اگلا دور اسی ورچوئل رئیلٹی کا ہے۔ جس طرح اب ہر کسی کے پاس سمارٹ فونز ہیں اور وہ ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں کچھ عرصے بعد ہر ایک کے پاس ورچوئل رئیلٹی کےلیے درکار ڈیوائسز ہونگی۔ اُس وقت جو سب سے زیادہ محسوس ہونی والی کنٹینٹس بنائے گا وہی سب سے زیادہ کامیاب ہوگا۔ اگر آپ ورچوئل رئیلٹی کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے کم خرچ بالانشین آپشن گوگل کارڈ بورڈ ہے۔اس میں آپ اپنا موبائل رکھ کر ورچوئل رئیلٹی کے مزے لے سکتے ہیں۔ اس کی قیمت صرف چھے ڈالر ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

ڈاکٹر پرویز بزدار
مضمون نگار نے کائسٹ جنوبی کوریا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کر رکھی ہے اور اب جنوبی کوریا میں مقیم ہیں۔ وہ موبائل اور کمپیوٹر کے پروسیسرز بنانے میں آرٹی فیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کو استعمال کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply