لیبر رومز اب خوف کی علامت ہیں/ڈاکٹر محمد شافع صابر

چند دن قبل سر گنگا رام ہسپتال لاہور کے مادر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (ایم اینڈ سی ایچ) بلاک جانا ہوا۔ یہ پورے پنجاب کے گائنی کے سب بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سے ایک ہے۔ یہاں رات کو بھی دن کا سماں ہوتا ہے۔
ہوا یہ کہ میں کوریڈور سے گزر رہا تھا، ایک عورت تھی (غالباً دادی) اپنے بیٹے کا ماتھا چوم رہی تھی، کیونکہ آپا چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ منڈا ہویا اے ۔ اب باقی ساتھ آئی عورتیں بھی اس آدمی کو جھپیاں ڈال کر خوش ہو رہی تھیں کہ بیٹا ہوا ہے۔ پورا خوشی کا ماحول تھا۔ لیکن اس پورے منظر میں نومولود کی ماں کہیں بھی نہیں تھی۔ وہ کیسی ہے؟ ڈلیوری ٹھیک ہوئی؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟ کوئی پیچدگی تو پیدا نہیں ہوئی؟ ماں کس حالت میں ہے؟ یہ کوئی پوچھ نہیں رہا تھا۔ سارے باپ کو یوں جھپیاں ڈال کر خوش ہو رہے تھے جیسا کوئی نوبل انعام جیت کر آیا ہو۔
کیا بیٹے کی پیدائش میں صرف باپ کا کردار ہے؟ ماں کو کوئی رول نہیں؟ جسنے اسکو نو مہینے اپنے پیٹ میں پالا، اسکا کوئی زکر ہی نہیں ۔
یہ منظر ہمارے پورے معاشرے کا بھی ہے۔ کیا ہم بیٹیوں کی پیدائش پر بھی ایسی خوشیاں مناتے ہیں۔ سوال نفی میں ہو گا۔ اگر بیٹی ہو گئی لو جی ماں کی غلطی ۔ بیٹا ہوا۔۔باپ کی وجہ سے ہوا۔ اگر اولاد کچھ نا کر پائی، ماں نے صیح پرورش نہیں کی۔ اولاد کامیاب، باپ کی وجہ سے۔
لیبر روم میں ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔مائیں دعا کر رہی ہوتی ہیں کہ بیٹا ہو، پہلے ہی تین بیٹیاں ہیں، اگر اب بھی بیٹی ہو گئی تو کہیں طلاق ہی نا ہو جائے۔ گھر والا اس لیے مارتا ہے کہ اسے بیٹا چاہیے،ساس سیدھے منہ بولتی نہیں کہ پوتا کیوں نہیں ہو رہا، نندوں کے طعنے علیحدہ ۔
آخر ایک عورت اس معاشرے میں جائے تو جائے کہاں؟؟ ہاں اگر بیٹا پیدا ہو جائے، تو ماں منظر سے غائب، کہ یہ تو ہوا ہی باپ کی وجہ سے۔۔ اگر صرف بیٹے کے لیے ہم پاکستانی اتنی تگ و دو نا کریں، ہماری آبادی کسی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ایک ڈاکٹر صاحبہ بتا رہی تھیں کہ ایک مریضہ آئی، پانچویں دفعہ حمل سے تھی، اسے بتا دیا گیا تھا کہ جب تک بیٹا پیدا نہیں ہو گا، یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔۔ آخر کس سے منصفی چاہیں؟؟؟
ہسپتالوں کے لیبر رومز اب ایک خوف کی علامت بن کر رہ گئے ہیں ۔ اب اکثر و بیشتر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جیسے ہی شوہر کو پتا چلتا ہے کہ دوبارہ بیٹی پیدا ہوئی ہے تو اُدھر لیبر روم میں ہی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور اب یہ بہت عام ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اب ہم پاکستانی،عربوں کے زمانہ جاہلیت تک پہنچ چکے ہیں، وہ بیٹی پیدا ہونے پر زندہ گاڑ دیا کرتے تھے اور اب پاکستانی مرد بیٹے کی بجائے بیٹی ہونے پر طلاق دے دیتے ہیں ۔ بیٹی پیدا ہونے پر بیوی کو طلاق دینے والا مرد آخر یہ کیوں نہیں سمجھ پاتا کہ اسکی ماں بھی ایک عورت ہے ۔
آخر پاکستان عورت جائے تو جائے کہاں؟ مردوں کے اس معاشرے میں عورت ہو کر،عورت کو جنم دینا کتنا مشکل ہے،یہ ایک عورت ہی بتا سکتی ہے اور اس کرب کا اندازہ بھی صرف ایک عورت ہی کر سکتی ہے.
پاکستانی مردوں کو چاہیئے کہ وہ جنس کے جھنجھٹ سے باہر آ کر، اپنی اولاد کی بہترین تربیت کریں تاکہ وہ بعد میں ایک کار آمد شہری بن سکیں،لیکن یہاں مرد حضرات کی انا اتنی زیادہ ہے کہ جب تک بیٹا نہیں پیدا ہو گا،انکی جھوٹی انا کی تسکین نہیں ہو گی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply