لاہور کا بغیر میک اپ چہرہ /اطہر شریف

لاہور کراچی کا فرق سامنے ہے، آپکو پنجاب کی سیر کرانا چاہتی ہوں، آپ مجھے نوابشاہ اور گڑھی خدا بخش دکھائیں: عظمیٰ بخاری کی آج پی پی پر تنقید لیکن عظمیٰ صاحبہ لاہور کا میک  اپ اتاا کر اصل لاہور دیکھیں  تو بغیر میک  اپ کے لاہور کی شکل بہت بھیانک ہیے،صرف   پوش علاقے اصل لاہور نہیں، لاہور کے وہ علاقے جو اندرون میں ہیں ان کی بھی سیر کروائیں۔
شہر کی11مرکزی شاہراہوں پر سینکڑوں پوٹ ہولز ناصرف ٹریفک کی روانی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھا رہے ہیں۔ لاہوراپنی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پرشہریوں کیلئے عذاب بن گیا ہے ۔ صرف11مرکزی شاہراہوں پر پانچ سو سے زائد پوٹ ہولز موجود ہیں جو نا صرف ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ہیں بلکہ حادثات کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ شہر کی سب سے اہم شاہراہ فیروز پور روڈ جومصطفیٰ آباد سے قرطبہ چوک تک 32.89 کلومیٹر طویل ہے یہ تین سو دس مقامات پر سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ کینال روڈ جو واہگہ سے ٹھوکر نیاز بیگ تک 34.18 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے ، ایک سو بیس مقامات پر خستہ حالی کا شکار ہے ۔جی ٹی روڈ بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔ کواپ سٹور سے واہگہ تک 21.76 کلومیٹر کے حصے پر ترانوے مقامات پر پوٹ ہولز رپورٹ ہوئے ہیں۔ مال روڈ جو شہر کی تاریخی اور مرکزی شاہراہ ہے ، لوئر مال سے شامی روڈ تک صرف 7.46 کلومیٹر کے حصے پر بھی نو مقامات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔مولانا شوکت علی روڈ کریم بلاک راؤنڈ اباؤٹ سے پیکو موڑ تک 8.43 کلومیٹر طویل ہے ،یہاں تراسی پوٹ ہولز موجود ہیں۔ ملتان روڈ (این-5)کوٹ اسد اللہ خان مانگا منڈی سے چوبرجی تک 41.43 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے ، ایک سو تریسٹھ مقامات پر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ راوی روڈ جو بھاٹی چوک سے شاہدرہ تک 8.27 کلومیٹر ہے ، اٹھاون مقامات پر پوٹ ہولز اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔یہ صورتحال شہریوں کیلئے دوہری اذیت بن چکی ہے۔ ایک طرف ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہے ، تو دوسری طرف ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے گاڑیوں کو نقصان اور حادثات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ سڑکوں کی خستہ حالی ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ کرتی ہے کیونکہ گاڑیوں کو بار بار بریک لگانے اور رکنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے جس سے دھواں اور شور بڑھ جاتا ہے ۔
مریم نواز شریف کا حلقہ لاہور میں 159 اس کا علاقہ حاجی پارک میں بدبو اور گندگی کا راج ہے جگہ جگہ پانی کوڑے کے ڈھیر اگلتے گٹر اور ٹوٹی ہوئی گلیاں اور سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اہل علاقہ مسلسل شکایت کرتے ہیں اس کے باوجود مسائل حل نہیں ہو رہے اور بارشوں کے بعد یہ دریا کا منظر پیش کرتا ہے پلاٹ کوڑے کے ڈھیروں سے بھرے ہوئے ہیں اسی طرح وفاقی کالونی میں گندگی کے ڈھیر ہیں اور گندگی کی وجہ سے وہاں پہ گزرنا مشکل  ہورہا،اس کی بدبو مسلسل اہل  علاقہ کو پریشان کیے ہوئے ہے، بار بار شکایت کے باوجود مسائل حل نہیں ہو رہے
گزشتہ چند سالوں سے زندہ دلان لاہور کی تاریخی عمارتیں اپنی خوبصورتی اور تابناکی کھو رہی ہیں۔ ان میں سر فہرست بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ، مینار پاکستان ہیں۔ وجہ سرعت سے بڑھتی ہوئی آلودگی اورسموگ ہے۔عالمی ماحولیاتی ادارے آئی کیو ائیر کی فضائی کوالٹی کی درجہ بندی کے مطابق لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر بنتا جا رہا ہے۔ شکاگو یونیورسٹی کی تحقیق کے انکشافات انتہائی چشم کشا ہیں کہ لاہوریوں کی عمر ہر سال 7سال کی شرح سے کم ہو رہی ہے جس ماحول میں وہ سانس لے رہے ہیں ۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت لاہور میں جس قدر سموگ اور فضائی آلودگی ہے، یہ روزانہ 30سگریٹ پینے سے انسانی جسم کو پہنچنے والے نقصان کے برابر نقصان دہ ہے۔

julia rana solicitors

لاہور کے باسی خود یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ “لاہور اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔‘‘ جان لیوا سموگ میں لاہوری کھل کر سانس نہیں لے سکتے، دیکھ نہیں سکتے، سونگھ نہیں سکتے۔لاہور کی سڑکوں پر بائیک چلانے والے جگہ جگہ رک کر آنکھیں دھوتے ہیں اور بعد میں آنکھوں میں اک عجیب سی جلن محسوس ہوتی ہے۔سموگ کے دوران چھتوں یا روف ٹاپ پر رکھے گئے نباتات سب سے ذیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ پہلے یہ مسائل حل کریں  اور لاہور کا بغیر میک  اپ شہر کا دورہ کر کے اصل صورتحال سے آگاہ ہوں۔
SOURCE :ROZNAMA DUNYA 23 SEP 2025

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply