• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان-سعودی دفاعی معاہدہ: ایک نئی دفاعی شراکت کا آغاز/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

پاکستان-سعودی دفاعی معاہدہ: ایک نئی دفاعی شراکت کا آغاز/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

ریاض کے عظیم الشان ایوانوں میں، جہاں تاریخ کی گونج سنائی دیتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور ولی عہد محمد بن سلمان نے 17 ستمبر 2025 کو ہاتھ ملایا۔ یہ کوئی عام معاہدہ نہیں تھا—یہ اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ تھا، جو پاکستان کو خطے کے اہم کھلاڑی سے عالمی طاقت کے طور پر ابھار رہا ہے۔ گزشتہ موسم بہار میں اسلام آباد کی پرسکون مارگلہ پہاڑیوں میں ایک بزرگ سفارت کار سے ملاقات یاد آتی ہے۔ انہوں نے چائے کے کپ پر کہا تھا، “پاکستان ہمیشہ سے ایک پل رہا ہے، لیکن اب یہ ایک مضبوط قلعہ بننے جا رہا ہے۔” آج وہ الفاظ حقیقت بن چکے ہیں۔

یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پرانے برادرانہ تعلقات کا نیا روپ ہے۔ 1982 کے پروٹوکول سے شروع ہونے والی یہ شراکت اب ایک مضبوط دفاعی ڈھانچے میں ڈھل گئی ہے۔ ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔ مشترکہ فوجی آپریشنز، خفیہ معلومات کا تبادلہ، اور فوری ردعمل کے نظام اس کا حصہ ہیں۔ سعودی عرب کے لیے، جو یمن کے حوثیوں اور ایران کے پراکسیوں سے خطرات کا شکار ہے، پاکستان کی جنگ آزمودہ فوج ایک مضبوط سہارا ہے۔ بدلے میں، سعودی عرب کی معاشی طاقت پاکستان کی معیشت کو سہارا دے گی، جو مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں استحکام کی طرف گامزن ہے۔

یہ معاہدہ معاشی اور دفاعی شعبوں میں انقلاب لا رہا ہے۔ سعودی سرمایہ کاری سے چین-پاکستان اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کو تقویت ملے گی، جس سے سالانہ جی ڈی پی کی شرح نمو میں 2-3 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ دفاعی پیداوار بڑھے گی، جیسے کہ نیول ٹیکنالوجی اور ڈرونز کی تیاری۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت خلیج تک غیرمستقیم تحفظ فراہم کرتی ہے، جو ایران کے عزائم کو روکنے میں مددگار ہے۔ بحیرہ احمر کے تنازعات میں الجھنے کا خطرہ ہے، مگر پاک فوج کی مہارت اسے حکمت سے سنبھال سکتی ہے۔

یہ معاہدہ جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی ڈھانچے کو بدل رہا ہے۔ پاکستان اب بھارت کے کواڈ اتحاد اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک اہم طاقت ہے۔ لائن آف کنٹرول پر کوئی جارحیت اب سعودی حمایت کو دعوت دے گی، جو استحکام کا باعث بنے گی۔ مشرق وسطیٰ میں یہ ایک کثیر قطبی سیکیورٹی نظام کی طرف اشارہ ہے۔ ناقدین جوہری پھیلاؤ کے خدشات اٹھاتے ہیں، لیکن یہ معاہدہ روایتی تعاون پر مرکوز ہے، جیسا کہ اگست 2025 کی مشترکہ فوجی مشقوں سے ظاہر ہے۔

240 ملین سے زائد آبادی، دنیا کی چھٹی بڑی فوج، اور جوہری صلاحیت کے ساتھ، پاکستان ایک اہم عالمی طاقت ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت اسے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان پل بناتی ہے۔ بھارت کی اندرونی توجہ کے برعکس، پاکستان کی سفارت کاری اسے عالمی مقابلے میں خودمختاری دیتی ہے۔ حالیہ PL-15 میزائل کی خریداری اس کی فضائی برتری کو مضبوط کرتی ہے۔ ایک تجزیہ کار نے کہا، “پاکستان کی ترقی سفارت کاری اور مضبوط دفاع کا امتزاج ہے۔”

وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے معاشی استحکام اور سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ 10,000 کلومیٹر موٹرویز اور 11,500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار اس کی مثالیں ہیں۔ 2024 میں سفارتی کوششوں نے پاکستان کا عالمی امیج بہتر کیا۔ یہ معاہدہ ان کی بڑی کامیابی ہے، جو “تجارت کو تنازعات پر ترجیح” دینے کا ثبوت ہے۔

پاک فوج نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سیکیورٹی میں بھی نمایاں ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں سب سے بڑا حصہ دار ہونے کے ناطے، اس نے فاٹا آپریشنز سے لے کر سعودی تربیتی پروگراموں تک اپنی مہارت دکھائی۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں، فوج نے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کو مضبوط کیا۔

تیل کی قیمتوں کی اتار چڑھاؤ اور ضرورت سے زیادہ انحصار خطرات ہیں، لیکن مسلم لیگ (ن) کی معاشی اصلاحات اور فوج کی چوکسی ان سے نمٹ سکتی ہے۔ بھارت جہاں تنہائی کا شکار ہے، پاکستان جامع اتحاد بنا رہا ہے۔ سعودی عرب کو پاکستان کی قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ پاکستان ترکی کے ساتھ مل کر اسلامی سیکیورٹی بلاک بنا سکتا ہے۔ سعودی ثالثی سے کشمیر مذاکرات ممکن ہیں۔

julia rana solicitors

شہباز شریف کے الفاظ میں: “ہم صرف سرحدیں نہیں بچا رہے، ہم مستقبل تعمیر کر رہے ہیں۔” یہ اتحاد پاکستان کو نئی بلندیوں کی طرف لے جا رہا ہے، جہاں خوشحالی اور سیکیورٹی ایک ساتھ چلتے ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply