کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہمیں نصیحت سننا پسند کیوں نہیں ہے؟ ہم کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتے جو ہر وقت ہمیں نصیحتیں کرتا رہے۔ ایسے الفاظ اکثر ہمارے دل کو نہیں بھاتے، اگرچہ کبھی کبھار ہم مروت یا لحاظ کی وجہ سے سن بھی لیتے ہیں لیکن لاشعوری طور پر ہم یہ مان لیتے ہیں کہ اس پر عمل نہیں کریں گے۔ یہ ایک عام انسانی رویہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
والدین یا بڑے بزرگ اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ انتہائی خلوص کیساتھ بچوں کو ہر وقت نصیحتیں کرتے ہیں، اور بچوں کو خود سے دور کر لیتے ہیں۔ بے شک والدین بچوں کی اصلاح چاہتے ہیں لیکن انداز مؤثر اور سائنٹیفک نہیں ہے ، جدید پیرنٹنگ کے اصولوں کے منافی ہے۔ اسی بات سے اندازہ لگا لیجئے کہ آج تک اسی طرز پر اصلاح ہو رہی اور موجودہ حالات اور نتائج آپ کے سامنے ہیں۔
اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ مسلسل نصیحت کرنے والا انسان جب اپنی باتوں پر عمل نہیں دیکھتا تو اُس کے مزاج میں تلخی آ جاتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اُس کی باتوں کا کوئی اثر نہیں، اُس کی محنت رائیگاں جا رہی ہے اور اس کی باتوں کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہی۔ یوں نصیحت کرنے والا خود بھی دل گرفتہ اور چڑچڑا ہو جاتا ہے، اور دوسروں کے دل میں اپنی جگہ کھو بیٹھتا ہے۔
نصیحت کیا ہے ؟
نصیحت کا تعلق اکثر یک طرفہ گفتگو سے ہوتا ہے۔ نصیحت کرنے والا ایک پر خلوص انسان ہو سکتا ہے، وہ اپنی سوچ، تجربے اور علم کے مطابق بات کرتا ہے لیکن وہ سننے والے کے احساسات، حالات اور جذبات کو شامل نہیں کرتا۔ اس لیے نصیحت اکثر حکم یا تنبیہ کی شکل اختیار کرلیتی ہے، جس سے سامع کے دل میں بوجھ اور مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محبت اور خیرخواہی کے باوجود لوگ نصیحت کرنے والے سے دوری اختیار کرلیتے ہیں۔نصیحت میں بعض اوقات الزام کا عنصر بھی نظر آتا ہے، شک کا عنصر بھی نظر آتا ہے اور ایسے عوامل رشتوں کو کمزور ہوتے ہیں۔ اس کے بر عکس اگر والدین بچوں کے ساتھ ڈسکس کریں تو نتائج بہتر ہو سکتے ہیں۔ والدین کو مکالمے کے ذریعے اپنی بات ، اپنا موقف بچوں تک پہنچانا ہوگا۔ مکالمے کو اپنانا ہوگا۔
مکالمہ
مکالمہ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں سننے اور بولنے کا توازن ہوتا ہے۔ مکالمے میں دوسرے کی بات کو سنا جاتا ہے، اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے اور اس کے احساسات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ انداز نہ صرف اعتماد پیدا کرتا ہے بلکہ تعلقات کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ مکالمہ دراصل احترام کا دوسرا نام ہے۔ جب آپ بچے، شاگرد، دوست یا شریکِ حیات سے مکالمہ کرتے ہیں تو آپ ان کی شخصیت کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی کی ذات یا شخصیت کو نشانہ نہیں بنا رہے ہوتے بلکہ کسی بھی مسلے پر اس کے حل کے لیے ممکنہ پہلوؤں پر بات کررہے ہوتے ہیں۔ اور اس میں سب سے اہم پہلو یہ کہ آپ دوسرے کو سنتے ہیں۔ دوسرے فریق کو سوچنے کی دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ حفظ مراتب ، موقع محل اور مخاطب کی اہلیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تبادلہ خیال دو لوگوں کے درمیان مکالمہ پیدا کرتا ہے۔
والدین اور بچوں کا تعلق
اگر والدین اپنے بچوں کے ساتھ فکری مکالمے کی عادت اپنا لیں تو یقیناً نہایت مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ بچے ضد کرنے کے بجائے پُرسکون اور بامقصد گفتگو کے ذریعے اپنی رائے پیش کریں گے۔ جب ان کی رائے کو اہمیت دی جائے گی تو وہ سچ بولنے کی طرف زیادہ مائل ہوں گے اور جھوٹ کا سہارا لینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کریں گے۔ والدین کے لیے یہ ایک ایسا مؤثر نسخہء ہے جس کے ذریعے گھریلو زندگی کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اس عمل سے بچوں میں اعتماد بڑھے گا، وہ دلیل سے بات کرنا سیکھیں گے، اپنی رائے پیش کرنے اور دوسروں کو سننے کی عادت ڈالیں گے۔ الغرض گفتگو اللہ تعالیٰ کی وہ انمول نعمت ہے جو انسان کو دوسری تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔
فی زمانہ سوشل میڈیا کا دور ہماری زندگیوں پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ یہ نہ صرف ہماری تہذیب اور معروفات میں مبالغہ آرائی پیدا کرتا ہے بلکہ ہمارے عقائد کو بھی شکوک و شبہات کی نذر کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں فکری مکالمہ اور مؤثر گفتگو کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کے دور میں یہی سب سے بڑی نیکی ہے۔
پردہ یا حجاب کیا ہے؟ شرم و حیا کی حقیقت کیا ہے؟ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ خیر و شر میں فرق کیسے کیا جائے؟ یہ سب وہ بنیادی موضوعات ہیں جن پر والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ سیر حاصل گفتگو کرنی چاہیے۔ یہ حقیقت ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم بچوں کو اس نظام کے منفی اثرات سے محض حکم یا جبر کے ذریعے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ اس کے لیے ہمیں فکری مکالمہ یعنی موثر گفتگو کو اپنانا ہوگا اور تحکمانہ نہیں بلکہ حکیمانہ انداز اختیار کرنا ہوگا۔
والدین عموماً کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ذریعے بچوں کو قابو میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے پیچھے ان کا بنیادی خوف یہ ہوتا ہے کہ کہیں ہمارے بچے بگڑ نہ جائیں یا ہم سے دور نہ ہو جائیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر بچوں کو اپنی رائے یا آزادی دی گئی تو وہ والدین کے کنٹرول سے نکل جائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچوں کو مستقل طور پر جبر کے ذریعے قابو میں نہیں رکھا جا سکتا۔ انسان فطری طور پر آزادی پسند ہے، اور جبری کنٹرول وقتی طور پر تو مان لیا جاتا ہے لیکن دیرپا نہیں ہوتا۔ اس سے بچے اندر ہی اندر بغاوت اور مزاحمت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کو سمجھانے اور قریب رکھنے کا واحد پائیدار طریقہ مکالمہ اور اعتماد پر مبنی تعلق ہے، نہ کہ جبر اور زبردستی۔
انسانی تعلقات میں نصیحت کی بجائے مکالمہ زیادہ مؤثر ہے۔ نصیحتیں اکثر دل پر بوجھ ڈالتی ہیں جبکہ مکالمہ دل کو کھول دیتا ہے۔ مکالمے سے اعتماد، قربت اور محبت بڑھتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے، شاگرد، دوست اور رشتہ دار ہماری بات مانیں اور اسے اپنائیں تو ہمیں نصیحت کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہی وہ انداز ہے جو نہ صرف رشتوں کو مضبوط کرتا ہے بلکہ سیکھنے اور سمجھنے کے دروازے بھی کھولتا ہے۔
”نصیحت کانوں میں پڑتی ہے اور اکثر گزر جاتی ہے، مگر مکالمہ دل میں اترتا ہے اور کردار بدل دیتا ہے۔”
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں