کیا عجب حسن اتفاق ہے کہ پاکستانی شدت پسند مذہبی تنظیم جماعت اسلامی، صیہونی شدت پسندوں اور اسرائیل کو آزاد فلسطینی ریاست کا قیام قابل قبول نہیں ہے۔ امریکہ بھر پور انداز میں ان کی آواز کے ساتھ آواز ملا رہا ہے۔ اسرائیل کے شدت پسند صیہونی ، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف بڑھتے ہوئے ہر قدم کو بزور طاقت مٹا دینا چاہتے ہیں۔فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے راہنما اور فلسطین آتھارٹی کے صدر غلام عباس سمیت آٹھ ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، انڈونیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور قطر کے علاوہ دنیا کے اکثر ممالک دو ریاستی حل پر زور دے رہے ہیں۔ ان ممالک کے مطابق آزاد فلسطین ریاست کا قیام مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا ضامن ہو گا۔ جبکہ پاکستان جماعت اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن دو ریاستی حل کے شدید مخالف ہیں اوروہ صرف اپنی نظریاتی ساتھی حماس کو فلسطین کی واحد نمائیدہ سمجھتے ہیں۔
فلسطین لبریشن آرگنائزیشن، پی ایل او، نے ساٹھ کی دہائی میں یاسر عرفات کی زیرقیادت آزادی فلسطین کے لئے مسلح مزاحمت شروع کی تھی۔ پی ایل او کی مزاحمتی تحریک کو مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں پناہ گزین فلسطینوں کی بھر پور حمائت حاصل رہی ہے۔ عرب ممالک کے علاوہ متعد مسلم ممالک اور دنیا بھر کے حریت پسند عوام نے پی ایل او کا ہر سطح پر بھر پور ساتھ دیا۔ ۱۹۶۷ میں چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے بہت بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس جنگ میں اسرائیلی کامیابی نے عرب ممالک کی عسکری طاقت کا پول کھول دیا تھا ۔ مگر ۱۹۷۳ کی مصر اسرائیل جنگ میں مصر کی کامیابی نے عربوں کو نیا حوصلہ دیا۔ یاد رہے امریکہ اور مغربی طاقتوں نے سلامتی کے نام پر اسرائیل کی عسکری طاقت کو ناقابل شکست بنانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے۔
مصر نے ۱۹۷۹ میں اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرکے اسرائیل کے زیر قبضہ اپنے علاقوں کو واپس لے لیا تھا۔ اس کے ساتھ مصر نے پی ایل او کی مزاحمتی تحریک کی حمائت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ اسرائیل کی روز افزوں بڑھتی عسکری قوت کے سامنے کوئی عرب ملک کھڑا ہونے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔ عرب ممالک نے رفتہ رفتہ فلسطینی مزاحمتی تحریک کی عملی حمائت سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا۔ یاسر عرفات اور پی ایل او کے لئےعرب ممالک کی زمین روز بروز تنگ ہوتی جا رہی تھی۔
بالآخر ستمبر ۱۹۹۳ کو پی ایل او اور اسرائیل کے درمیان اوسلو معاہدہ واشنگٹن میں دستخظ ہوا۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے صدر یاسر عرفات اور اسرائیل کے وزیر اعظم یضحاق رابن کے درمیان اس معاہدہ کے تحت پی ایل او نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اسرائیل نے پی ایل او کو فلسطینی عوام کی نمائیدہ تسلیم کر لیا تھا۔ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے پی ایل او نے مسلح مزاحمت ترک کرکے مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اوسلو معاہدہ کے تسلسل میں ۱۹۹۴کے قاہرہ معاہدے کے مطابق فلسطین آتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ قاہرہ معاہدہ پر بھی یاسر عرفات اور یضحاق رابن نے دستخط کیے تھے۔ مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل فلسطین آتھارٹی کا قیام ایک آزاد و خودمختار فلسطین ریاستی حل کی طرف عملی ٹھوس قدم گردانا جاتا ہے۔ حماس اور فلسطین اسلامی جہاد جیسی تنظیموں نے اس معاہدہ کی مخالفت شروع کر دی تھی۔ دوسری طرف اسرائیل میں صیہونی شدت پسندوں نے اس معاہدہ پر شدید رد عمل ظاہرہ کیا تھا۔ اوسلو معاہدہ پر دستخط کرنے والے یضحاق رابن کو صیہونی شدت پسندوں نے ۱۹۹۵ میں قتل کر دیا ۔ یاد رہے حماس کا ظہور بھی شدت پسند اسلامی تحریک اخوان ا لمسلمین سے منسلک ایک چیرٹی اسلامی تنظیم سے ۱۹۸۷ میں ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر دو ریاستی حل کی حمائت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا ہے۔ دنیا کے ۱۴۶ سے زیادہ ممالک فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ستمبر ۲۰۲۵ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اکثریت رائے سے ایک قراداد میں دو ریاستی حل پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گترس نے دو ریاستی حل کو مشرق وسطیٰ میں امن اور سیکورٹی کا ضامن قرار دیا ہے۔
غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ اسی ہزار سے زیادہ نہتے انسان زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں شدید زخمی ہیں۔ مگر پاکستان کے شدت پسند عناصر کو فلسطینی عوام پر مسلسل ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم اور نہتے عوام کے بے رحمانہ قتل عام کی قطعا پرواہ نہیں ہے۔ انہیں مذہبی نعرہ بازی کے پردے میں اپنے مذموم عزائم پورے کرنے کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست فلسطینی عوام کے لئے محفوظ آماجگاہ بنے گی اور نہتے عوام کو اسرائیلی مطالم سے نجات مل سکے گی۔ مگر اسرائیل کی حکومت، صیہونی شدت پسندوں، امریکہ اور اسکے حواریوں ، پاکستان میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے شدت پسند عناصرکے لئے فلسطین کی آزاد ریاست کا مطالبہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں