بھیرہ سے طلحہ نامی ایک طالبِ علم نے سوال کیا ہے: ’’ایک قولِ واصفؒ ہے: اپنا دل زندہ کرو، ہر طرف زندگی نظر آئے گی۔ سوال یہ ہے کہ دل زندہ کس طرح ہوتا ہے، اسے زندہ کرنے کا طریقہ کیا ہے؟‘‘۔ بہت ہی کیف آور سوال تھا۔ لازم ہوا کہ اس پر کچھ قلم فرسائی کی جائے۔ چنانچہ وعدہ کیا کہ اس پر ضرور تفصیل سے لکھیں گے اور اپنے قارئین کو بھی ہمراہِ کیفِ خیال کریں گے۔
سب سے پہلے جاننا ضروری ہے کہ دلِ مردہ کیا ہے، تب ہی خانہِ شعور میں دلِ زندہ کا مفہوم آشکار ہو گا۔ وہ دل مردہ ہے جو غفلت میں ہے۔ غفلت کیا ہے؟ … غفلت اپنے ہمراہ یا سربراہ سے غافل ہونا ہے۔ غافل دل وہ ہے جو لہو و لعب میں ہو۔ ایک ذی دانش رفیقِ کار ذیشان دانش نے ایک بار پوچھا کہ نماز میں خشوع کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب برجستہ چلا آیا: لغو سے اعراض کرنے سے؟ پوچھا: دلیل؟ بتایا: قرآن … ’’بے شک مومنین فلاح پا گئے، وہ جنہوں نے نماز میں خشوع اختیار کیا اور لغو سے اعراض کیا‘‘ سو معلوم ہوا کہ دل کی زندگی لذاتِ فانی سے اعراض کرنے میں ہے۔ لذاتِ دنیا میں ڈوبا ہوا دل اس قدر غافل ہوتا کہ وہ اپنے سامنے ڈوبتے ہوئے کو بچانے کے لیے سرِ ساحل نکل نہیں پاتا … حالیہ بلائے سیلاب اور اس سے پہلے متعدد سیلابِ بلا ہمارے سامنے ہیں۔ لوگ اپنے سوشل میڈیا پر سٹیٹس لگانے میں مصروف رہتے ہیں، لبِ دریا کوئی نہیں پہنچتا۔ حکومت تو شاید ازلی طور پر حکمت سے محروم ہوتی ہے، یہاں سمجھ بوجھ رکھنے والے بھی خدمت کو ذاتی اشتہار بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم پیغاماتِ پند و نصائح ایک دوسرے کو ارسال کر کے گویا تبلیغ کے فرائض سے سبک دوش ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد سبک سر ہو جاتے ہیں۔ اس کارِ تبلیغ سے فارغ ہونے کے بعد ہم پہلے کی طرح اپنی مشغولیات میں دوبارہ سے مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہمارا مجموعہِ مشغولیات محض شغل میلہ ہے۔ جو نصیحت ہم دوسروں کے لیے روا سمجھتے ہیں، اسے خود پر عائد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اپنی اصلاح، اپنے تزکیہِ نفس کی تشویش اسے لاحق ہوتی جو سینے میں دلِ زندہ رکھتا ہے۔ دلِ مردہ کو محض شوبز ایسی پذیرائی کافی ہوتی ہے۔
قرآن کی یہ آیات بہت فکر انگیز ہیں … ہم اپنے اسلاف کو دیکھیں اور پھر خود کو، تو ایسے معلوم ہوتا ہے، گویا یہ آیات ہمیں مخاطب کر رہی ہیں: ’’پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی…‘‘ اور پھر غفلت کے باب میں یہ آیت کیسی برمحل ہے، گویا ہماری نشان دہی کر رہی ہے: ’’اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ
زندگانی ہے‘‘۔ زندگانی کا تنگ ہونا، معیشت کا تنگ ہونا کیا ہے؟ یہاں مادی زندگی نہیں، بلکہ قلب و روح کی معیشت کا سامان تنگ ہونے کی بات ہو رہی ہے۔ ظاہری مال اور اسبابِ معیشت تو غافل لوگوں کے پاس، کثرت کی خواہش میں ہلاک ہونے والوں کے پاس بکثرت ہوتے ہیں۔ ظاہری زندگی کی بات بھی ہو تو زندگی کی اصل دولت وقت ہے، اور یہاں وقت ہی بے مصرف مصروفیت میں ایسا اڑتا ہے کہ غافل آدمی تنگیِِ وقت کے ہاتھوں تنگ پڑ جاتا ہے۔ وہ زندگی کی مصروفیت کو اور تنگیِ وقت کو یادِ خدا سے غفلت کا جواز ٹھہراتا ہے، حالانکہ یہ مصروفیت وجہ نہیں، نتیجہ ہے۔ ’’میں آپ کی طرف اس لیے نہیں آ سکا کہ میں مصروف ہو گیا تھا‘‘ اس جملے کو عمودی رخ پر پڑھا جائے تو یہ اس طرح سنائی دے گا: ’’تم میری طرف نہیں آئے اس لیے تمیں مصروف کر دیا گیا‘‘۔ ہم اسباب و علل کی دنیا میں رہتے ہیں۔ اسباب کا عذر دراصل اس ستار العیوب ذات کی طرف ایک پردہ پوشی کا اہتمام ہے … ہم سمجھتے نہیں۔ ہم مصروفیت کا عذر پیش کرنے کو اپنی ہنرکاری سمجھتے ہیں، دراں حالے کہ یہ ایک خود تجویز کردہ سزا ہے۔ چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں، وگرنہ ایک ہی موسم ہمہ حال جاری رہے تو ہم نغمہِ بہار سے نا آشنا رہیں۔ زندگی موت کو اور موت زندگی کو معنویت دیتی ہے۔ ’’ذاکرون‘‘ کا متضاد لفظ ’’غافلون‘‘ ہے۔ الفاظ کی انگلی بھی تھام کر چلیں تو اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ غفلت کا ردّ ذکر ہے … اور ذکر یاد کی لفظی صورت ہے۔ یاد کا محل قلب ہے۔ خدائے زندہ کی یاد دلِ زندہ ہی میں ممکن ہے، اس لیے جس دل میں اس کی یاد ہے، اسے زندہ رکھا جاتا ہے … یہ تخلیقی اور تکوینی مجبوری ہے۔
یاد، فریاد اور تمنا … دل کو زندہ رکھنے کی تدبیریں ہیں۔ وہ دل زندہ ہے جس میں اس کی یاد ہے، یاد ذکر پر مجبور کرے گی اور ذکر دل کو مردہ ہونے سے بچائے رکھے گا۔ وہ دل زندہ ہے جس میں شعورِ فراق موجود ہے، فراق اسے فریاد پر مجبور کرے گا، یہ فریاد ایک دعا کی صورت اختیار کرے گی اور دعا میں مشغول دل، دلِ زندہ ہو گا۔ تمنائے قربِ حبیبؐ دل کو زندہ رکھے گی، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا فرمان ہے: ’’یاد کا نام درود ہے، ادب کا نام فیض ہے‘‘۔ یاد، فریاد اور تمنا … دراصل ابوابِ محبت ہیں۔ محبت کا ہر باب زندگی کی طرف کھلتا ہے … اور یہ کھلا رہے تو حیاتِ جاوداں کی جانب جاتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی اور موت کا تعلق امرِ الٰہی سے ہے … جب اس کا امر ہوتا ہے، زندگی موت میں اور موت زندگی میں داخل ہو جاتی ہے … وہ زندگی سے موت اور موت سے زندگی نکالتا رہتا ہے … وہ ہر شئے پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ دل کی زندگی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے، جس کے ہاتھ میں خیرِ کُل ہے … بیدک الخیر۔ کلی حقیقت یہی ہے۔ ہم جزوی حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں۔ ہم اسباب و علل کی دنیا میں رہتے ہیں … اور اسباب و علل کی دنیا کچھ طریقے، کچھ دائرے اور کچھ کلیے قائم کرتی ہے۔ اس دنیائے صفات سے متصف اور متصل ہونے کے باعث لازم ہے کہ ہم اسباب و علل کی زبان میں بات کریں، تاکہ اس دارالعمل میں ہم پر عمل کی سنّت ساقط نہ ہو پائے … جہاں عمل کی ضرورت ہے، وہاں تقدیر کا جواز ہمیں بے عمل نہ کرے۔
حرف و صوت، اقوالِ حکمت اور شعر و سخن … خطاطی سے لے کر نقاشی تک فنونِ لطیفہ کی کوئی بھی سرگرمی ہمارے دل کو زندہ رکھنے کی تدبیر ہوا کرتی ہے۔ زندہ لوگوں کی سنگت ہمارے دل کو زندہ رکھتی ہے۔ زندہ وہ ہے جو درد مند ہے … جو دوسروں کا درد اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ اپنی تکلیف تو ہر ذی روح محسوس کرتا ہے اور اس پر ردِ عمل بھی دیتا ہے۔ تکلیف اور درد میں یہی فرق ہے۔ دوسروں کی تکلیف محسوس کرنے کی صلاحیت کو درد کہتے ہیں۔ مردہ ہیں وہ لوگ جو صرف اپنے لیے زندگی بسر کرتے ہیں۔ دنیا دار مردہ ہے، دین دار زندہ۔ قرآن میں کافروں کو مردہ کہا گیا ہے … کہ ان کا دل مردہ ہے۔ دین دار ہونا کسی ظاہری وضع قطع پر موقوف نہیں … برائے خدا زندگی بسر کرنے والا دین دار ہوتا ہے، اور برائے خود بسر کرنے والا دنیا دار! دنیا دار کی نیکی بے لوث نہیں ہوتی، بلکہ اس کی نیکی کسی کے ردِ عمل میں یا کسی سے مقابلے کے لیے ہوتی ہے۔ اس کا عملِ خیر مخلوق کے لیے کم ہی خیر کا باعث ہوتا ہے … اس کی نیکی اس کے اپنے مزاج اور مفاد کی تکمیل کی کوئی صورت ہوا ہوتی ہے۔
بڑے بڑے بلند اقبال دل کے زندہ ہونے کی تمنا میں پائے گئے۔ ایک زندہ دل ہی سب کی زندگی کی تمنا کر سکتا ہے۔ اقبالؒ صاحبِ حال دلِ مسلم کو زندہ کرنے کے لیے محوِ دعا ہیں:
یارب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے
اور پھر سب تمناؤں کی معراج تمنا … اور اس تمنا کا اظہار کرنے والے بھی ظفریاب ٹھہرے:
دل جس سے زندہ ہے، وہ تمنّا تمہی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں، وہ دنیا تمہی تو ہو
اس محفل شہود کی رونق تمہی سے ہے
اس محمل نمود کی لیلیٰ تمہی تو ہو
دراصل یہ کائنات اسمِ محمدؐ کی تشریح ہے اور موجودات محوِ نعت ہیں … موجودات کی تمنائے حقیقی سننے کے لیے جو گوش و ہوش درکارہیں، وہ گوشِ مشتاق دلِ زندہ کے حصے میں آئے ہیں … وہ مدہوش کن ہوش قلبِ بیدار کی میراث ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں