• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بلیک بیری کی جھاڑی اور موتی کی کہانی/ترجمہ و ترتیب: اشفاق احمد ایڈووکیٹ، افشاں ناصر

بلیک بیری کی جھاڑی اور موتی کی کہانی/ترجمہ و ترتیب: اشفاق احمد ایڈووکیٹ، افشاں ناصر

کہتے ہیں کہ بہت زمانہ پہلے، ایک جنگل میں ایک بلیک بیری کی جھاڑی (Singaay) اگتی تھی۔ اس جھاڑی کے پاس ایک قیمتی موتی (Maani) تھا، جو اسے بہت عزیز تھا۔
ایک دن، جھاڑی کا ہاتھ پھسلا اور وہ موتی زمین پر گر گیا۔
اسی وقت ایک چھوٹا پرندہ اُڑتا ہوا آیا۔ اس نے موتی کو دیکھا، جھپٹا مارا، اسے اپنی چونچ میں اٹھا لیا، اور وہیں بیٹھ گیا۔
جب بلیک بیری کی جھاڑی نے موتی واپس مانگا، تو پرندے نے صاف انکار کر دیا:
“میں یہ موتی نہیں دوں گا!”
جھاڑی نے غصے سے قریب اُگے ہوئے ایک نوکیلے کانٹے کو دیکھا اور پرندے کو دھمکی دی:
“کیا میں یہ کانٹا لا کر تمہارے پاؤں میں چبھو دوں؟”
پرندہ ہنسا اور بولا:
“لے آؤ! اگر ایسا کر سکتی ہو تو کر کے دکھاؤ!”
جھاڑی نے کانٹے سے کہا:
“اے کانٹے! جا کر اس پرندے کے پاؤں میں چبھ جا!”
کانٹے نے سُست آواز میں جواب دیا:
“میں چبھ چکا ہوں اور اب بیٹھ گیا ہوں!”
اور اس نے انکار کر دیا۔
پاس ہی ایک آگ جل رہی تھی۔ جھاڑی نے آگ سے کہا:
“اے آگ! جا کر اس کانٹے کو جلا دو!”
آگ نے کہا:
“میں جل جل کر تھک چکی ہوں اور اب بیٹھ گئی ہوں!”
وہ بھی انکار کر گئی۔
جھاڑی نے کہا:
“تو پھر میں پانی کو بلا لوں گی جو تمہیں بجھا دے!”
آگ نے کہا:
“ہاں، بلا لو اگر کر سکتی ہو!”
جھاڑی نے پانی سے کہا:
“اے پانی! جا کر آگ کو بجھا دو!”
پانی نے تھکی ہوئی آواز میں کہا:
“میں بجھا بجھا کر تھک چکا ہوں اور اب بیٹھ گیا ہوں!”
اس نے بھی انکار کر دیا۔
جھاڑی نے کہا:
“تو پھر میں بیل کو بلا لوں گی، وہ تمہیں پی جائے گا!”
پانی نے جواب دیا:
“ہاں، بلا لو اگر کر سکتی ہو!”
جھاڑی نے بیل سے کہا:
“اے بیل! جا کر پانی کو پی جاؤ!”
بیل نے آہ بھری اور بولا:
“میں پی پی کر تھک چکا ہوں اور اب بیٹھ گیا ہوں!”
اس نے بھی انکار کر دیا۔
جھاڑی نے کہا:
“تو پھر میں آدمی کو بلا لوں گی جو تمہیں مار ڈالے گا!”
بیل نے کہا:
“ہاں، اگر بلا سکتی ہو تو بلا لو!”
جھاڑی نے آدمی سے کہا:
“اے آدمی! جا کر بیل کو مار ڈالو!”
آدمی نے کہا:
“میں مار مار کر تھک گیا ہوں اور اب بیٹھ گیا ہوں!”
جھاڑی نے پھر کہا:
“تو پھر میں چوہیا کو بلا لوں گی، جو تمہارے جوتے چبا جائے گی!”
آدمی نے کہا:
“ہا ہا! وہ میرے چمڑے کے جوتے چبائے گی؟ بلا لو اگر کر سکتی ہو!”
جھاڑی نے چوہیا سے کہا:
“اے چوہیا! جا کر آدمی کے جوتے چبا دو!”
چوہیا نے سست لہجے میں کہا:
“میں چبا چبا کر تھک گئی ہوں اور اب بیٹھ گئی ہوں!”
جھاڑی نے کہا:
“تو پھر میں بلی کو بلا لوں گی، جو تمہیں کھا جائے گی!”
چوہیا بولی:
“ہاں، بلا لو اگر کر سکتی ہو!”
جھاڑی نے بلی سے کہا:
“اے بلی! جا کر چوہیا کو کھا جاؤ!”
بلی نے جمائی لی اور کہا:
“میں کھا کھا کر تھک گئی ہوں اور اب بیٹھ گئی ہوں!”
جھاڑی نے کہا:
“تو پھر میں عورتوں کو بلا لوں گی، جو تمہیں تنگ کریں گی!”
بلی بولی:
“ہاں، بلا لو اگر کر سکتی ہو!”
جھاڑی نے عورتوں سے کہا:
“اے عورتو! جا کر اس بلی کو تنگ کرو!”
عورتوں نے جواب دیا:
“ہم تنگ کر چکی ہیں اور اب تھک کر بیٹھ گئی ہیں!”
وہ بھی نہ مانی۔
اب جھاڑی نے آخری حربہ آزمانے کا فیصلہ کیا:
“تو پھر میں سو پہاڑوں کی ہوا کو بلا لوں گی، جو تمہاری اون اُڑا دے گی!”
عورتوں نے ہنستے ہوئے کہا:
“ہاں، بلا لو اگر کر سکتی ہو!”
جھاڑی پہاڑوں کی طرف گئی، زور سے چلّائی:
“اے سو پہاڑوں کی ہوا! آؤ اور ان عورتوں کی اون اُڑا دو!”
اتنے میں تیز آندھی چلی اور عورتوں کی اون فضا میں بکھر گئی۔
عورتیں گھبرا گئیں، اور بلی کو تنگ کرنے لگیں۔
بلی ڈر کر بھاگی اور چوہیا کو کھا گئی۔
چوہیا دوڑی اور آدمی کے جوتے چبا گئی۔
آدمی اٹھا اور بیل کو مار ڈالا۔
بیل اٹھا اور سارا پانی پی گیا۔
پانی آگ کے پاس گیا اور اُسے بجھا دیا۔
آگ کانٹے کے پاس پہنچی اور اُسے جلا دیا۔
کانٹا پرندے کے پاؤں میں چبھ گیا۔
پرندے کو درد ہوا، وہ تڑپا، اور آخرکار مجبور ہو کر بولا:
“لے لو اپنا موتی!”
اس نے موتی بلیک بیری کی جھاڑی کو واپس دے دیا۔
اخلاقی سبق:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ ظلم اور ضد کا انجام ہمیشہ اچھا نہیں ہوتا، اور وقت آنے پر سب کو اپنے کیے کا حساب دینا پڑتا ہے۔ اسی لیے عاجزی، سچائی اور دیانت داری ہی انسان کو عزت دلاتی ہے۔
نوٹ ۔ گلگت بلتستان کی اس قدیم لوک کہانی کو ایک یورپی ماہر لسانیات مصنف کلارا ایف ریڈ لوف اور مقامی لسانی سکالر شکیل احمد نے اپنی کتاب
Folktales in the Shina of Gilgit .
میں The blackberry Bush and the Pearl کے عنوان سے ریکارڈ کیا یے۔ جس کا اردو ترجمہ کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply